ڈاکٹر محمد عمران "پیڈیاٹرک سرجن" ہیں۔ یہ پشاور کے مشہور و معروف خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں "پیڈیاٹرکس سرجری" کے "ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ" ہیں اور "ایسوسی ایٹ پروفیسر" کا درجہ رکھتے ہیں۔ بقول ان کے، انہیں اس شعبے میں کم و بیش 20 سالہ تجربہ حاصل ہے، تاہم 25 مئی 2026ء کو انہوں نے ایک ایسا "کارنامہ" سرانجام دیا، جس نے نہ صرف ان کی اہلیت اور قابلیت پر، بلکہ خیبر ٹیچنگ ہسپتال کی انتظامیہ کی غفلت پر بھی لاتعداد سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔
پشاور شہر کے رہائشی عبید اللہ خان، جو ایک کاروباری شخصیت ہیں، اپنے 12 سالہ معصوم اور ننھی کلی جیسے خوبصورت بیٹے ارحم عبید خان کو پیٹ میں تکلیف محسوس ہونے کے باعث ڈاکٹر عمران سے معائنہ کروانے لے گئے، جہاں ڈاکٹر عمران نے ان کو بتایا کہ بچے کو ہارنیا کا مسئلہ ہے اور اس کا فوری طور پر آپریشن کروانا لازمی ہے۔ ڈاکٹر عمران کی تجویز پر عبید اللہ خان نے فوری طور پر اپنے بیٹے کا پرائیویٹ آپریشن کروانے کا فیصلہ کیا اور ڈاکٹر عمران ہی کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے 24 ہزار روپے آپریشن فیس جمع کروائی، 4 ہزار روپے تک کے خون کے ٹیسٹ کروائے، 10 ہزار روپے کا آپریشن کا سامان خریدا، جبکہ اپنے بچے کیلئے پرائیویٹ کمرے کا 9 ہزار روپے الگ سے بمعہ 1 ہزار روپے داخلہ فیس کی مد میں ادا کیئے، لیکن بدلے میں انہیں ان کے معصوم بیٹے کی لاش حوالہ کر دی گئی۔
سانحے کی تفصیلات بتاتے ہوئے عبید اللہ خان نے بتایا کہ 25 مئی 2026ء کو بوقت شام 4 بجے جب میرے بیٹے ارحم عبید خان کو آپریشن کیلئے آپریشن تھیٹر میں لے جایا گیا، تو میں بھی اس کے ساتھ اندر گیا۔ ڈاکٹر عمران بذات خود وہاں موجود نہیں تھا، اس کی جگہ وہاں 3 افراد کی انیستھیزیا ٹیم موجود تھی، جن میں ایک نے میرے بیٹے کو انیستھیزیا دینا شروع کیا تو ساتھ کھڑا دوسرا بولا، "پہلے اسے نالبین انجیکشن لگاؤ، اس کے بعد انیستھیزیا دو"، تاہم انیستھیزیا دینے والے نے اپنے ساتھی کی بات نہیں سنی اور دیکھتے ہی دیکھتے میرے بیٹے کو 75 فیصد انیستھیزیا دے دیا، جس سے میرا بیٹا بے ہوش ہو گیا۔ تھوڑی دیر بعد ڈاکٹر عمران آیا اور میں آپریشن تھیٹر سے باہر آ کر انتظار کرنے لگا۔ تقریباً 30 منٹ بعد ڈاکٹر عمران آپریشن تھیٹر سے باہر آیا اور کہنے لگا کہ "میں نے آپریشن کر لیا ہے لیکن انیستھیزیا کی زیادتی کے باعث بچے کی سانس نہیں آ رہی، ہم کوشش کر رہے ہیں، آپ انتظار کریں۔" یہ کہہ کر ڈاکٹر عمران واپس چلا گیا اور ہم اگلے 3 گھنٹے تک باہر انتظار کرتے رہے۔ اس دوران آپریشن کرنے والا سارا عملہ غائب ہو گیا اور شام 7 بجے ہمیں معلوم ہوا کہ میرا بیٹا فوت ہو چکا ہے۔
قارئین کرام، یہ میری زندگی کا پہلا ایسا کالم ہے، جسے لکھتے ہوئے میری آنکھیں آنسوؤں سے بھری ہیں، ہاتھ کمزور اور ضعیف محسوس ہو رہے ہیں، دماغ کام نہیں کر رہا اور مجھ سے الفاظ کی ترتیب بن نہیں پا رہی۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ میں کیا لکھوں اور کیسے لکھوں ؟ آپ میں سے پڑھنے والے بیشتر قارئین ماشاء اللہ صاحب اولاد ہیں، آپ ایک لمحے کیلئے اندازہ کریں کہ عبید اللہ خان اور ان کے اہل خانہ پر کیا گزر رہی ہو گی ؟ اس درد اور تکلیف کے سامنے تو دنیا کے سارے پہاڑ بھی پگھل جائیں، انسان کیا چیز ہے ؟ میں موضوع کی طرف دوبارہ آتا ہوں۔ عبید اللہ خان کہتے ہیں کہ میں اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے صحیح سلامت ہسپتال لایا تھا لیکن محض چند گھنٹے بعد انہی ہاتھوں سے میں اپنے معصوم بیٹے کا مردہ جسم اٹھا کر اپنے گھر واپس آ گیا۔ عبید اللہ خان نے گفتگو کے دوران مجھے ایک چونکا دینے والی بات بھی بتائی، جسے سن کر دکھ اور تکلیف کے ساتھ ساتھ مجھ پر شدید ترین غصہ بھی غالب آ گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ جب میں اپنے بیٹے کی میت گھر لایا اور اسے کفن دفن سے پہلے غسل دینے کیلئے لے جایا گیا، تو غسل دینے والے میرے رشتہ داروں نے بتایا کہ میرے بیٹے کے جسم پر آپریشن کا کوئی نشان نہیں تھا، یعنی بچے کا آپریشن کیا ہی نہیں گیا تھا۔ اس سے صاف ظاہر تھا کہ ڈاکٹر عمران کی نااہل انیستھیزیا ٹیم نے میرے بیٹے کو بے ترتیب مقدار میں انیستھیزیا دیا تھا، جس سے اس کی موت موقع پر ہی ہو گئی تھی، ہمیں 3 گھنٹے تک بس صرف گھمایا جا رہا تھا۔
محترم قارئین، ہر قسم کے عیب اور کمزوریوں سے پاک ذات صرف ایک اللہ رب العزت کی ہے۔ بلاشبہ ہم میں سے ہر انسان کمی، کوتاہی اور کمزوریوں کا مجموعہ ہے اور یہ بھی سچ ہے کہ طب کے شعبے سمیت ہر شعبے میں کمی، کوتاہی کا ہو جانا عام معمول کی بات ہوتی ہے، تاہم اس اندوہناک واقعے کے رونما ہونے کے حوالے سے میرے دماغ میں چند سوالات گردش کر رہے ہیں، جن میں سے 3 سوالات ایسے ہیں، جن پر آپ بھی بلاشبہ مجھ سے اتفاق کریں گے۔ اول، پوری دنیا میں باقاعدہ ایک قانون ہے کہ آپریشن کرنے سے پہلے مریض کے کچھ خاص ٹیسٹ کیئے جاتے ہیں، جو یہ جاننے کیلئے بہت ضروری ہوتے ہیں کہ مریض کو آپریشن کے دوران کسی قسم کا کوئی سنگین مسئلہ پیش آنے کا کوئی امکان تو موجود نہیں ہے ؟ کیا ڈاکٹر عمران نے آپریشن سے پہلے ارحم عبید خان کے تمام ضروری ٹیسٹ کروا لیئے تھے ؟ دوم، مریض کو انیستھیزیا ہمیشہ آپریشن کرنے والے سرجن کی نگرانی میں دیا جاتا ہے۔ اگر ڈاکٹر عمران خود موجود نہیں تھے، تو انہوں نے کس قانون کے تحت اپنی نااہل انیستھیزیا ٹیم کو انیستھیزیا دینے کی اجازت دے رکھی تھی ؟ اور سوم، ہم سب جانتے ہیں کہ پاکستان میں جہاں ہر شعبے میں تعلیم کا بیڑہ غرق ہے، وہاں میڈیکل کے شعبے میں بھی آج کل مارکیٹ میں انیستھیزیا سمیت دیگر میڈیکل کورسز کا سرٹیفکیٹ چند ہزار روپے کے عوض ہر ایک کو تھما دیا جاتا ہے۔ کیا ارحم عبید خان کو انیستھیزیا دینے والی ٹیم میں کوئی ایک بھی سرٹیفائیڈ "انیستھیٹسٹ" یعنی انیستھیزیا دینے کا ماہر ڈاکٹر موجود تھا یا پھر ڈاکٹر عمران چند ہزار روپے کا انیستھیزیا کورس کرنے والے کسی عام ٹیکنیشن سے کام چلا رہے تھے ؟
آپ سب پڑھنے والے مجھ سے بہتر جانتے ہیں، پاکستان میں عام دستور ہے کہ خواہ کسی بھی مرض کا ڈاکٹر ہو، مرد ڈاکٹر ہو یا خاتون ڈاکٹر ہو، وہ ڈاکٹر کم اور قصائی زیادہ ہوتا ہے۔ ڈاکٹر کا لبادہ اوڑھ کر ہر ایک نے اپنے ہاتھ میں چھری اٹھا رکھی ہے۔ جو بھی مریض آتا ہے، اسے کاٹنے کو دوڑ پڑتے ہیں۔ آپریشن کی ضرورت ہو نہ ہو لیکن آپریشن کے بغیر کسی کو جانے نہیں دیتے اور ایکسرے، خون کے ٹیسٹ، دیگر میڈیکل ٹیسٹ، یہاں تک کے دوائیاں تجویز کرتے وقت بھی ہر ڈاکٹر اپنی "کمیشن" کا "خیال" پہلے کرتا ہے اور مریض کا خیال اسے بعد میں آتا ہے۔
عبید اللہ خان اور ان کے اہل خانہ اپنے بیٹے کی اس طرح ظالمانہ موت کو ڈاکٹر عمران کے ہاتھوں قتل قرار دے رہے ہیں اور حکومت پاکستان اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ سمیت خیبر پختونخواہ ہیلتھ کیئر کمیشن، وزیر صحت اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ اس واقعے کی فالفور اعلیٰ سطحی، صاف شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور انصاف کے تمام تقاضے پورے کیئے جائیں تاکہ تمام حقائق سامنے آسکیں، کیونکہ ارحم عبید خان صرف ایک بیٹا نہیں تھا، بلکہ اپنے والدین کیلئے زندگی کی ایک امید، ان کے خوابوں کا مرکز اور ان کی خوشیوں کا محور تھا۔ ہر صاحب اولاد شخص یہ بہت اچھی طرح سمجھ سکتا ہے کہ ایک باپ کیلئے اس طرح اچانک پلک جھپکتے اپنے بیٹے کو کھو دینا ایک ایسا زخم ہے، جو تاحیات نہیں بھر سکتا۔
قارئین کرام، میں سمجھتا ہوں کہ ایسی صورتحال میں مجھ سمیت پوری عوام الناس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم متاثرہ خاندان کے دکھ اور درد کو محسوس کرتے ہوئے ان کے موقف کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ اگر ایک والد اپنے بیٹے کی اس طرح مشکوک حالات میں موت واقع ہونے پر سوالات اٹھا رہا ہے اور انصاف کا مطالبہ کر رہا ہے، تو وہ یہ کسی ذاتی عناد یا دل میں کسی قسم کا انتقامی جذبہ موجود ہونے کی وجہ سے نہیں کر رہا۔ اول تو اس باپ کی پوری دنیا ایک ڈاکٹر اور اس کی نااہل انیستھیزیا ٹیم نے اجاڑ دی ہے، لہذا وہ انصاف چاہتا ہے، جو اس کا بنیادی اور قانونی حق ہے۔ دوم، وہ باپ چاہتا ہے کہ جس کرب، اذیت اور تکلیف سے آج وہ گزر رہا ہے، کل کو کوئی اور باپ ایسے حالات نہ دیکھے کیونکہ اگر آج اس نے ڈاکٹر عمران اور اس کی نااہل انیستھیزیا ٹیم پر پردہ ڈال دیا، تو کوئی بعید نہیں کہ کل یہ نااہل لوگ کسی اور باپ کی زندگی بھی اسی طرح اجاڑ دیں، لہذا میں بحیثیت ایک ذمہ دار پاکستانی شہری عبید اللہ خان کے مطالبے کی تائید کرتے ہوئے اس کیس سے متعلقہ تمام اداروں اور اعلٰی حکام سے پرزور مطالبہ کرتا ہوں کہ ارحم عبید خان کی مشکوک موت کی فالفور اعلیٰ سطحی آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں، تاکہ حقیقت کھل کر سب کے سامنے آ سکے اور مستقبل میں ایسے اندوہناک واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔ اللہ پاک لواحقین کو صبر جمیل عطاء فرمائے۔
وقار احمد خان۔