359

عوام کو بیدار ہونا ہوگا 

ہمیں پہلے تو یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاست کوئی بُری چیز نہیں، سیاست میں جاکر حکومتی نظام کو اچھے لوگوں کے ہاتھوں میں سونپ کر ہی شفاف معاشرہ قائم کیا جا سکتا ہے، لیکن شرفاء اور باصلاحیت افراد نے چند گندے لوگوں کو دیکھ کر سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور فاصلے بنائے رکھے جِس بنا پر سیاست ایسے افراد  کے ہاتھوں میں چلی گئیجنہوں نے عوام کے حق خود ارادیت کو یرغمال بنایا اور صاحب اقتدار بن گئے، اب ظاہر ہے ایسیافراد کے ہاتھوں میں حکومتی باگ ڈور جائے گی تو نا ہی وہ معاشرے میں امن قائم کرینگے نا ہی معاشرے کی ترقی اور بھلائی کی سوچ ان کا محور ہوگی۔
قوم کو اب تک غور و فکر کرنے کی فرصت نہیں ملی کہ سیاستدان کیسا ہونا چاہئے ان کے لیڈر میں کیا صلاحیتیں لازمی طور پر ہونی چاہئے جس سے وہ چھوٹے سے چھوٹے محلے، جماعت یا ملک کا لیڈر کہلایا جا سکے، قوم کو الیکشن ایک روزگار کا دِن نظر آتا ہے جِس میں ایک گھنٹہ لائن لگا کرپولنگ بوتھ پر ایک فرد کے نام کے آگے بنے نشان پر وہ مہر لگاتے ہیں، انہیں اب تک کسی نے نہیں بتایا کہ الیکشن میں حصہ لینے والے فرد کے انتخابی نشان جو کسی پارٹی امیدوار کو الاٹ ہوتا ہے یا وہ آزاد حیثیت سے میدان میں اترتا ہے پر مہر لگانا ہی تمہاری طاقت ہے۔ جمہوریت میں عوام کو خود منتخب کرنا ہوتا ہے کہ اس کا قائد کون ہونا چاہئے، اس کا خدمتگار، اس کے علاقے کی، سماج کی، لوگوں کی خدمت کون کرے گا، وہ کِن صلاحیتوں کا مالک ہونا چاہئے یہ سوچ  دیکھنے، سوچنے اور منتخب کرنے کا ہمیں پورا حق دیتی ہے لیکن اس سے زیادہ ذلت ورسوائی کی بات کیا ہوگی کہ  اکثر اوقات نودولتئے امیدوار  عوام کے  ضمیراور پوری قوم کا سودا کرلیتے ہیں.
نتیجے میں منتخب ہونے والے نمائندے جو ظاہر ہے کہ اپنی لاگت نکالنے کی کوشش کریں گے، وہ پوری طرح سے سودے بازی میں مصروف ہو جاتے ہیں، عوام کے ٹیکس سے حکومت اناج خرید کر عوام کو نہایت کم قیمت پر فراہم کرتی ہے جب یہ اناج آرہا ہوتا ہے تو ان کی کوالٹی راشن دوکانوں پر آتے آتے تبدیل ہو جاتی ہے، اس میں بھی کسی کو اناج ملتا ہے کسی کو نہیں ملتا، اور جن کو ملتا بھی ہے تو اس کا طے شدہ حق کا نہیں ملتا ہے، اسی طرح عوام کے ٹیکس سے حکومت کم قیمت پر دوائیں فراہم کرتی ہے، اور کئی ساری مختلف اسکیم نکالتی ہے تاکہ غریب لاچار عوام کا فائدہ ہو سکے لیکن یہ اسکیمیں، دوائیں اور سہولیات بہت کم لوگوں کو ملتی ہے اور بہت کم لوگوں کو ان سب کی معلومات ہوتی ہے، لیکن حکومت کے ریکارڈ میں برابر درج ہوتا رہتا ہے کہ دوائیں بھی جا رہی ہیں اسکیموں کا بھی فائدہ اٹھایا جارہا ہے، ظاہر ہے کہ ان ریکارڈز میں اکثر اندراجات جعلی ہونگے۔اسی طرح صفائی ٹیکس، پانی ٹیکس، روشنی ٹیکس اور ناجانے کتنے ہی ٹیکس ہم زندگی بھر مختلف چیزوں کو خریدنے کے دوران میں ادا تو کردیتے ہیں، لیکن ان کا فائدہ شاید ہی زندگی میں اٹھا پاتے ہیں، ایسے نا جانے کتنے معاملات ہیں جن کا  ہم ٹیکس دے رہے ہیں پر کھا رہا کوئی اور ہے اس کے لیے ایک الگ مضمون کی ضرورت ہوگی۔
یہ سب نا ہی ہمیں کوئی بتاتا ہے نا ہی ہم جاننے کی کوشش کرتے ہیں، جن کی ذمہ داری ہے کہ ہمارے حقوق ہمیں مہیا کرائیں وہ دور دور تک نظر نہیں آتے کتنی ہی جگہوں پر ذمہ داران ہی حرام خوری میں ملوث ہیں۔مزید ستم ظریفی یہ کہ ہمارے رہنماؤں کا جب ان سب سے دِل نہیں بھرتا، جیب میں تب بھی خالی پن محسوس ہوتا ہے تو یہ اپنی ذمہ داری کا احساس کیے بغیر پوری قوم کا سودا کرنے سے بھی نہیں چوکتے،، ان کے ہرکاروں کواپنے ان رہنماؤں کے سوا کچھ سوجھتا نہیں، اور یہ ان لوگوں کیلئے جن سے ان کے مفادات وابستہ ہوتے ہیں کے لیے گلی گلی ووٹ مانگنے چلے آتے ہیں، ان کو یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ یہ جن کے ہرکارے بنے ہوئے ہیں وہ ظاہر سے میٹھے ہو سکتے ہیں لیکن اندرعوام الناس  کے خلاف شدید نفرت کا زہر لیے پھر رہے ہیں، یہ زہر اس وقت نظر آتا ہے  جب عوام سے ووٹ لیکر ان کو بطور سیڑھی بنا کر اپنے مفادات کی جیبیں بھرتے ہیں، یہی لوگ بڑے بڑے بینرس لگا کر مٹھائیاں بانٹ کر اپنی خوشیوں کا اظہار کرتے ہیں، لیکن ہمارے دلالممبران اسمبلی  کو یہ سب نا کبھی نظر آیا ہے نا کبھی نظر آئے گا کیونکہ انہیں قوم سے کوئی ہمدردی نہیں ہے انہیں بس اپنی جیب بھر کے اپنا الو سیدھا کرنا ہے۔
لیکن اب وقت بدل رہا ہے قوم اپنے ساتھ نا انصافیوں کو دیکھ کر بیدار ہو رہی ہے، بار بار کے عوام دشمن تجربات  چکر میں وہ بیدار ہوچکے ہیں۔ اب عوام کو چاہئے کہ اپنے اپنے علاقے میں بیداری مہم شروع کرے، سنجیدہ اور باشعور افراد معاشرے کو بھی باشعور بنانے کی فکر اور عملی اقدام کریں، اور شفاف کردار، باصلاحیت افراد، قوم و ملت کا درد اور انسانیت کے حق میں کام کرنے والے لوگوں کو اپنا نمائندہ، قائد، رہنما بنائیں۔ جن افراد میں یہ صلاحیتیں موجود ہیں انہیں بھی چاہئے کہ وہ خود کو پیش کریں، کسی کا انتظار متکریں، خود آگے آئیں،انفرادی اور اجتماعی طور پر کام شروع کریں۔
عوام کو اب یہ بات خود سمجھنی اور سیکھنی ہوگی کہ موجودہ قیادت کا ان کے ساتھ کسی طرح تعلق نہیں، ان سے جان چھڑانا لازم ہوچکا ہے ورنہ ہماری اگلی نسلیں ان لٹیروں کی غلام ہو جائیں گی، اور جتنے ضمیر فروش رہنما  اور چمچے جس جس علاقے میں ہیں ان کا بائیکاٹ کرنا عوام کا فرض ٹھہرا، ان سے میل جول ختم ان کی سماجی حیثیت جب ختم ہوگی تو خود بخود ان کی رہنما گری بھی ختم ہو جائیگی۔

بشکریہ اردو کالمز