مجھے جس سے نے پڑھا سنا اس کا شکریہ ،
اچھا لکھا یا برا یہ تسلسل چالیس سال سے قائم ہے ، کسی ایک بندے کو بھی فایدہ پہنچا ہو تو میری تسکین ہے ، کسی کو نقصان پہنچانے کا کبھی سوچا نہیں ، پڑھنا ، لکھنا اور بولنا جاری رہے گا مگر دل میں ، خواہش ہے کہ انسانی ارتقائی مراحل میں کچھ حصہ ڈال سکوں ، نصحیتیں اور مشورے کرنا ویسے بھی بے سود ہوتا ہے اور اب تو بالکل ہوتا جا رہا ہے ، لہذا اس سے اجتناب ہی اچھا ہے ، ایک عمل جسے بدلنا کہتے ہیں وہ ہے" آج " ہمارا آج گزرے ہوئے کل سے بہتر ہونا چاہیے ، یہی ترقی ہے وہ علمی لحاظ سے ہو ، عملی یا روحانی و اخلاقی لحاظ سے ، پہلے سے بہتر ہو تو آپ اچھے مراحل میں داخل ہو رہے ہیں ، میری کوشش ہے کہ منفی باتوں کا پرچار کم کروں یا بالکل نہ کروں ، ہمارے سماجی مسائل اتنے ہیں کہ منفی باتوں کو پھیلانے کا وقت نہیں ہے اور نہ ہی ضرورت ، البتہ اچھی خبر دینے کا ذوق ہے ، مایوسی نہیں ہے اداسی تو البتہ فطری بات ہے ، قطع نظر اس کے
"سارے جہاں کا درد میرے جگر میں " جیسی کیفیت رہتی ہے ، 2025ء کیسا گزرا آپ کے سامنے ہے ۔بس روح کے آزار تو ہیں جو بے شمار ہیں مگر شکر بجا لاتے ہیں کہ بہتر ہی گزر گیا ،
2026ء کے لیے حالیہ ایک بین الاقوامی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غزہ ، مشرق وسطی ، افریقہ اور نیٹو و روس کے تنازعات مزید بڑھ جائیں گے اسی طرح پاکستان اور انڈیا ، افغانستان میں بھی حالات اچھے ہونے کے کم ہی امکانات ہیں ، ایک سوال دنیا میں یہ بھی اُٹھایا گیا تھا کہ اب جمہوریت دنیا سے ختم ہو رہی ہیں حالانکہ یہ واحد متبادل نظام ہے جو ترقی اور انصاف کا ذریعہ بن سکتا ہے ، باقی شدت ہی پیدا ہو گی جو امن کے لیے خطرہ اور معیشت کے لئے تباہ کن ہوتی جائے گی ، سب سے بڑا خطرہ نوجوانوں کے روزگار کا ہے جو کئی سماجی اور معاشی مسائل کا باعث بن رہا ہے ، محدود پیمانے پر ایک منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس میں زراعت ، صنعت اور سیاحت ہمیں آسانی فرام کر سکتی ھے ، دنیا میں وہی قومیں حکمرانی کا حق رکھتی ہیں جو تعلیم اور ٹیکنالوجی میں آگے ہیں ، جب تک ہم اس طرف نہیں آئیں گے ، بار بار کے یوٹرن ہمیں وہیں لے آئیں گے جہاں سے چلے تھے ، دنیا کو جن بڑے خطرات کا سامنا ہے ان میں ماحولیاتی آلودگی اور تبدیلیاں ، آبادی کے مسائل ، نیوکلیئر ٹیکنالوجی اور اب فیک نیوز جیسا بڑا فیکٹر شامل ہو چکا ہے ، سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے ، اس کا ایک ہی حل ہے کہ سادہ اور آسان بات کی جائے اور اپنے آپ کے سامنے اور ضمیر کی آواز پر مطمئن رہا جائے ، مجھے سب سے بڑا درد یہ ہے کہ نوجوان نسل جو سب سے زیادہ ہے وہ شعور ، علم اور عمل سے محروم ہو رہی ہے ، اس کی امیدیں ختم ہو رہی ہیں ، کوئی بھی یہاں رہنا نہیں چاہتا ، دانشور کھل کر بات نہیں کرتے ، بلکہ دانش یرغمال ہو چکی ہے ، ہر شخص کسی شارٹ کٹ کی تلاش میں ہے ، محنت کا تسلسل اور اس کا حسن اپنا تھا وہ پامال ہو چکا ، کوئی دس فیصد لوگ امیر تر سے امیر ترین ہو چکے ، تیس فیصد بڑی مشکل محض شب و روز کی دوڑ میں بری طرح الجھے ہوئے ہیں جبکہ دس فیصد افراد صرف روٹی کما پاتے ہیں اور باقی ماندہ غربت کی لکیر سے نیچے پہنچ چکے ہیں ، خود سرکاری اعداد و شمار کہہ رہے ہیں کہ 25 لاکھ سے زائد لوگ کھیتی باڑی چھوڑ چکے ہیں ، کیا یہ خطرناک الارم نہیں ہے ؟
دنیا کیا سب سے پہلے ہم پانی کی عدم دستیابی کا شکار ہو رہے ہیں نہ جنگلات اور نہ ہی زیر زمین پانی بچا ہے جبکہ بھارت کے ساتھ پانی کا تنازعہ شدت اختیار کر چکا ہے ، دور نہ جائیں صرف کشمیر میں دیکھیں جنگل اور پانی کی سطح کہاں پہنچ چُکی ہے ، حل صرف نوجوانوں کے پاس ہے وہ متحد ہو کر اس کا حل تلاش کریں جیسے ایک اچھی خبر ہے کہ 2025ء میں کوئی 15 لاکھ سیاحوں نے کشمیر کا وزٹ کیا صرف اس انڈسٹری کو ترتیب دے دیا جائے تو کافی روزگار پیدا ھو سکتا ھے ، حکمرانوں سے لے کر عام آدمی تک ایک ہی زندگی کا حصہ بن جائیں تو ترقی چند سال کی دوری پر ہوگی ، حکمران ہوں یا سماجی رہنما میری ہمیشہ استدا رہتی ہے کہ نوجوان نسل کو سکھائیں ، ٹیکنالوجی میں لائیں اور آگے بڑھیں ، اس کے علاؤہ حل نہیں ہے ، برین گین کا ہی نہیں ، برین ڈرین کا بھی سوچیں ، جو خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے
اصل بات امن و ترقی کا گہرا رشتہ ہے ، جبکہ سب چیز معیشت سے جڑی ہیں ہم پیچھے چلتے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سماجی بندھن کی بنیاد ڈالی تو انصار و مہاجرین کو بھائی چارا عطا کیا جس سے معیشت کی بنیاد کھڑی ہو گئی ، دوسرا قدم تعلیم اور تربیت کے ذریعے اٹھایا جو پوری ریاست کے استحکام اور ترقی کا باعث بنا ، آپ یورپ کا تاریک دور دیکھیں انہوں نے علم و ٹیکنالوجی کے لئے امن ، معیشت اور معاشرت کو اہمیت دی آج دنیا کی حکمرانی ان کے پاس ہے ، جہاں سے شروع کریں ، بنیاد تعلیم اور ٹیکنالوجی ہے ، معاشی نظام میں انصاف اور حقوق اہمیت رکھتے ہیں ،
2025ء گزر گیا ، آنے والے سال بھر کی ہی منصوبہ بندی کر لی جائے تو کچھ امید پیدا ہو سکتی ہے ، عدم برداشت ہمیں کھا رہی ہے ، تنازعات گھر سے ریاستوں تک بڑھ رہے ہیں ، ایک گھر سے شروع کر لیں ، تنازعات کا حل دونوں اطراف سے ممکن ہوتا ہے وہ گھر کے ہوں یا ریاست کے ، حل بہرحال موجود ہوتا ہے وہ کہتے ہیں تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے ،
بشیر ایک دن کہہ رہا تھا ہم ترقی پذیر نہیں رہے بلکہ زوال پذیر ہیں ، اس ناامیدی سے نکلنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیا ہو سکتے ہیں ؟ ہمارا سماج سیاست زدہ ہے ، اور یہ اس وقت تک رہے گا جب تک لوگوں کے بنیادی مسائل دور نہیں ہوتے ، اس کی تگ و دو میں کیا ایک صدی اور انتطار کرنا پڑے گا ؟ یہ اب لوگوں سے نہیں ہو گا ، اس کے لیے طبقہ اشرافیہ کو ایک سمت مقرر کرنی ہوگی اور وہ ہے روزگار ، معاشی انصاف اور بنیادی حقوق ، جس کا آغاز انصاف ہے ، وگرنہ تنازعات بڑھتے جائیں گے ۔
"پیش کر غافل عمل گر کوئی دفتر میں ہے "
وہ ہے خود سے آغاز اور وہ بھی اوپر سے ، حقیقی بنیادوں پر کاسمیٹک نہیں ، خود مثال بننا ضروری ہے ، یہی فطرت کا تقاضا ہے ، یہی دین کا اور یہی دنیا مانتی ہے ۔تنازعات بہت ہماری ترجیح کیا ہے وہ واضح اور سچ ہونی چاہیے ، سوشل میڈیا مسئلہ ہے تو اس کا حل بھی سوشل میڈیا ہے ۔جدت اور روایت کو باہم امتزاج میں ڈھالنا ہو گا ۔خیر و شر ازل سے ہے ابد تک جاری رہے گی مگر ہماری ترجیح کیا ہے ؟ خیر کا ساتھ دینا یا شر کا حصہ بننا ، یہ اہم ہے ، ورنہ سال کے ہندسے ہوں یا کیلنڈر یہ بدلتے رہتے ہیں ، دنیا چلتی رہتی ہے کچھ رکتا نہیں ، انسان اپنے تئیں یہ نہ سمجھے کہ میرے بغیر کچھ نہیں چل سکتا ،
یعنی
میں بہت اہم تھا
یہی میرا وہم تھا
اس وہم کو ختم کرنا ضروری ہے ، پانی کا بہاؤ تیز ہے بند نہیں ، راستہ بنانا ہے ، پھر فصل ، اور فضل کی فروانی ہے اور برکت پیدا ہو گئی تو ترقی کوئی نہیں روک سکتا ، الوداع کہیں سال گزشتہ کو اور ترجیح بنائیں آج کو یقیناً آج بدلے گا تو کل بدل جائے گا ۔
130