یہ انتہائی شرم ناک اور باعث شرمندگی ہیں کہ طلباء یونیفارم کے ساتھ اپنی جائز حقوق کے حصول کے لئے کسی سیاسی پارٹیز کے ساتھ شانہ بشانہ روڈ پر احتجاج کرنے میں مگن ہیں جو کتاب،قلم،لائبریری میں پڑھنے،ریسرچ وتحقیق کرنے،نئے دنیا کے نئے صلاحیتوں کے سیکھنےاور اپنی روشن مستقبل کی تعمیری کے بجائے حکومت کے وقت خلاف آواز بلند کررہے ہیں۔
یاد رہے یہ آوازیں نئے نسل اور حکومت کے مابین مزید مخالفت،نفرت،تعصب اور علیحدگی کے باعث بن سکتے ہیں اگر ان کے اس بنیادی مسلہ پہ ایک خاص الخاص توجہ نہیں دی گئ۔
یہ ایک عالمی اور فطری اصول ہیں کہ کسی کی ملکیت پر قبضہ گردی کرنے سے نفرتیں،تعصبات اور دشمنی پیداہوتی ہے۔اس کارشر یعنی تعلیم دشمنی پالیسی میں تمام ملوث عناصر کسی بھی محبت اوراحترام کے مستحق نہیں ہیں۔
جدید دنیا میں بطور قوم ہمیں کیا ضرورت ہیں؟
ہمیں جدید دور کے نئے علوم یعنی ریسرچ و تحقیق اور غور و فکر کرنا،نئے دنیا کے نئے صلاحیتیں سیکھنا،نئے مسائل کے نئے حل کے طلب کرنا اور نئے نسل کے لئے کچھ کرنا ہمیں ضرورت ہیں بجائے گولیاں،فائرنگ ،بارود،بندوق، جنگ وجدل،مارنا،پیٹنا،تشدد،دھمکیاں ،زمانہ وحشیانہ پن یعنی لاعلمی اور جہالت اور قبضہ گردی کے۔ابتدائی بالاذکر ضروریات یونیورسٹی ہی سے پوری کیجاسکتی ہیں۔
ہمیں کیاکرنا چاہیے؟
اپنی ملکیت کے حصول کے لئے یا آرمی کے قبضے سے واپس لینے کے لئے ہمیں ایک آواز، ایک پلیٹ فارم،متفقانہ سوچ،سیاست اور قوم پرستی سے بالاترہوکر اس آنے والے نسل کے اس اجتماعی مسلے کے حل کے لئے اپنی سیاسی،ذہنی،تحریری اور قومی جدودجہد کی ضرورت ہے تاکہ انہیں تعلیم کے حصول کے لئے ایک پرسکون اور مسائل سے فری ماحول میسر آسکے۔