گزشتہ دنوں اسلام آباد کے علاقے جی 13 میں معروف ٹک ٹاکر اور سماجی ورکر یوسف حسن کی بیٹی ثنا یوسف کو گھر آئے مہمانوں نے بے دردی سے قتل کر دیا ، ٹک ٹاکر کے فیس بک اور انسٹاگرام پر کوئی چار لاکھ سے زائد فالوورز تھے ، اس معصوم بچی کو انتہا پسندی کی نذر کر دیا گیا ، ایسے ہی چار بڑے واقعات کے علاؤہ درجنوں سانحات ہو چکے ہیں ، افسوس ناک امر ہے ، دکھ ہے ، المیہ ہے ، دونوں طرف ایک انتہا ہے اور اس انتہا نے معاشرے کو بری طرح پامال کر دیا ہے ، نہ کوئی جدت کو تسلیم کرتا ہے اور نہ قدامت کو ، اس سے بڑی بدقسمتی یہ ہے کہ اس کو اکثر و بیشتر مذھب سے جوڑ دیا جاتا ہے حالانکہ اس سے مذھب کا دور دور تک واسطہ نہیں ہے ،
آپ نے پڑھا ، سنا آخری خطبہ جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ یہ حرم ، یہ شہر سامنے ھے ، مگر قسم ھے اس ذات کی جس کے اختیار میں میری جان ہے ، یہ اتنا مقدس نہیں جتنی ایک انسان کی جان ہے ، آپ اسی سے اندازہ لگا لیں ، پھر پہلا بڑا ظلم شرک اور دوسرا قتل ہے ، میں کوئی مفتی یا عالم تو نہیں البتہ سیرت النبی یہی کہتی ہے ، دوسری چیز ایسے قتل ھمیشہ خاندانی روایات کے نام پر ہوتے ہیں ، جس میں ہائے خاندان کی ناک کٹ گئی ، میرے دوستو اس طرح سے خاندان کی ناک نہیں کٹتی البتہ قتل و غارتگری ضرور آپ کو ھمیشہ کے لئے ایک داغ لگا دیتی ہے کہ یہ خاندان شدت پسند ، قاتل اور ظالم ہے ، کیا یہ صحیح نہیں کہ اس پر بات کی جائے ، مکالمہ اور دلیل سے بچوں کو قائل کیا جائے ، چار شعبوں کو اس پر بات کرنی چاہیے ، میڈیا ، علماء و اساتذہ ، معاشرتی اصلاح کی تنظیموں کو اور حکومت کو ، اسی سے اصلاح ممکن ہے ،
دوسری طرف دنیا اب تیز رفتاری سے آگے بڑھ رہی ہے ، وہاں ٹیکنالوجی اور جدت ترقی کے زینے ہیں ، آپ اور ھم نے اپنے معاشرے میں اسے کیسے قابلِ قبول بنانا ہے اس کے لیے 2000 کے بعد پیدا ہونے والی نسل نو کی نفسیات ، ضرورت اور اہمیت کو سمجھنا ہو گا ، اس سے مکالمہ کرنا ھوگا ، چترال کی اس بچی کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ معمولی نہیں ہے اس کی تحقیقات جاری ہیں قوی امکان ہے کہ قاتل اس کے قریبی رشتہ دار ہوں گے ، مگر اس سے بڑی انتہا یہ تھی کہ کئی لوگوں نے اس اقدام کو سراہا اور خراج تحسین پیش کیا ، پختون روایات کا ذکر کر کے بھی تعریف کی ، نہ جانے کتنے سخت اور گراوٹ والے ریمارکس بھی دئیے گئے ، جس پر زیادہ افسوس ہؤا ، بے شک کچھ خاندانوں کی روایات ہوں گی جس کی قدر کرتے ہیں لیکن قتل جیسا فعل پھر بھی نہیں بنتا ، کوئی عدالت ، کوئی قانون ، کوئی اخلاق ، کوئی مذھب اور کوئی معاشرہ جان لینے کو درست نہیں کہہ سکتا ، چترال کے لوگ پڑھے لکھے اور باشعور ہیں ، وہ دوسرے پختون علاقوں سے بھی قدرے مختلف ہیں ، وہاں مذھبی اور جدت پسند شعور بھی ھے ، پھر اس طرح کا واقعہ افسوس ناک ہے ،
نوجوان سوشل میڈیا پر فین ، فالورز اور جلد شہرت کے لیے غیر معمولی حد تک آگے جا چکے ہیں ، انہیں بھی اس کے مثبت استعمال کے لیے بات کرنی چاہیے ، بے شمار طریقے ایسے ہیں جو بروئے کار لائے جا سکتے ہیں مثلاً حکومتی سطح پر کوئی مکالمہ سینٹر ہر شہر میں بنائے جا سکتے ہیں ، سکولوں ، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں اساتذہ ، طلباء اور والدین کے فورم تشکیل دئیے جا سکتے ہیں ، مساجد اور مدارس میں ایک یونیفارم اسٹڈی سینٹر بنانے کی گنجائش ہے ، اس کے علاؤہ سماجی بھلائی کی تنظیمیں اس کا اہتمام کر سکتی ہیں جہاں وسٹرن اننٹرسٹ نہیں بلکہ صرف تم سے بہتر وہ ہے جو دوسروں کے لیے مفید ہے کہ اصول پر بنائے جائیں ، کوئی سیاسی ، فرقہ وارانہ اور گروہی مقصد رکھیں گے تو معاشرہ دوسری طرف نکل جائے گا ۔سمجھانے کی بجائے سمجھنے کی ضرورت ہے ، جوانی کے آگے بندھ باندھنے کی بجائے فطری اور نفسیاتی تجزیہ کر کے آگے بڑھا جائے تو بہترین نتائج ہوں گے ، پھر سوشل میڈیا کا استعمال زیادہ تر مثبت ہو سکتا ہے ، یہاں تو قدم قدم پر بلیک میلر بیٹھے ہوئے ہیں یہاں تک کہ اعلی تعلیمی اداروں میں بھی نمبروں کے نام پر بلیک میل کیا جاتا ہے اور خصوصاً بچیوں کی تعلیم اور زندگی اجیرن کر دی گئی ہے ، اموشنل بلیک میلنگ اس سے بھی زیادہ خطرناک ہے ، معاشرہ جس طرف جا رہا ہے کسی صاحب طاقت کو اس کا احساس نہیں ، اصول انصاف کی بنیاد پر ہی تشکیل پا سکتے ہیں ، جلد یا بدیر اس کا احساس ہو جائے تو توازن قائم ہو سکتا ہے ، انسانی زندگی کے ارتقائی مراحل ہوتے ہیں اس کے مطابق روایات کو بھی دیکھنا چائیے ، پہلی اس معاشرے کی روایت کے مطابق لڑکی یا لڑکے سے پوچھے بغیر شادی طے ہو جاتی تھی ، کیا اب اس روایت کو زندہ رکھا جا سکتا ہے ؟ اگر جواب نہیں میں ہے تو پھر روایتوں کے نام پر قتل و غارتگری کب تک ہو گی ؟
ثنا یوسف کی زندگی کتنی تھی ، کیا اس نے کرنا تھا؟ ، اس کا اختیار آپ کو نہیں ہے کہ آپ اسے مار دیں ، اس طرح تو کوئی باؤلے کتے کو بھی نہیں مارتا ، درخت کی ٹہنی نہیں کاٹتا ، آپ بندے کاٹ رہے ہیں ، دل کو روئیں یا پیٹں جگر کو ، کب تک کف افسوس ملتے رہیں گے ؟ کیا آپ نے سیرت النبی کا مطالعہ کیا ، کیا عرب و عجم میں بدلتے حالات کو دیکھا ، قرآن و اخلاقی تعلیم کو پرکھا ، کیا آپ نے ، ھم نے انسانوں کی اہمیت اور فضیلت کو جانا ہے ، جان و عزت کی کسی قیمت سے واقف ہیں ؟سوال کریں اپنے آپ سے ، جنتوں کے خواب میں زندگی کی حقیقت کو نہ بھول جائیں ، دنیا بھی حقیقت اور آخرت بھی حقیقت ہے اسے خواب نہ سمجھیں ، آج ثنا یوسف گ جیئی تو کل آپ کی باری ہے جہاں آپ سے ایک کیڑے مکوڑے کا بھی سوال ہوگا ، انتہا ادھر کی ہو یا ادھر کی دونوں خطرناک ہیں ، اس خطرے کو بھانپیں ، آگے بڑھیں ، دنیا کو جنت کا گہوارہ بنا سکتے ہیں ، جہاں جینے کا حق ہو جہاں جیو اور جینے دو کی پالیسی ہو ، جہاں امن و انصاف ہو ، زیادہ مشکل نہیں ہے بس انسان بننا ہوتا ہے ، حیوانیت لوگوں کی اپنی سب فصیلیں کھا جاتی ہے ، کچھ نہیں بچتا ، صرف انسانیت معاشروں کو بچا سکتی ہے ۔یہ نوحے اور مرثیے کب تک لکھیں گے ، اب عمل کی طرف آئیں جہاں استقامت کے ساتھ آگے بڑھنا ہے
163