جنوبی ایشیاء کا خطہ ایسا خطہ ہے جہاں آج تک بہت سے ممالک کے باسی غربت جیسی سنگین حقیقت سے جان نہیں چھڑا سکے ان ممالک میں بھارت،پاکستان،بنگلہ دیش جیسے ممالک بھی شامل ہیں وطن عزیزپاکستان میں کثیر تعداد ایسے افراد کی بھی ہے جو ایسے پیشوں سے منسلک ہیں جس میں وہ دن رات کی محنت شاقہ کے بعد بھی اپنی خاندان کی بنیادی ضروریات پوری کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں مثلاًدرزی کا پیشہ ایسا پیشہ ہے جس میں زیادہ تر کام نظر کا ہوتا ہے اکثریت ایسے درزیوں کی ہے جو دن رات ایک کرکے کپڑوں کی سلائی میں منہمک نظر آتی ہے مگر ان کے گھر کا چولہا سرد رہتا ہے بہت سے درزی میری نظروں سے گزرے جن کے بچوں کے پاؤں سردیوں اور گرمیوں میں جوتوں سے بے نیاز ہوتے ہیں جو خود لوگوں کے پیراہن تیار کرتے ہیں لیکن ان کے اپنے تن پر اور ان کے بچوں کے تن پر پھٹا ہوا پیرہن ان کی حالت زار کی چغلی کھا رہا ہوتا ہے جو تمام دن سلائی مشین چلانے کے بعد جب گھر کو لوٹتے ہیں تو ان کو ایک وقت کا آٹا کسی چکی سے خریدنا پڑتا ہے،اسی طرح دیہی علاقوں اور قصبات میں حجام کا پیشہ بھی ایسا ہی ہے جس میں ایک حجام سارا دن کسی درخت کی چھاؤں میں میز پر شیشہ اور بال کاٹنے،شیو بنانے کے اوزار سجائے ہمہ وقت کسی گاہک کا منتظر ہوتا ہے مگر کرونا کے حالیہ لاک ڈاؤن میں یہ دونوں طبقات شدید متاثر ہوئے ہیں معاشی طور پر مذکورہ دونوں طبقات پر کرونا نے اپنے منحوس سائے ڈال انہیں کنگال کردیاہے دو وقت کی روٹی کیلئے بھی یہ لوگ ترس گئے کیونکہ یہ دونوں پیشے ایسے ہیں جن کی دن رات کی محنت تازہ اور قلیل آمدن پر مشتمل ہوتی ہے گزشتہ روز مجھے دیہی علاقہ نشیب کے ایک باسی محمد ظفر نے فون کیا کہ ماہ ِ صیام کے ہی دنوں میں ہمیں یہ امید اور آس ہوتی ہے کہ گاہکوں کے کپڑے کثیر تعداد میں آئیں گے اور ہمیں کچھ روز کیلئے روزی روٹی کی فکر سے نجات مل جائے گی میں اگر اپنے گھر کپڑے لیکر جاؤں تو میرے گھر نہ تو بجلی ہے کہ میں گھر میں سلائی مشین رکھ کر کپڑوں کی سلائی کر سکوں دوسرا میرے کچے مکان ہیں اگر بارش آجائے تو ان کی چھت برسات میں ٹپکتی ہے کرونا لاک ڈاؤن میں ہم درزیوں کو کم از کم یہ ریلیف ملنا چاہیئے تھا کہ ہم سال بھر جس روزی کی آس لئے بیٹھے ہوتے ہیں وہ تو ہمیں مل پائے لیکن پولیس کے خوف کی بنا پر ہم نے دکانیں بند کر رکھی ہیں میں شٹر گرا کر کام کر رہا ہوں مصروفیت کے ان دنوں میں ہمارے پاس کسی ایک فرد کو اپنے ہاں بٹھانے کی فرصت ہی نہیں ہوتی چہ جائیکہ کہ دکان پر کثیر افراد کی بیٹھک ہو اور ہم اپنا کام چھوڑ کر ان کے ساتھ گپیں ہانکیں میں آپ کو فون کر رہا ہوں کہ اگر مجھے پولیس اُٹھا لے تو اتنا ضرور کیجئے گا کہ حوالات سے مجھے چھڑوالیجئے گا میں نے اس کی ڈھارس بندھائی کہ تم دکان کا شٹر گرا کر اپنا کام جاری رکھو اور تم تو ویسے بھی دیہی علاقہ میں دکان بنا کر بیٹھے ہو تمہیں کوئی کچھ نہیں کہے گا اس نے میری اس ڈھارس پر دن میں چار سے زائد سوٹ سلائی کر لئے مگر اس کے اندر کا خوف اسی طرح برقرار ہے امام بخش حجام کا تعلق میرے حلقہ سے ہے اس نے بھاگل اڈہ پر بالوں کی کٹنگ اور لوگوں کی شیو بنانے کیلئے حمام بنا رکھا ہے کرونا سے ڈانواں ڈول حالات کی بنا پر اس نے اپنے بیٹے کی سکول کی پڑھائی چھڑوانے پر اکتفا کیا اس کا کہنا ہے کہ ماہ ِ صیام کے دنوں میں جب آخری عشرہ ہوتا ہے تو دیگر شہروں میں ملازمت کی غرض سے ملازمت پیشہ افراد عید کی خوشیاں اپنے پیاروں کے سنگ منانے کیلئے گھروں کو لوٹتے ہیں بال کٹوانے اور شیو بنوانے کیلئے یہ پردیسی ہماری دکان کا رخ کرتے ہیں اور انہیں گاہکوں کے ساتھ ہمارے روزی روٹی جڑی ہوتی ہے مگر کرونا کی لہر میں حالیہ لاک ڈاؤن نے ہمیں بھی اپنے پیشہ اور روزی سے محروم کردیا ہے اس بار ہم نے گندم کی کٹائی نہیں کی کہ ماہ، صیام کے آخری عشرہ میں اتنے پیسے کما لیں گے کہ گندم خرید سکیں مگر لاک ڈاؤن کی بنا پر ہمارے گھر کا چولہا سرد ہو چکا ہے ہم تازہ آٹا اور سودا سلف لیکر شام کو گھر جاتے جس سے کاروبار زندگی چلتا،زاہد دھوبی کی حالت زار بھی یہی نقشہ پیش کرتی ہے ماہ ِ صیام کے دنوں میں جمعۃ الوداع اور عید الفطر کیلئے نئے کپڑے سلوانے کے بعد اکثر لوگ دھوبی کی دکان کا رخ کرتے ہیں جبکہ مہنگائی کے اس دور میں لوگ پرانے کپڑوں کو دھوبی سے دھلوا کر پہننے پر اکتفا کرتے ہیں زاہد کا کہنا ہے کہ ہم گھر گھر جاکر لوگوں کے ان دھلے کپڑے اکٹھے کرتے ہیں اور پھر انہیں دھوکر استری لگا کر نئے نکھار کے ساتھ شاپر ز میں سجا کر گاہک کے حوالے کرتے ہیں ماہ ِ صیام کے آخری دنوں اور عید پر ہمیں یہ امید بر آتی ہے کہ زندگی کا کاروبار چلے گا بعض لوگ عید پر کپڑوں کے ساتھ عیدی بھی دے جاتے ہیں مگر لاک ڈاؤن نے ہماری امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے اور ایس او پیز کی زد میں ہمارا کاروبار بھی آیا ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ عید سعید تک ہمیں بھی عید کی خوشیوں میں شامل کیا جاتا مذکورہ بالا پیشوں کے ساتھ منسلک افراد کی حالت زار پر میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ایسے بہت سے پیشے ہوں گے جن سے وابستہ افراد کا کاروبار ٹھپ ہوکر رہ گیا اور ان کا خاندان دو وقت کی روٹی کو ترس گیا ہوگا کرونا لاک ڈاؤن کی زد سے بہت سے ایسے کاروبار مبراہیں جہاں لوگوں کا رش ہوتا ہے لیکن کرونا ایس او پیز پر عمل درآمد نہیں ہورہا ماہ ِ صیام کے آخری عشرے میں ایک درزی کے پاس بھلا فالتو وقت ہی کب ہوتا ہے کہ وہ کسی فرد کو اپنی دکان پر بٹھاکر فضول گپوں میں لگا رہے قارئین کو اس بات سے اتفاق ہوگا کہ روزہ دار کی خوشی دیدنی ہوتی ہے کہ 29کی عید ہو مگر درزی ایک ایسا پیشہ ہے جو دعائیں مانگتا ہے کہ تیس روزے ہوں وطن عزیز کی انتظامیہ سے اتنا کہنا ہے کہ وہ دھوبی، درزی اورحجام کے پیشہ سے منسلک افراد کو کم از کم آخری عشرے کے چند دن ریلیف فراہم کرے تاکہ ان کا سرد چولہا جل اُٹھے عید کے روز ان کے بچوں کے چہروں پر بھی حقیقی خوشی نظر آسکے ان افراد کی دکانیں بند کرنے کے بجائے ایس او پیز پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے یہی وقت کا تقاضہ ہے یہی وقت کی آواز ہے
299