594

بے آب و گیاہ ریگزار آج بھی تشنہ ہیں 

کیا تھل کا بے آب و گیاہ صحرا جو صدیوں سے تشنہ ہے تشنہ ہی رہے گا؟بھکر سے تحصیل منکیرہ جو ایک بڑے ریت کے صحرا پر مشتمل ہے  لیہ کی تحصیل چوبارہ جسے مشرف دور میں پنجاب کی سب سے پسماندہ تحصیل قرار دیا گیا،بھکر کی تحصیل منکیرہ،خوشاب کی تحصیل نور پور تھل،اور مظفر گڑھ میں رنگ پور کے علاقہ کو جہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بے آب و گیاہ صحرا ہیں جہاں زندگی پانی کی بوند بوند کو ترستی ہے کو سیراب کرنے کیلئے مشرف دور ِ حکومت میں گریٹر تھل کینال کا منصوبہ بنا جس کا افتتاح سابق صدر پرویز مشرف نے 16اگست 2001کو آدھی کوٹ تحصیل نور پور تھل کے مقام پر کیا اس منصوبہ کو سات سال میں پایہ تکمیل تک پہنچایا جانا تھا جس پر چوہدری پرویز الٰہی دور ِحکومت میں ہنگامی بنیادوں پر کام شروع ہوا پہلے فیز میں مسلم لیگ ق کے دورِ حکومت میں آدھی کوٹ تا پلواں 20کلومیٹر میں نہر اور اس سے نکلنے والی چھوٹی نہریں منکیرہ برانچ،رنگ پور اور راہداری ڈسٹری بیوٹر مکمل کی گئیں اور انہیں مکمل کرنے کے بعد باقاعدہ محکمہ اریگیشن کے حوالے کیا جاچکا ہے لیکن دوسرا فیز جس کے تحت چوبارہ برانچ،ڈنگا برانچ،اور نور پور تھل برانچ مکمل کی جانی تھیں پر 20برس گزرنے کے باوجود ابھی تک نامکمل ہے جس کی بنا پر مذکورہ علاقوں کی زرعی معیشت کے استحکام کے ضامن اس اہم منصوبہ کی افادیت ختم ہو کر رہ گئی ہی سابقہ ادوار حکمرانی  جن میں جنوبی پنجاب میں مساوی فنڈز کی تقسیم کا دعویٰ کیا گیا اس بڑے منصوبہ آب کی نظر اندازی نے نہ صرف احساس محرومی کو جنم دیا  بلکہ خود ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے والی موجودہ حکومت کی کارکردگی پر ایک سوالیہ نشان ہے چوہدری پرویز الٰہی جنہوں نے اس منصوبہ پر اپنے دور اقتدار میں ہنگامی بنیادوں پر کام شروع کیا وہ اس وقت نہ صرف حکومت میں ہیں بلکہ ان کے پاس پنجاب میں ایک اہم ترین عہدہ سپیکر شپ ہے ان کیلئے بھی یہ ایک ٹسٹ کیس کی حیثیت رکھتا ہے 
جب ہم ماضی کے اوراق اٹھا کر دیکھتے ہیں تو  جنوبی پنجاب سے منتخب ہونے والے رکن صوبائی اسمبلی اور درویش صفت سیاست دان مہر فضل حسین سمراء مرحوم کا روشن کردار نظر آتا ہے جنہوں نے ہمیشہ جنوبی پنجاب کے کاشتکاروں کے پانی کے مسئلہ کو پنجاب اسمبلی میں اجاگر کیا تھل کینال اور تھل اریگیشن سسٹم پر اُنہوں نے26 فروری2003کو پنجاب کے حکمرانوں کے ضمیر کو جھنجھوڑتے ہوئے باور کرایا کہ”تھل کینال اریگیشن سسٹم ضلع خوشاب،بھکر،لیہ اور جزوی طور پر مظفر گڑھ کو سیراب کرتا ہے صرف ضلع لیہ کو 10ہزار کیوسک پانی ملنا تھا لیکن ہمیں آج تک 4ہزار کیوسک سے اوپر پانی نہیں ملا متذکرہ بالا اضلاع کے علاقہ تھل کو آب پاش کرنے کیلئے تھل کینال جاری کی گئی جس میں علاقہ تھل کی آبپاشی کیلئے کم از کم 10ہزار کیوسک پانی کی ضرورت ہے جس میں ضلع لیہ کے تھل کا حصہ 35%بنتاہے یعنی لیہ کے تھل کو3500کیوسک پانی درکار ہے جبکہ ہمیں اوسطاً1600کیوسک سے2100کیوسک پانی ملتا ہے“
مملکت خدادادپاکستان میں تین بڑے صحرا ؤں۔ تھر ٗچولستان ٗ تھل کے باسیوں کی محرومیوں کو انہوں نے اسمبلی فلور پر اجاگر کیا علاقہ تھل جو صدیوں سے ایک ویران ریگستان پر مشتمل تھا اس وسیع عریض علاقہ کی تعمیر و ترقی کی خاطر سند ھ ساگر دو آب ایکٹ 1912ء کی شکل میں ہوا۔ تھل کے زمیندار ان اور گورنمنٹ پنجاب کے مابین ایک معاہدہ طے پایا کہ حکومت وقت ایک مقررہ عرصے کے اندر تھل میں نہری نظام جاری کرنے کا بندوبست کرے گی۔اور نہری علاقہ کے زمیندار اس کے عوض اپنے رقبہ کا دو تہائی حصہ حکومت دیں گے۔مگر جنگ عظیم اوّل میں اورچند دیگر وجوہات کی بناء پر گورنمنٹ پنجاب مقررہ میعاد کے اندر نہر لانے سے قاصر رہیں حتیٰ کہ سندھ ساگر دو آب ایکٹ سال 1932 ء میں ختم ہوگیا۔پاکستان کے معرض وجود میں آنے پر پاک پنجاب گورنمنٹ کو جب مہاجرین کی آباد کاری کا مسئلہ درپیش ہوا تو اس سنگین صورتحال میں کثیر تعداد رقبہ کی ضرورت کو مد نظررکھتے ہوئے گورنمنٹ کو اس علاقہ کی طرف توجہ مبذول کرنا پڑی۔کہ کن ذرائع سے کمی رقبہ پوری کی جانی مناسب ہے چنانچہ ان حالات کے پیش نظر ٹی ڈی اے ایکٹ 1949 منظورہوا اور ایک نیم خود مختار ادارہ ٹی ڈی اے وجود میں آیا تاکہ مہاجرین کی آباد کاری کا کام جلدی نمٹایا جاسکے اور گنجان آباد اضلاع سے مہاجرین کا بوجھ کم کیا جائے۔اس پیش رفت میں گورنمنٹ پاک پنجاب نے مختلف نوٹیفکیشن ہائے کے ذریعے اور ایک فارمولے کے تحت لوکل مالکان سے ضلع لیہ میں 2لاکھ 71 ہزار 269ایکڑ رقبہ حاصل کیا۔ لوکل مالکان سے حاصل کی گئی اراضی مدت ہوئی گورنمنٹ اپنے تصرف میں لا چکی مگر تھل کے اضلاع کو آبپاش کرنے کے لیے جو تھل کینال کا وعدہ کے مطابق پانی دینے کا کہا گیا آج تک تھل کی سلگتی اور پیاسی دھرتی کے لیے ایک سراب ہے۔ اس طرح تھل کا مقدر صدیوں جو پیاس تھی۔وہ آج بھی بدستور ہے
 تھل کی پیاس صدیوں سے نہیں بجھ پائی 1970سے لیکر آج تک اس اہم مسئلہ کے تدارک کیلئے کوئی سدباب نہیں کیا

بشکریہ اردو کالمز