جنگ کے فوائد اور نقصانات دونوں ہوتے ہیں حالیہ پاک بھارت جنگ کے بعد سیز فائر کے بعد لائن آف کنٹرول سے پیچھے ہٹنے کا بھی فیصلہ ہؤا ہے ، مگر خطرہ تو ہر وقت موجود رہتا ہے ، جنگ بندی کے بعد دوسرا اہم محاذ بپا ہے اور وہ ہے سفارت کاری پاکستان کے نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ چین کے سرکاری دورے سے اس کا آغاز کر چکے ہیں اور بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں ایک پارلیمانی کمیٹی بھی بنائی گئی ہے ، البتہ اس میں کسی کشمیری سفارت کار اور نمائندے کو بھی شامل ہونا چاہیے تھا ، دوسری طرف بھارت نے ماہر سفارت کار ، مصنف اور محقق ششی تھرور کی قیادت میں سفارت کاری شروع کی ہے دیکھیں کس کے ھاتھ کیا آتا ہے ، بھارت نے سر دست ترکیہ اور آذربائجان پر دباؤ ڈالا ہے ، جو تجارتی حجم کم اور روکنے کی طرف اشارہ ہے اس کے نتائج بھی نکلیں گے ۔
بھارت نے اتنے انتہا پسند اقدامات شروع کر دئیے ہیں کہ جو پہلے سے زیادہ بدنام ترین ثابت ہو رہے ہیں ، نتاشہ کول پر پابندی لگا کر شہریت ختم کر دی ، سیکنڑوں سکھوں اور یوٹیوبر کو گرفتار کر کے جاسوسی کا الزام عائد کر دیا ، معروف صحافیوں نے انڈین میڈیا کا جنگی حصہ بننے پر معذرت بھی کی ہے ، ایک حیران کن رد عمل مشہور شاعر اور ادیب جاوید اختر کا تھا اس نے کہا ہے کہ مجھے اگر جہنم اور پاکستان جانے کے آپشن دئیے جائیں تو میں جہنم میں جانا پسند کروں گا ، جی حضور ضرور جائیں مگر اپنے اندر سے دوغلے پن کو نکال دیں ، کبھی امن کی بات ، کبھی سیکولر ازم کا نعرہ اور کبھی انسانیت کا علمبردار ، یہ سب اکٹھا نہیں چلتا ، انتہا پسند بندوں نے شبانہ اعظمی اور آپ کو کافی مشکل وقت بھی دکھایا ہے ،
میں اکثر کہتا ہوں یہ جنگ کشمیر کے لیے اور اس کا میدان کشمیر ہے تو پھر کشمیری نمائندوں کے بغیر کیا سفارت کاری ہوگی ۔کشمیر کا حل کیا ہے ؟ وہاں 77 سال سے پسنے والوں کی منزل کہاں ہے ؟ اس کا فیصلہ کرنے کے پہلے حق دار خود کشمیری عوام ہیں کہ وہ کیا چاہتے ہیں ، جس کے لیے کسی غیر جانبدار جگہ پر مکمل مکالمہ اور کانفرنس ہونی چاہیے ، جس کے فریق سیاسی اور سماجی رہنماؤں ، حریت رہنماؤں سمیت اوورسیز کشمیری تھنک ٹینکس کا حصہ ہونا چاہیے ، اس میں ایک مستقل ایجنڈا مرتب کیا جائے جس پر دنیا کو قائل کیا جانا چاہئے ، حکومت پاکستان یہ ابتدا کر سکتی ہے ، اس جنگ کی فتح میں آسان ہے ، جوں جوں وقت گزرتا جائے گا ، سیاسی گرد میں سب کچھ دھندلا ہو جائے گا ، دوسرا بڑا مسئلہ پانی کا ہے جس کے لیے ثالثی موجود ہے ، ویسے بھی پانی کے ذخائر کشمیر کے ہیں ، اور یہ روکے نہیں جا سکتے ، ان فوری مسائل پر بھارت کو بھی سوچنے کی ضرورت ہے ، جو کاری ضرب 5 اگست 2019ء کو کشمیری پر لگائی گئی ، جو 27 اکتوبر 1948ء میں لگائی گئی ، یا جموں اور سری نگر میں شہدا کی لاشوں کے انبار لگائے گئے ، اس کا ازالہ کشمیر کی آزادی ہے ، نہیں تو بھارت خود تقسم در تقسیم ہو جائے گا ، سات ریاستیں ، ناگا لینڈ ، منی پور ، جھاڑ کھنڈ ، آسام ، بنگال اور پنجاب کے اندر بھی تحریکیں موجود ہیں ، انتہا پسندی کا انجام ٹوٹ پھوٹ ہی ہوتا ہے اس سے بنتا کچھ نہیں بگڑتا ہے ضرور ہے ، انسانوں کے حقوق کائنات کی اصل حقیقت ہے ، اس کو چھینیں گے تو خود بھی بکھر جائیں گے ۔اب جونا گڑھ اور حیدرآباد سے بھی آواز اٹھے گی ، کیا بھارت پھر رجواڑوں اور الگ ریاستوں میں بٹ جائے گا ؟ جس طرح کی انتہا پسندی چل رہی ہے لگتا ہے کہ تاریخ پھر اپنے آپ کو دہرائے گی ھم ھوں یا آپ انسانی حقوق پامال ھوں گے ، انصاف مٹ جائے گا تو الگ الگ آوازیں ، دھشت گردی ،بھوک و افلاس تو پیدا ھو گی ، کوئی روک نہیں سکے گا ۔فاتح صرف انصاف پسند ، امن پسند اور انسانی حقوق کا علمبردار ہی ہو گا یہی فطری حقیقت ہے ۔
166