662

میں مزدور کی اولاد

اب یہ ہاتھ کافی بوڑھے ہو چکے ہیں. اب یہ جسم بوجھ اٹھائے تو پھر اسے درد کا سامنا ہوتا ہے. اب اس پیٹ کو کبھی کھانا راس آتا ہے تو کبھی جلن کا باعث بن جاتا ہے. اب یہ شخص چاہتا ہے مگر کہتا نہیں کہ کوئی اسے کہے کہ ابا جی اب آپ گھر میں رہیں اور اب میری باری ہے اور میں آپ کو کما کر کھلاتا ہوں اور آپ کی خدمت کرتا ہوں.

میری ابتدائی تعلیم کا آغاز میرے گاؤں کے سکول کمیونٹی ماڈل سکول ارنیاں سراں سے ہوا مگر ضرورت محسوس ہونے پر والد صاحب ہمیں راولپنڈی لے آئے، جہاں کرائے کے ایک مکان میں سکونت اختیار کی اور ہمیں قریب ہی ایک پرائیویٹ سکول میں بھی داخل کروا دیا. ابا جان پیشے کے اعتبار سے دیہاڑی دار مزدور تھے. کبھی کہیں نزدیک میں کوئی کام ملتا اور کبھی شہر کے نواحی علاقوں میں کام کے لیے جاتے مگر ان کی روٹین میں چھٹی کا کوئی تصور نہیں تھا. ہم پانچوں بہن بھائیوں کی سکول فیس وقت پر دینا، سکول کی دیگر ضروریات پوری کرنا، گھر کا کرایہ، بجلی، گیس کے بل اور دیگر تمام ضروریات، ابا نا جانے کیسے پوری کرتے تھے. اور بہن بھائیوں میں بڑے ہونے کیوجہ سے بھی ان پر کئی ذمہ داریاں عائد تھی جو بھی انھیں ہر حال میں پورا کرنا تھیں اور وہ یہ سب کچھ کرتے تھے.

جب کبھی گھر کو لوٹتے تو خالی ہاتھ آنا مناسب نا سمجتے اور کوئی پھل یا کوئی بھی کھانے کی چیز لے آتے. اگر کبھی ہم کسی چیز کی قیمت پوچھتے تو مسکرا کے جواب دیتے "تم نے اس کی قیمت ادا کرنی ہے جو پوچھ رہے ہو، بس کھاو اور اللہ کا شکر ادا کرو"

میٹرک کے بعد مجھے تعلیم کے لیے لاہور ہجرت کرنا پڑی، اور والد صاحب جب کبھی فون کرتے تو جیب خرچ کا ضرور پوچھتے. بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد جب میں ایم اے میں داخلہ لینے اور فیس کے بارے میں فکر مند تھا تو والد صاحب سے فون پہ بات ہوئی اور کہنے لگے" تمارا کام پڑھنا ہے، تم داخلہ فارم لو، فیس کا انتظام بھی ہو جائے گا" اور دو دن بعد فیس میرے پاس تھی. بلکہ ایم اے ہی کے دوران جب تحقیقی کام کے لیے مجھے لیپ ٹاپ کی اشد ضرورت تھی اور میں نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار سے کام کرنے کے لیے عارضی طور پہ لیپ ٹاپ لیا.  اور جب یہ خبر والد صاحب تک پہنچی تو فورا فون کیا اور کہنے لگے" کسے کی چیز ہے، خراب ہو گئی تو کیا کرو گے، بس انتظار کرو کل تمارے پاس لیپ ٹاپ آ جائے گا" اور ابھی بات کیے 24 گھنٹے نہیں ہوئے تھے کہ چچا جان لیپ ٹاپ لے کر لاہور پہنچ چکے تھے.

میں اپنے ساری زندگی یہ سمجھنے سے قاصر رہا کہ آخر ابا جان یہ سب کیسے کرتے ہیں اور کیسے ہماری ہر ضرورت کو پورا کرتے ہیں. ایک دن یونہی بیٹھے بات چیت کے دوران فرمانے لگے "جب ایک دن کام کرنے کی اجرت صرف 25 روپے ملا کرتی تھی، میں نے تب کام شروع کیا اور تمہاری تعلیم کو ہر صورت ترجیح دی اور اب بس یہی کہ تم اپنے قدموں پہ کھڑے ہو جاؤ" میں خاموش تھا اور کچھ کہنے کو میرے پاس الفاظ نا تھے، مجھے حیرانی بھی تھی کہ میرے پاس اتنی ڈگریاں ہیں، اتنی اسناد ہیں لیکن کیا میں کبھی اپنے ابا جان سا بن پاؤں گا. آخر میں اور کب تک روٹی کہ چار حرف لیے کھڑا رہوں گا.
لیکن کئی معاملات اب بدل چکے ہیں. اب ابا جان کبھی کبھی پھل کی قیمت بتا دیتے ہیں، اب ابا جان کچھ معاملات خود ہیں مجھے بتا دیتے ہیں شاید وہ اب مجھے زندگی کی ایک تلخ حقیقت دکھانا چاہتے ہیں، شاید وہ اب ایک مزدور کے بیٹے، جو کئی یونیورسٹیوں کی سند تو اپنے پاس رکھتا ہے، اسے معاشرتی حیوان بنانا چاہتے ہیں اور اس کے رسوم و رواج سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں. اور میری اٹھارہ سالہ تعلیم مجھے وہ نا سکھا سکی جو مجھے اب میرے ابا جان سکھانا چاہتے ہیں.

بشکریہ اردو کالمز