548

محنت کشوں کی آنکھیں آج بھی روشن مستقبل کی طرف ہیں.

فلسفہ ، تاریخ اور قانون کا گہری نظر سے مطالعہ کرنا،نئ اقتصادی قوانین کی تشکیل کرنا اور بنی نوع کی طرز زندگی تبدیل کرنا اور  دنیا کو نئ خیالات وافکار سے روشناس کرانے والاشخصیت آج بھی انتہائی احترام اور سنہری الفاظ سے یاد کیا جاتا ہے۔ وہ شخصیت 5 مئ 1818 کو جرمنی کے شہر ٹریر میں ایک قانون دان ہائرخ مارکس کے گھر پیدا ہوا۔جس کا نام کارل مارکس ہے۔

معروف ناول نگار برتھولڈ آئرباخ نے اپنے 23 سالہ دوست کارل مارکس کے بارے میں موزس ہوس کو خط میں لکھا:
 " اس دور کا عظیم ترین اورواحد حقیقی فلسفی ڈاکٹر مارکس ابھی جوان ہے،اس کے ہاتھوں سے ازمنہ وسطی کے مزہب اور فرسودہ سیاسیات کا خاتمہ ہوگا۔مارکس بے حد ذہین ہے اور فلسفیانہ متانت سے بھی بہرہ ور ہے۔اس کی ذات میں روسو،والٹیر،ہولباخ،لسنگ،ہالنے اور ہیگل اکٹھے ہوگئے ہیں "۔

اس زمانے میں جب غالب طبقے نے مغلوب طبقے پر اپنا تسلط قائم رکھی تھی تو مارکس سرمایہ داروں کی جبر واستحصال سے  کسانوں،مزدوروں،لاچارووں اور ضرورت مندوں کی رہائی کی امید کی آخری کرن تھی، اس مقصد کے لئے 1848 میں کارل مارکس اور انجلز نے اپنا مشہور انقلابی منشور شائع کیا،جس میں سرمایہ داروں اور جاگیرداروں کی معاشی ہتھکنڈوں سے  چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے عالمی دنیا کے محنت کشوں کوایک ہی پلیٹ فارم پر اکھٹے ہونے کے لئے دعوت دی ، اور ایک ہی آوازہوکر یعنی 
"دنیابھر کے محنت کشو ایک ہوجاو"

اس جدوجہد میں آخر کار ایک دن مطالعہ کی کرسی پر آرام کرتے ہمیشہ کی نیند کے لئے سوگیا،
"اس کانام اور کام ہمیشہ زندہ رہیں گے "انجلز نے یہ جملہ مارکس کی قبر پر آخری خطبہ دیتے ہوئے کہا:۔

مارکس کو سمجھنے کے لئے میری نظر میں تین اہم کتابیں سامنے ہیں: " تاریخ کا نیا موڑ " علی عباس جلال پوری 
"اسلام اور سوشلزم "  مولانا وحیدخان
اورمیرے فرینڈ لسٹ میں موجود Daily Time کے ممتاز لکھاری اور میرے محترم استاد اور رول ماڈل جناب صولت ناگی صاحب 
 کی کتاب Russian Revolution  Inspired by Rosa Luxemburg  مفید کتب ہیں۔

Happy birthday# to you great Philosopher.
 

بشکریہ اردو کالمز