بدقسمتی سے وطن عزیز میں ماضی سے لیکر حال تک جب احتساب کی تاریخ کا ہم مطالعہ کرتے ہیں توزیر عتاب سیاست دان ہی نظر آتے ہیں دوستوں کے ساتھ میری اکثر یہ بحث طول پکڑتی ہے کہ سیاستدان تو ہمیشہ احتساب کے عمل سے گزرتا ہے بیوروکریٹ مبرا کیوں ہے؟
حال قریب میں دیکھ لیں وطن عزیز کے عوامی جلسوں میں سیاستدانوں پر جوتے پھینکے گئے،سیاہی پھینکی گئی،اور حد یہ ہوئی ممبران اسمبلی کو گولیاں تک ماری گئیں اور ان کی جان لے لی گئی،ٹی وی چینلز پر بیٹھا سیاست دان بھی اینکرز کے احتساب کے کٹہرے میں بیٹھا جواب دہ ہے، ماضی کا ممبر قومی اسمبلی ہو یا صوبائی اسمبلی الیکشن میں شکست کی صورت میں عوام کی عدالت میں اسے سزا ملتی ہے لیکن کرپشن کی دلدل میں دھنسی بیوروکریسی جس نے ملک کی بنیادوں میں کرپشن کا دائنا مائٹ لگا کر اس کو معاشی طور پر کنگال کیا اس کا احتساب ایک سراب نظر آتا ہے دیکھا جائے تو سیاست کو کرپشن کی راہ پر ڈالنے کا کریڈٹ بھی بیوروکریسی کو جاتا ہے 1996ء کی بات ہے میرا شہر اقتدار جانا ہوا توایک دوست کے توسط سے اسمبلی میں ہونیوالی کارگزاری کے سلسلہ میں مجھے بھی دعوت ملی اس روز ایوان زیریں کی کاروائی دیکھنے کیلئے میں گیلری میں بیٹھ گیا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایوان میں اڑھائی اڑھائی سو افراد کی دو فہرستیں پیش کیں یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے اربوں روپے قرضہ معاف کروایا تھا۔پانچ سو افراد کی اس فہرست میں صرف 16سیاستدان تھے باقی افراد بیورو کریٹس تھے جنہوں نے وطن عزیز کو جی بھر کر لوٹا،جب محترمہ بے نظیر بھٹو نے یہ فہرست پیش کی تو جاوید ہاشمی نے لقمہ دیا کہ "محترمہ لگتا ہے اب آپ کے دن تھوڑے ہیں "محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنی تقریر کے دوران ہی جاوید ہاشمی کے ریمارکس کا جواب دیا تھا کہ میں نے قومی اسمبلی میں یہ فہرست ہاشمی صاحب اس لیے پیش کی ہے تاکہ وطن عزیز کے عوام کو پتہ چل سکے کہ اس ملک کو لوٹنے والے کون ہیں؟مجھے زندگی کی پرواہ نہیں،مشرف دور میں ان افراد کی فہرست شائع ہوئی جنہوں نے این آر او سے فائدہ اٹھایا تھا ان 8041افراد میں صرف 36لوگ سیاست دان تھے باقی 8005 بیوروکریٹس تھے۔
چین میں کرپشن کے حوالے سے انتہائی سخت قوانین نافذ ہیں جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ چین کی حکمران جماعت کے انتہائی طاقتور وزیر اور شی چن پنگ کے متوقع جاں نشین ژی جون کو کرپشن کرنے پر سزائے موت سنا دی گئی، گزشتہ 14 سال کے دوران چین میں 13 لاکھ 40 ہزار لوگ کرپشن کے الزامات پر مختلف سزائیں پا چکے ہیں۔مانا کہ سیاستدانوں کے دامن پر کرپشن کے دھبے ہیں لیکن احتساب سے مبرا بیوروکریٹ کیوں ہیں؟ دنیامیں یہ کہیں نہیں ہوا کہ سیاستدان تو احتساب کے شکنجے میں آئیں اور کرپٹ بیوروکریٹ احتساب سے مبرا ٹھہریں
چین میں 2017 کے پہلے 6 ماہ میں 13 لاکھ 10 ہزار شکایات انسداد بد عنوانی کیلئے کام کرنے والے ادارے سنٹرل کمیشن آف ڈسپلن انسپکشن میں درج ہوئیں جن میں سے 2 لاکھ 10 ہزار مجرموں کو سزا سنائی گئی، سزا پانے والوں میں صرف کمزور اور چھوٹے سرکاری افسران ہی نہیں بلکہ وزارتوں اور صوبائی انتظامیہ کے 38 سینئر افسران اور پریفیکچر لیول کے ایک ہزار لوگ شامل تھے
مجھے کرپٹ بیوروکریٹس سے یہ کہنا ہے کہ انسانی زندگی خواہ اس کو کتنا ہی پرتعیش بنائیں اربوں کھربوں روپے کی ضرورت سے مشروط نہیں ہوتی۔ اربوں کھربوں کی لوٹ مار کا پیسہ صرف بینکوں کی تجوریوں کی زینت بنا رہتا ہے۔ یہ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ محض اربوں کی دولت کو اپنے قبضے میں رکھنے کی خاطر کروڑوں غریب عوام کو غربت کے صحرا میں دھکیل دیا جائے، یہ ایسا جرم ہے جو ملک سے غداری سے زیادہ سنگین ہے اور اس جرم کی سزا ملک سے غداری کرنے سے زیادہ سخت ہونی چاہیے کیونکہ حکومتوں اور حکمرانوں سے غداری، عوام سے غداری کی نسبت بہت کم سنگین ہوتی ہے۔۔ پاکستان میں اربوں کی کرپشن کی گئی، کرپشن کا تمام پیسہ عوام کی محنت کی کمائی تھا، بے چارے عوام روٹی کے محتاج ہیں اور ان کے نام پر اکٹھی کی گئی اربوں ڈالر کی رقم بد دیانت اشرافیہ اور اس کی اولاد کھا رہی ہے۔ یہ سلسلہ نیا نہیں بلکہ بہت پرانا ہے۔ مادر وطن معاشی مسائل میں گھری ہوئی ہے لیکن بیوروکریٹس کا حال یہ ہے کہ عوام کی اربوں روپوں کی رقم انتہائی بے شرمی سے کھا رہے ہیں۔یہ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ کرپٹبیوروکریسی عوام کا حق غصب کر کے بھی محترم بنی رہتی ہے پاکستان کے کرپٹ بیوروکریٹس کیلئے درج ذیل واقعات آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہیں جنہوں نے عوامی خزانے کو شیر مادر سمجھ کر لوٹا ان کا انجام کیا ہوا
گزشتہ بیس سال میں سب سے زیادہ بدنامی یوگوسلاویہ اور سربیا کے سلوبوڈون ملوزووچ کی ہوئی، دو ادوار میں صدر رہنے والے ملوزووچ پر اربوں ڈالرز کی کرپشن ثابت ہوئی، دس سال کی سزا ہوئی لیکن ایک سال بعد ہی موت واقع ہوگئی۔تیئس سال تیونس کے صدر رہنے والے زین العابدین کو اربوں ڈالرز کی کرپشن پر دس سال جیل ہوئی۔صدرسوہارتو نے اکتیس سال انڈونیشیا پر حکومت کی، کرپشن کے الزامات کے بعد اقتدار چھوڑا اور جیل کا منہ دیکھنا پڑا۔برازیل کے سابق صدر لولا ڈی سلوا کو ساڑھے نو سال قید کی سزا سنائی گئی، ان پر کنسٹرشن کمپنیوں سے کک بیکس لینے کے الزامات تھے۔کروشیا کے سابق وزیر اعظم آئیوو سنیڈر کو کرپشن پر 9 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔جنوبی کوریا کی صدرپارک گیون ہائی کا سال کرپشن پر مواخذہ ہوا اور اپریل 2018 میں کرپشن اور اختیارات کا ناجائز فائدہ اُٹھانے کے الزامات میں انھیں 24 سال کی قید اور جرمانے کی سزا سنائی گئی۔تھائی لینڈ کی وزیر اعظم ینگ لک شناواترا کرپشن میں عدالت سے پانچ سال سزاسنا ئے جانے کے بعد برطانیہ فرار ہوگئیں، ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نے 681 ملین ڈالر عوام کی بہبود کے فنڈ کے نام پر اکٹھے کیے تھے اور خود کھا گئے انجام آپ کے سامنے ہے
دولت جمع کرنے کی ہوس سرمایہ دارانہ نظام کی وہ لعنت ہے جس میں سہولت کاری کا کردار بیوروکریٹس ادا کرتے ہیں ہے یہ کوئی انہونی بات ہے نہ تعجب خیز بات بیوروکریسی کے پروردہ نظام میں کرپشن ایک ایسی بیماری ہے جس سے تقریباً تمام طبقات متاثر ہیں۔ چونکہ سرمایہ دارانہ نظام میں قانون اور انصاف اس لٹیرے طبقہ کے مددگار کا کردار ادا کرتے ہیں جس کا مشاہدہ قدم قدم پر کیا جا سکتا ہے۔ اس لیے لٹیروں کو اپنے عبرت ناک انجام کا کوئی خوف نہیں رہتا۔ اس حوالے سے یہ سوال فطری ہے کہ کرپٹ بیوروکریٹس ان اربوں روپوں کا کریں گے کیا؟
756