65

محبت کی قوس قزح

پہلی دفعہ میں نے اسے نوجوانوں کی ایک محفل میں دور سے دیکھا
وہ نہ صرف خوش شکل تھی بلکہ خوش مزاج اور خوش لباس بھی تھی
اس کے لہجے میں اپنائیت ’انداز میں جاذبیت اور شخصیت میں مقناطیسیت تھی
میں اس کی طرف کچے دھاگے سے کھنچتا چلا گیا لیکن اس سے ہمکلامی کی ہمت نہ ہوئی۔
پھر میں نے اسے کئی اور محفلوں میں دیکھا
ایک محفل میں وہ شلوار قمیص ’دوسری میں جینز اور
ٹی شرٹ اور تیسری میں ساڑھی پہنے ہوئے تھی
ایک محفل میں اس کے بال سیاہ ’دوسری میں بھورے اور تیسری میں بلونڈ تھے۔
مجھے بالکل سمجھ نہ آئی کہ وہ وہی ہے یا کہ وہ اس کی ہمزاد ہیں
آخر ایک محفل میں میں نے ہمت کر کے پوچھ ہی لیا
’آپ کا نام؟‘
اس نے میری طرف بڑے غور سے دیکھا اور دھیمے لہجے میں کہا
’محبت‘
میں نے کہا
’کیا آپ سے دوستی ہو سکتی ہے؟‘
وہ انداز دلربائی سے مسکرائی اور کہنے لگی
’ایک شرط پر‘
’وہ کیا شرط ہے؟‘
میں متجسس تھا۔
’کہیں آپ بھی دوسروں کی طرح مجھے اپنانے اور قید کرنے کی کوشش نہ کریں۔ اگر ایسا کیا تو۔ ‘
اس کی آنکھوں میں اچانک اداسی کی لہر دور گئی اور پھر وہ خاموش ہو گئی۔
’ایسا کیا تو؟‘
میں نے اس کا ادھورا جملہ دہرایا
وہ گویا ہوئی

’دراصل میں آزاد منش ہوں۔ میں تازہ ہوا کے جھونکے اور اڑتے پرندے کی طرح ہوں۔ اور آپ بخوبی جانتے ہیں کہ اگر تازہ ہوا کو کمرے میں بند کر دیا جائے تو گھٹن ہونے لگتی ہے اور اگر اڑتے پرندے کو پنجرے میں بند کر دیا جائے تو وہ اداس ہو جاتا ہے۔ ‘

’میں نہ تو آپ کو بند کروں گا اور نہ ہی پابند‘
’تو پھر دوستی ہو سکتی ہے ویسے دوستی بھی محبت کی کزن ہی تو ہے۔ ‘

ایک محفل میں وہ مجھے ملی تو اس کے ساتھ اس کی چھوٹی بہن بھی تھی جس نے ایک پھولوں والا رنگین فراک پہن رکھا تھا۔ وہ اپنی چھوٹی بہن سے بڑے پیار سے پیش آ رہی تھی۔

اس کے بالوں میں کنگھی کر رہی تھی۔ اس کی چٹیائیں بنا رہی تھی۔
میں نے پوچھا
’اس کا نام؟‘
کہنے لگی
’شفقت‘

ایک شام ملی تو اس کے ساتھ اس کی بزرگ خالہ تھیں جو قدرے نحیف و ناتواں تھیں اور ایک لاٹھی کے سہارے چل رہی تھیں۔ اس نے بڑے پیار سے اپنی خالہ کو صوفے پر بٹھایا۔ ان کی لاٹھی کو کمرے کے کونے میں رکھا اور انہیں اپنے ہاتھ سے کھانا کھلایا۔ میں نے پوچھا

’آپ کی خالہ کا نام؟‘
کہنے لگی
’عقیدت‘

ایک پارٹی میں اس نے اپنے بھائی سے تعارف کروایا جو ایک ہمدرد انسان تھا۔ میں نے اس سے گفتگو کی تو میں اس کی ذہانت اور متانت سے کافی متاثر ہوا۔ وہ اپنی بہن کی بہت حوصلہ افزائی کر رہا تھا۔ اور اس کا خیال رکھ رہا تھا۔

میں نے اس کا نام پوچھا
کہنے لگا
’اخوت‘

پھر ایک دن میں نے اسے کسی عورت سے لڑتے دیکھا
وہ سخت غصے میں تھی اور اس عورت کو بے تکی سنا رہی تھی
جب اس کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو میں نے پوچھا
’تم کس سے لڑ رہی ہو۔ یہ عورت کون ہے؟‘
کہنے لگی
’میں اس سے نفرت کرتی ہوں سخت نفرت‘
اس کا سراپا ابھی تک کانپ رہا تھا
’آخر یہ ہے کون؟ اس کا نام کیا ہے؟‘
’یہ میری سوتیلی بہن ہے اس چڑیل اس حرافہ کا نام
’منافقت‘
ہے
ایک شام وہ مجھے ایک آرٹ گیلری میں لے گئی جہاں اس کی ایک کزن ہر روز کئی گھنٹوں تک بڑی محنت سے
کبھی ڈرائنگ
کبھی پینٹنگ
اور
کبھی رقص کرتی
میں نے نام پوچھا تو کہنے لگی
’ریاضت‘

میری اس سے آخری ملاقات ایک ویکنڈ پر کوئی جب وہ مجھے ایک ایسی بستی میں لے گئی جہاں سب بیوہ عورتیں اور یتیم بچے رہتے تھے۔ اس نے میرا تعارف اپنی نانی جان سے کروایا جو ان بیوہ عورتوں اور یتیم بچوں کو کھانا کھلا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ ان کی دکھ بھری کہانیاں سن رہی تھیں۔ میں نے ان کا نام پوچھا تو کہنے لگی
’سخاوت‘

اب میں اس کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے بہت حیرت ہوتی ہے۔

اس سے ملنے سے پہلے میں اس حقیقت سے ناواقف تھا کہ محبت کے بھی قوس قزح کی طرح کئی رنگ ہوتے ہیں۔ کچھ رنگ ہلکے ہوتے ہیں کچھ شوخ۔

کچھ رنگ سب کو نظر آتے ہیں اور کچھ رنگ صرف دل والے محسوس کر سکتے ہیں۔

بشکریہ ہم سب