انسان نے تاریخ کے ہر دور بہتر نظام زندگی کیلئے ایک تنظیم کی تمنا کی ہے. انسان نے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر کبھی خود کو خاندان کی بنیاد پہ کسی نظام میں ڈھالا، کبھی قبیلے کو تنظیم کی شکل دی، کبھی طاقت کے اظہار کے لئے وسیع علاقوں تک اپنی بادشاہت کا سکہ جاری کیا اور پھر تغیرات زمانہ کے مطابق ریاستی نظام کی مختلف صورتوں میں اپنے وجود کو پنپنے کے لیے چھوڑ دیا.
یہ بات بھی صد فیصد درست ہے کہ ہر دور میں ہر انسان کی سوچ کا اکثر حصہ مذہب سے متعلق ہی رہا ہے. کبھی اس نے مذہب کے وجود پر سوالوں کے انبار لگا دیے، کبھی اسے مذہب کی مختلف صورتوں میں موجود خدا کی ذات پہ شک ہونے لگا، کبھی اسے اپنے مذہبی نظام ناسود اور کبھی لاچار ملا. ساتھ ہی ساتھ تاریخ اس بات میں حد درجہ یقینی کیفیت کی متحمل ہے کہ ہر تھوڑے عرصے کے بعد انسانوں کی راہنمائی کے لیے کوئی نا کوئی ایسا شخص سامنے آیا کہ جس نے خود کو خدا کا نمائندہ بتایا، لوگوں میں کچھ بخوشی اس کی اقتداء میں کھڑے ہوئے اور کچھ نے اس کے مخالفت ڈٹ کر نبھائی. اور تاریخ کا کچھ حصہ ایسے لوگوں کے وجود سے مستثنیٰ بھی رہا.
دور جدید کے آغاز سے ہی کہ جب ریاستی نظام دنیا میں اپنی جڑیں مضبوط کر رہا تھا، ریاست میں مذہب کا کردار بھی ایک سوالیہ نشان بن کر ابھرا. یورپی ریاستوں میں سے اکثریت نے خود کو ان معاملات سے آزاد رکھتے ہوئے مذہب کو فرد واحد کا ذاتی مسئلہ قرار دیتے ہوئے انھیں یہ اختیار دیا کہ وہ اپنی مذہبی معاملات خود تک محدود رکھیں اور بحیثیت شہری انھیں برابر حقوق کا حقدار ٹھہرایا. لیکن یہاں زیادہ مسائل کا سامنا ان ریاستوں کو کرنا پڑا جو عہد جدیدیت کے اواخر یا ما بعد جدیدیت کے اوائل میں دنیا کے نقشے پر سلطنت عثمانیہ کے ٹوٹنے سے ابھر کر سامنے آئیں. خلافت کا تصور یا خلیفہ ایک مذہبی حیثیت کا متحمل راہنما ہوتا تھا اور خلافت خالصتا اسلام کی علمبردار ہوتی تھی. لیکن کیا یہ ممکن تھا کہ ما بعد وجود میں آنے والی ریاستیں بھی خود کو اسی طرز پر بقاہ دینے کا علم بلند کریں جبکہ یورپ کے ہاں یہ نظام قدرے مختلف تھا؟
یہاں ایک اور توجہ طلب امر اسلام میں بننے والے وہ فرقے بھی تھے جن کا اختلاف نظریاتی یا علمی تک رہنے کے بجائے سیاسی، علاقائی یا نسلی بھی بن چکا تھا. یہی وجہ تھی کہ کوئی نسلی تفاخر میں، کوئی مسلکی تعصب میں اور کوئی کسی بنیاد پر برصغیر میں یا تو پاکستان بننے کا حامی تھا اور کوئی اس سوچ کے مخالف تھا.
خیر لفظ پاکستان کو ایک وجود ملا، قائد اعظم محمد علی جناح کی 11 اگست کی تقریر بہت سے لوگوں کی نظریاتی سرحدوں پر ایٹمی حملوں کے مترادف ٹھہری اور اب اس نئی قائم کردہ ریاست میں مذہب کا کردار تو سوالیہ نشان تھا ہی مگر اگلا سوال یہ بھی تھا کہ آخر کس مسلک کے مذہب کو ریاست قبول کرے اور کس کے وجود سے گریز کرے. اس سارے معمے کا حل ہرمسلک کے کثیر پیروکاروں کی موجودگی میں ناممکن تھا. جہاں ہر مسلک کے اکابرین اگلے صفوں میں ملتے بیٹھتے، معاش کی فکر سے آزاد زندگی کی شامیں گنتے رہے وہیں لاکھوں چھوٹے علماء، سینکڑوں پیروکاروں کے لیے دائرہ حیات نا صرف تنگ رہا بلکہ حصول معاش کی فکر بھی کئی جانوں کو نگلنے کا سبب بنی اور اس طرح جان کی بازی ہارنے والے خود کو. مسلکی متعصب مذہب کا شہید تصور کرتے رہے. ان تمام حالات میں ریاست کے لیے یہ ہمیشہ ہی ناممکن رہا کہ وہ اس کثیر بے ہنگم مذہبی طبقے کو کسی تنظیم میں لائے اور فکر معاش سے آزاد ایک ایسا نظام دے کہ جہاں وہ مذہب کی تبلیغ خوش اسلوبی سے کر سکیں. مگر یہ ریاست پاکستان میں ناممکن رہا اورساتھ ہی ساتھ عوام کی اکثریت نے خود کو اس مسلکی محاذ سے محفوظ رکھنے کے لیے ایسے قدم جمائے کہ بعد ازاں ان کا وجود مذہبی حدود سے کوسوں پرے کسی لاوارث بچے کی طرح بلکتے ہوئے ملا.
یاد رہے کہ اگرچہ آپ کا تعلق کسی بھی مسلک سے ہے اور آپ کے لیے اس مسلک کے نظریات بقاہ دنیا اور آخرت کا بہترین ذریعہ بھی ہیں لیکن اس کا قطعا یہ مطلب نہیں کہ مذہب کی حدود بھی اس مسلک کی حدود تک مقید ہو چکی ہیں بلکہ اس مسلکی شناخت سے پرے بھی ایک سوچ یا نظریہ اُسی طاقت سے پنپ رہا ہے جو بھی اپنے آپ کو اسی مذہب کا نمائندہ سمجھتا ہے. کسی دوسرے مسلکی نظریے یا سوچ کو قبول کرنا ایک الگ معاملہ ہے لیکن اس کے وجود کا انکار مسائل کی وجہ بن سکتا ہے اور ایسی کوئی بھی سوچ جو مسلک میں مقید ہو، وہ مذہب کا حلیہ بگاڑ دیتی ہے اور بگڑتا حلیہ پھر آہستہ آہستہ تمام مسالک کی بگڑی کے بیڑے کو ڈوبانے میں کسی قسم کی کسر نا چھوڑے گا کیونکہ اس مذہب کے غیر لیے، آپ تمام ایک شناخت ہیں. جو ایک ہی مذہب کے مختلف رنگوں کی صورت ہے.
1278