878

ہم کہاں کھڑے ہیں؟

خوشی انسان کے اپنے اختیار کی شے ہے جس کیلئے نہ تو مشقت کرنی پڑتی ہے نہ ہی اسے بازار سے خریدنا پڑتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی چیزوں میں اسے تلاش کرنا اور چھوٹی چھوٹی باتوں پر اسے تقسیم کرنا بہت آسان ہے بشرطیکہ اس طرف توجہ دی جائے۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اس فن کو بھولتے جارہے ہیں۔
معاشرہ میں امینہ نام کی بہت سی سن رسیدہ خواتین ہیں۔ حامد نام کے بہت سے لڑکے بھی ہیں۔ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں آسانی سے مل جائیں گے مگر امینہ اور حامد کے اُس تعلق کو تلاش کرنا بہرحال مشکل ہے  جو منشی پریم چند نے ”عید گاہ“ میں بیان کیا تھا۔ 
 حامد اپنے دوستوں کے ساتھ عید گاہ جاتا ہے۔ واپسی میں اس کے تمام دوست کوئی نہ کوئی کھلونا خریدتے ہیں۔ محمود سپاہی خریدتا ہے محسن بہشتی، نوری وکیل اور سمیع خنجری۔ حامد کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ ایسا ہی کوئی کھلونا خریدے۔ دوست اس کا مذاق اُڑاتے ہیں، وہ اس مذاق کو سہتا ہے۔ کہانی آگے بڑھتی ہے اور بالآخر حامد ایک دست پناہ (چمٹا) خریدتا ہے۔ جب وہ چمٹا لے کر گھر پہنچتا ہے تو اس کی بوڑھی دادی امینہ چونک پڑتی ہے، یہ دست پناہ کہاں تھا بیٹا؟ حامد جواب دیتا ہے میں نے مول لیا ہے، تین پیسے میں۔ امینہ پریشان ہواُٹھتی ہے یہ کیسا بے سمجھ لڑکا ہے، دوپہر ہوگئی نہ کچھ کھایا نہ پیا، لایا کیا؟ یہ دست پناہ، سارے میلے میں اسے اور کوئی چیز نہ ملی۔ اس پر حامد جواب دیتا ہے اور یہی جواب کہانی کی جان ہے۔ ”تمہاری اُنگلیاں توے میں جل جاتی تھیں کہ نہیں؟“
 معاشرہ میں امینہ بھی ہے اور حامد بھی مگر کیا وہ تعلق رہ گیا ہے جو اس کہانی میں بیان کیا گیا ہے؟ شاید سوچنا پڑے گا۔ ممکن ہے یہ جذبہ و تعلق ہو مگر ازخود دکھائی اور سنائی دے جائے ایسا نہیں ہے۔ اگر یہ تعلق اور اس کا محرک بننے والا جذبہ عام ہوتا تو ایسی کہانیاں آئے دن سننے کو ملتیں۔ اب جو کہانیاں سننے کو ملتی ہیں وہ بے اعتنائی کی ہیں، بزرگوں کو بوجھ سمجھنے کی ہیں۔ حامد تین پیسے میں امینہ کیلئے ایسی روحانی مسرت خرید لایا تھا کہ آپ اسے پریم چند ہی کے الفاظ میں سنیں تو بہتر ہوگا۔ کہتے ہیں: ”اُس کے دل میں ایسا جذبہ پیدا ہوا کہ اس کے ہاتھ میں دُنیا کی بادشاہت آجائے اور وہ اسے حامد پر نثار کردے۔“ پھر یہ ہوا کہ بقول پریم چند: ”بوڑھی امینہ، ننھی سی امینہ بن گئی۔ وہ رونے لگی۔ دامن پھیلا کر حامد کو دعائیں دیتی جاتی تھی اور آنکھوں سے آنسو کی بڑی بڑی بوندیں گراتی جاتی تھی۔“ حامد نے اپنی دادی کیلئے یہ خوشی تین پیسے میں خریدی تھی، آج کے دور کے لوگوں کے پاس ہزاروں روپے ہوتے ہیں مگر وہ ایسی خوشی خرید نہیں پاتے۔ اس لئے بھی کہ کہانی میں خوشی کے پس پشت بھی کچھ ہے۔ وہ ہے امینہ کی قربانی جس میں گہرائی بھی ہے اور گیرائی بھی۔ اب نہ تو قربانی کی پہلے جیسی نوعیت دکھائی دیتی ہے نہ ہی خوشی بانٹنے کی تڑپ۔ 
 ایسے کردار، تعلق اور جذبہ اس لئے مفقود ہیں کہ دورِ حاضر کا انسان ٹیکنالوجی کے ذریعہ دُنیا جہان کی سیر کررہا ہے، گھر میں بیٹھے بیٹھے ملکوں ملکوں گھوم رہا ہے مگر آس پاس کی دُنیا سے غافل ہے۔ وہ خوشی خریدے بھی تو کیسے؟ اب معاشرہ کے کسی حامد کو کسی امینہ کا ہاتھ جلتا ہوا کہاں دکھاتی دیتا ہے۔ خوشی کوئی مصنوع یا شے نہیں ہے جو بازار سے خریدی  جائے! یہ ایسا قیمتی جذبہ ہے جو خود کو کسی عمل میں سماکر متعارف کرتا ہے۔ اس دور میں عمل تو ناپید  ہے!
 اُردو میں خوشی، مسرت، شادمانی اور ایسے تمام الفاظ عموماً ایک ہی معنی میں استعمال کئے جاتے ہیں مگر انگریزی کے دو الفاظ جو بظاہر ہم معنی ہیں کو دو الگ الگ زاویوں سے سمجھا یا جاتا ہے۔ ان میں سے ایک ہے: Happinessاور دوسرا ہے Joy۔ہیپی نیس کیلئے کہا جاتا ہے کہ یہ جذبات کی دین ہے جو عارضی، خارجی  اور ماحول کی عطا ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف ”جوائے“ ایک کیفیت کا نام ہے جو دیرپا اور باطنی ہوتی ہے چنانچہ اندر سے پھوٹتی ہے۔ دورِ جدید کا انسان ہیپی نیس تلاش کرتا ہے اور جوائے کی اہمیت اور معنویت کو سمجھ نہیں پاتا۔ اسی لئے اپنے آپ میں مگن رہتا ہے اور جب اُکتا جاتا ہے تو کسی تفریح گاہ کا رُخ کرتا ہے (ماحول کی عطا) مگر واپس آکر چند روز بعد پھر اُکتانے لگتا ہے (ہیپی نیس کا عارضی اور خارجی ہونا) اور پھر کسی تفریح گاہ کی سیر کا منصوبہ بنانے لگتا ہے  جبکہ خوشی (جوائے) کے مواقع اس کے آس پاس بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ کسی سے مل کر ہونے والی خوشی، کسی کو دیکھ کر ہونے والی خوشی، کسی کی بپتا سن کر اُس کی ڈھارس بندھانے سے ملنے والی خوشی، کسی کی مدد کرکے حاصل ہونے والی خوشی، ماں باپ کی خدمت اور اُن سے ملنے والی دُعاؤں کی خوشی،ایسا لگتا ہے کہ ہم نے بہت کچھ گنوا دیا ہے۔ اب تو ہم مسکراتے بھی کم کم ہی ہیں۔ مسکراہٹ جو آس پا س کے ماحول کو خوشگوار بناتی ہے، کہیں گم ہوگئی ہے۔ مسجد سے نکلتے ہوئے کسی کو سلام کیجئے، وہ وعلیکم السلام کہتا ہوا آگے بڑھ جاتا ہے، جیسے رُکے تو مخاطب کوئی سوال کر بیٹھے گا۔ یہ ”وعلیکم السلام“ بھی عام طور پر مسکراہٹ سے عاری ہوتا ہے۔
 ذرا سوچئے کیا مسکرانا بھی کوئی مشکل کام ہے؟ کیا اس کی کوئی قیمت  چکانی پڑتی ہے؟ کیا اس پر جرمانہ عائد ہوتا ہے؟ کیا خداوند عالم نے مسکراہٹ گن کر عطا کی ہیں کہ خبردار دُنیا میں جارہے ہو تو پچاس ساٹھ یا دو تین سو مرتبہ سے زیادہ نہ مسکرانا؟ 
 اگلے وقتوں کے بزرگ امتحان دینے کیلئے گھر سے نکلنے والے بچو ں کو کامیابی کی دُعا دیتے تھے تو بچوں کو ایسا لگتا تھا جیسے وہ آدھے پاس ہوچکے ہیں، اب اُنہیں صرف نصف کامیابی کیلئے امتحان دینا ہے۔ شاید آج کل کے بچے اس احساس سے دوچار نہیں ہوتے۔ اس سلسلے میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جیسی دُعا ویسا اُس کا اثر۔ اسی لئے اس مضمون میں پہلے بھی لکھا جاچکا ہے کہ اگر اس دور کے بچے، بچوں جیسے نہیں رہ گئے ہیں تو بزرگ بھی بزرگوں جیسے نہیں ہیں۔ ہم سب نے اپنے چہروں پر یا تو بالکل ساکت یا بڑے کرخت چہرے لگا لئے ہیں یا ہم پہلے سے طے کرچکے ہیں کہ کب مسکرانا ہے اور کب نہیں، جیسے ہمیں کوئی بار بار متنبہ کررہا ہو کہ ”خبردار مسکرانا منع ہے۔“ 
  بڑوں کو دیکھ کر چھوٹے بھی مسکراہٹوں کے معاملے میں بخیل ہوگئے ہیں۔ زندگی اتنی خشک نہیں تھی پہلے۔ دیگر ملکوں کے لوگ ہم جیسے خشک نہیں ہیں، اسی لئے اُنہیں اقوام متحدہ کے ہیپی نیس انڈیکس میں اعلیٰ مقام ملتا ہے۔ ہم پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اس انڈیکس (2020) میں ہمارا ملک156ملکوں میں 144 ویں مقام پر ہے۔
  گفتگو، پریم چند کے کردار حامد اور امینہ سے شروع ہوئی تھی۔ حامد کے ایک چھوٹے سے عمل سے امینہ اتنی خوش ہوئی کہ ”آنسو کی بڑی بڑی بوندیں گراتی جاتی تھی۔“ غور فرمائیے اب ایسی خوشی کب میسر آتی ہیں کہ آنکھ سے آنسو ٹپک پڑیں

بشکریہ اردو کالمز