تاریخی تناظرمیں جب اٹھارویں صدی میں Enlightenment یعنی روشن خیالی کی مومنٹ ہالینڈاور فرانس سے شروع ہوئی تو اس کے پیچھے ترجمانوں یعنی بیل،دیدور،ماں تسکو،والمبر،دولباخ وغیرہ مشہور تحریک پرپادینے والے رہنما تھے۔یہ سب راہنمائے تحریک نے آزاد خیالی ہی سے دنیا کو ایک نئےفکر سے روشناس کرائی۔ اس تحریک لانے سےسائنسی علوم کو بہت فروغ ملا،لوگ ذہنی و فکری طور پر آزاد ہوئے جس کے نتیجے میں لوگوں کو ذہنی و فکری آزادی ملی اور قوم اور معاشرے کو ترقی کے راہوں پر گامزن کئے۔ سائنس کے فروغ کے ساتھ اہل علم نے محسوس کیا کہ علوم جدیدہ کی روشنی میں ضروری ہے کہ انسانی معاشرے کی ازسرنو تشکیل کی جائے اور لوگوں کو ایسی ماحول کی فراہمی کی ضرورت ہے جس میں وہ گہری نظر سے قوم و معاشرے کی حالات،علوم میں اضافہ،ترقی کی سمت دھیان اورکائنات کا بغور مشاہدہ کرنے میں کوئی ذہنی رکاوٹ نہ ہو۔ اس طرح ہی معاشرے کی ترقی و خوشحالی کی امکانات پیدا ہوتی ہیں۔ آزاد اور ترقی یافتہ Free and well-developed society معاشرے کا سب سے اہم فائدہ یہ ہوتی ہے کہ وہاں پر انسان ذہنی وفکری سنگھرش Intellectually Struggle طور پر آزاد ہوتاہے یعنی انسان کو وہ آزادی بھی آسانی اور واضح میسر آجاتی ہے جس کے لئے انسان نے سینکڑوں سال کتب بینی،علم دوستی اور کتاب دوستی میں گزاریں یعنی آزادی بذریعہ علم۔ یہ وہ آزادی ہوتی ہے جس کے ذریعے نہ صرف انسان کی Creativity یعنی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ کردیتی بلکہ اس سےاچھے اور بلند ماہر،عالم،حکیم،محقق اور مصلح بھی پیداہوتے ہیں۔ ایک تنگ اور محدود دائرے کے اندر گھومنے والی سماج میں رائج روایات و اعمال سے مختلف نقطہ نظر رکھنے والوں کو خشمگین نگاہوں سے دیکھے جاتے ہیں۔اس کے علاوہ ان کے خلاف غیرمنطقی لسانی ہجوم کی کاوشیں بھی ہوتی ہیں۔جس کا واضح نتیجہ یہ ہوتی ہے کہ علم دوست،کتاب دوست،ترقی پسند،آزادخیال اور روشن خیال طبقے کو بالکل نظرانداز ہونے کے مترادف جیسے سلوک کا سامنا پڑے گا۔
281