82

کیا اسرائیل کے زوال کا آغاز ہو چکا ہے؟

جب سے اسرائیل ’امریکہ اور ایران (تین الف سے شروع ہونے والے ممالک) کی جنگ شروع ہوئی ہے تب سے میں نے اسرائیل کے ممکنہ مستقبل کے بارے میں بہت سے بین الاقوامی صحافیوں‘ سیاسی رہنماؤں ’دانشوروں اور ماہرین سیاسیات کے بہت سے مقالے پڑھے اور مکالمے سنے۔ ان ماہرین میں سے اکثریت کی رائے یہ ہے کہ اسرائیلی ریاست کے اختتام کا آغاز ہو چکا ہے۔ مختلف ماہرین نے اپنے اپنے تخصص کے حوالے سے اس اختتام کے مختلف اہم اسباب کا اظہار کیا۔ میں اس کالم میں ان ماہرین کے خیالات و نظریات کا اختصار سے ذکر کرنا چاہتا ہوں ہو سکتا ہے آپ نے بھی میری طرح ان اسباب پر سنجیدگی سے غور نہ کیا ہو۔

اسرائیل کے زوال کا پہلا اہم سبب یہ ہے کہ اسرائیل کا زوال صیہونیت کے نظریے کے زوال سے جڑا ہوا ہے۔ چونکہ اسرائیلی ریاست کی عمارت صیہونی نظریے کی بنیاد پر استوار ہے اس لیے اگر ساری دنیا میں صیہونی نظریہ تنقید کا نشانہ بن رہا ہے تو اسرائیل کی ریاست کی عمارت بھی اس تنقید سے نہیں بچ سکتی۔

اسرائیل کے زوال کا دوسرا اہم سبب یہ ہے کہ اسرائیلی ریاست کے ڈانڈے امریکہ کی سیاست سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اسرائیل امریکہ کی معاشی معاونت اور سیاسی و عسکری حمایت کے بغیر زیادہ عرصہ تک زندہ نہیں رہ سکتا۔ ماہرین سماجیات و معاشیات و سیاسیات جانتے ہیں کہ امریکہ ہر سال اسرائیل کو چار بلین ڈالرز کی مدد کرتا رہا ہے۔ پچھلے تین سالوں کی غزہ کی جنگ میں امریکہ نے اسرائیل کی بیس بلین ڈالرز کی مدد کی۔

جب اسرائیل نے غزہ میں جنگ کا اعلان کیا تھا اس وقت بہت سے امریکی شہری اسرائیل کے حق میں تھے لیکن جوں جوں وقت گزرتا گیا امریکی شہریوں کو اندازہ ہوتا گیا کہ اسرائیل کی یہ جنگ دفاعی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ جنگ GREATER ISRAEL عظیم اسرائیل بنانے کے لیے ہے۔

اسرائیل نے جب غزہ میں ہزاروں معصوم مردوں عورتوں اور بچوں کو بموں سے قتل کر کے نسل کشی کی تو امریکی عوام خاص طور پر نوجوانوں نے نہ صرف جنگ پر تنقید کرنی شروع کی بلکہ نسل کشی کے خلاف احتجاج بھی کیے۔

دھیرے دھیرے وہ لوگ جو اسرائیل کے حق میں تھے فلسطین کے حق میں ہونے لگے۔ لوگوں نے دیکھا کہ امریکی کے سیاسی حکام اقوام متحدہ اور عالمی عدالت کے فیصلوں پر عمل کرنے سے بھی انکار کرتے رہے۔

غزہ کی جنگ اور اسرائیل کی نسل کشی کے خلاف امریکی یونیورسٹیوں کے نوجوان طلبا و طالبات نے کھل کر اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کی جس کی انہیں بھاری قیمت ادا کرنی پڑی۔

امریکہ اور اسرائیل کی ایران سے جنگ کے بعد امریکی حکومت کے چند اعلیٰ عہدیداران نے ڈونلڈ ٹرمپ سے نہ صرف کھل کر اختلاف کیا بلکہ استعفیٰ بھی دے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے مخلص مشیروں کی بات ماننے کی بجائے اسرائیلی وزیر اعظم کی بات مانی۔ ان کا کہنا ہے کہ بنجامن نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ کو اکسا اور ورغلا کر جنگ پر راضی کیا۔

امریکہ میں بسنے والے وہ یہودی جو کئی دہائیوں سے اسرائیل کی معاشی و سیاسی مدد کر رہے تھے وہ بھی غزہ کی نسل کشی کے بعد اسرائیل سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔

پچھلے دو برسوں میں امریکی عوام میں اسرائیل کی جتنی مخالفت اور فلسطین کی جتنی حمایت ہوئی ہے اتنی حمایت پچھلی دو دہائیوں میں بھی نہیں ہوئی۔

اسرائیل کے زوال کا تیسرا اہم سبب یہ ہے کہ اسرائیل کی آبادی کے پچیس فیصد شہری ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔ ان شہریوں میں وہ مرد و زن سر فہرست ہیں جن کی دوہری شہریت ہے۔ وہ اسرائیل چھوڑ کر یورپ یا شمالی امریکہ جا بسنا چاہتے ہیں۔ وہ یہ جان گئے ہیں کہ اسرائیل کا یہ دعویٰ کہ وہ دنیا بھر کے یہودیوں کے لیے محفوظ ترین جگہ ہے خام خیالی کے سوا کچھ نہیں۔ ایران کے اسرائیل پر پے بہ پے حملوں سے آئرن ڈوم جیسے حفاظتی انتظامات کی قلعی کھل گئی ہے۔ ایران کے حملوں کے بعد اسرائیل کے بہت سے شہروں کی تصویریں دیکھیں تو ان پر غزہ ہونے کا گماں ہوتا ہے۔

بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے دس لاکھ یہودی جا چکے ہیں۔ ان یہودیوں میں بہت سے ڈاکٹر ’انجینئر‘ پروفیسر ’وکیل اور بزنس مین شامل ہیں جو اپنے بچوں کو جنگ کی ہولناکیوں سے بچانا چاہتے ہیں۔ ان کے لیے دن بھر سائرن سننا‘ شیلٹرز کی طرف بھاگنا اور رات کے اندھیرے میں آسمان پر بموں کے شعلوں کی عسکری آتش بازی دیکھنا اچھا تجربہ نہیں ہے۔ اسرائیل کے وہ یہودی جن کے پاس دوہری شہریت نہیں ہے وہ بھی پاسپورٹ بنا کر نقل مکانی کرنا چاہتے ہیں۔

اسرائیل کے زوال کا پانچواں اہم سبب مختلف کاروباروں میں مندی کا رجحان ہے۔ اسرائیل میں ٹورسٹ آنا بند ہو گئے ہیں اور ساری دنیا کے شہریوں نے اسرائیل سے کاروبار کرنا کم کر دیا ہے جس کی وجہ سے اسرائیل کو سیاسی نقصان کے ساتھ ساتھ معاشی و سماجی نقصان کا بھی سامنا ہے۔

اسرائیل کے زوال کا چھٹا اہم سبب ایک داخلی تضاد و انتشار ہے۔ اسرائیل کے جمہوریت اور امن پسند عوام و خواص کو اندازہ ہو رہا ہے کہ اسرائیل کے بنیاد پرست ’دہشت پسند اور جارحیت پسند سیاسی رہنماؤں نے اسرائیل کو تباہی و بربادی کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا ہے۔ بنجامن نیتن یاہو اور اس کے مذہبی شدت پسند سیاسی رہنماؤں نے عوام و خواص کے ذہنوں میں نفرت کا اتنا زہر بھر دیا ہے کہ جب ایک جرنلسٹ نے یروشلم اور تیل ابیب کی گلیوں اور بازاروں میں چہل قدمی کرتے لوگوں سے پوچھا کہ آپ کی نگاہ میں غزہ کے فلسطینیوں کے مسئلے کا کیا حل ہے تو انہوں نے کہا

’ انہیں ختم کر دو‘
’ ان سب کو مار دو‘
’ان پر ایٹم بم گرا دو‘
’ ان سب کو افریقہ بھیج دو

اسرائیلی حکومت اور فوج نے جو جنگ حماس کی دشمنی سے شروع کی تھی وہ بڑھتے بڑھتے سب فلسطینی مردوں عورتوں اور بچوں تک پھیل چکی ہے۔

اسرائیل کے زوال کا ساتواں اہم سبب یہ ہے کہ بنجامن نیتن یاہو اور اس کے ہم خیال صیہونی سیاسی رہنماؤں کا عظیم اسرائیل کو سنہرا خواب آہستہ آہستہ خون میں رنگا ایک ڈراؤنا خواب بنتا جا رہا ہے۔

بنجامن نیتن یاہو کئی دہائیوں سے کوشش کر رہا تھا کہ وہ ایران پر حملہ کرنے میں امریکی حکومت کی مدد حاصل کرے۔ اس نے امریکی صدر بل کلنٹن ’جارج بش‘ باراک اوباما اور جو بائیڈن کو قائل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ نہ مانے آخر بنجامن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو قائل کرنے میں کامیاب ہو گیا اور دونوں نے مل کر ایران پر حملہ کیا لیکن ماہرین کو خطرہ ہے کہ کہیں وہ حملہ نیتن یاہو اور ٹرمپ کے لیے سیاسی خود کشی کا پیش خیمہ نہ بن جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ جنگ کا انجام کچھ بھی ہو نیتن یاہو نے اپنے پاؤں پر خود ہی کلہاڑی ماری ہے۔ اسرائیل نے اس جنگ میں امریکہ کو جھونک کر وہ کیا ہے جس کے بارے میں کہا جا سکتا ہے

ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے

 

بشکریہ ہم سب