تحریک انصاف والوں سےسوالات پاکستان ایک ایساملک ہے جس کے حکومتی یا انتظامی امور چلانے کے لئے قیادت دو طریقوں سے نازل ہوکر آتی ہیں ایک عوام کو غلط راہ پہ ڈالنے سے یعنی جھوٹی امید کے سہارے یا دلفریبی اور دوسرا بیرونی فورس سے، جو جمہوری نظام کو تباہیوں اور برائیوں میں پھنسانے کے مترادف ہیں۔
جن کی کئ مثالوں سے ہماری تاریخ بھری پڑی ہے انہی میں سے ایک موجودہ اور نومنتخب حکومت کی قیادت بھی ہے جو بے وزن خیالات،افکار اور وژن کی مالک اور بھاری نعروں سے ایک لیس ہجوم جیسی پارٹی ہے۔ آئیے !ان سے چندسوالات پوچھنے کی التجا کرتے ہیں اور اطمینان بخش جوابات کے منتظر رہیں گے۔ خان صاحب کی قیادت میں ایک نئے سفر کا آغاز ہوا ہے ؟ نئے سفر سے کیا مراد یا اس کی کوئی نشان اگر ہیں تو کہاں ہیں ؟
تحریک انصاف کی کونسی نئ سوچ ؟ نئ سوچ کے لئے ساری قوم کنفیوژن کا شکار ہے نئ سوچ، کونسی سوچ ؟ نئ کمٹمنٹ ؟ مزید کنفیوژن ۔۔۔۔ نیا پاکستان ؟ ایک اہم سوال جس کے جواب کے لئے سارے پاکستانی سوائے تحریک انصاف والوں سالوں سے منتظر ہیں جس کا وہ اطمنان بخش جواب دینے سے قاصرہیں۔کیا نئے پاکستان سے مراد نئ ریاست کو نئے سرے سے تشکیل دینا ہے اگر ہاں تو یہ چیز تو ممکن نہیں۔ 22 سال کی جدوجہد؟ کھلاڑیوں سمیت ایک کپ کی جیتنا 22 سال کی جدوجہد کے برابر ہوسکتے ہیں؟ 22 سال کی کیا جدوجہد ہے ؟ مختصر جواب دیجئے۔ چند بڑے دعوے جن کی امید اور توقع کے لئے ساری پاکستانی اس ہجوم(پارٹی نہیں )میں شمولیت کی راہ اختیار کرلی وہ مندرجہ ذیل ہیں۔ لوگوں کی زندگی بدلنے کی،عوامی عہدوں سے کرپشن ختم کرنے کا، اداروں میں میرٹ لانے کا،معیشت کو مضبوط کرنے کا،بھلادینے والے لوگوں کو آگے لانے کا وغیرہ وغیرہ کے دعوے کا تمام منظرنامہ ہمارے سامنے ہیں جس سے ہر باشعور اورصاحب بصیرت انسان اچھی طرح واقف ہے۔