اسرائیل کے ایران پر حملہ کرنے کا ارادہ آج سے نہیں روز اول سے ہے ، اور مقاصد بھی واضع طور پر سمجھے جا سکتے ہیں ، سب سے بڑا مقصد ایران کو جوہری ہتھیاروں اور آلات سے دور رکھنا ، جس میں امریکہ سمیت ان کے اتحادیوں نے سر توڑ کوشش کی ، معاشی پابندیاں لگائیں ، دباؤ ڈالا ، انٹرنیشنل ایٹمی ایجنسی کے معائنے ہوئے ، ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے بھی مگر ، ایران نے کسی نا کسی سطح پر اپنے دفاع کے لیے جوہری تنصیبات پر کام جاری رکھا ، یہاں تک کہ کئی پہاڑوں میں سرنگیں کھود کر بھی اس نے یہ سلسلہ جاری رکھا ، مسلم ممالک کا سب سے بڑا المیہ مسلکی اور گروہی بالادستی رہا ہے اس لیے کبھی اتحاد یا آپس کی جنگیں ہی ختم نہیں ہوئیں ، یہی حال ایران کا تھا ایران نے سعودی عرب اور سعودی عرب نے ایران کی مخالفت میں بہت کچھ کیا اور اپنی توانائیاں ضائع کر دی ہیں ، اسی کوشش میں ایران نے شام ، لبنان ، یمن اور فلسطین میں جو پراکسی گروپ بنائے ، اسرائیل نے گزشتہ سال سے ان کو مکمل تو نہیں لیکن اسی فیصد تباہ کر دیا ، حزب اللہ ، حماس ، حوثی اب زیادہ مضبوط پوزیشن میں نہیں ہیں ، کہ وہ کھل کر اسرائیل کے خلاف لڑ سکیں ، سعودی عرب نے اپنی دولت سے امریکہ سمیت کئی بڑے ممالک کو اپنا ہمنوا بنا لیا ، اب عملی طور پر دیکھیں تو شام ، لبنان ، اردن ، مصر ، عرب ریاستوں بحرین ، قطر ، عرب امارات ، اور کویت میں امریکہ کے اڈے ، عمل داری اور زمینی و فضائی کنٹرول ہے ، اس لئے ایران کو فضائی حملوں کے بچاؤ سے بہت نقصان پہنچا ، اس کے جوہری تنصیبات کو پورا تو نہیں البتہ یہکافی نقصان پہنچ چکا ہے ،
دوسرا بڑا مقصد اسرائیل کا ایران میں رجیم چینج کا رہا ہے وہ بھی آج سے نہیں ہے بلکہ شروع سے وہ رضا شاہ پہلوی کے دور کو واپس لانا چاہتے ہیں ، خور ایران میں بھی ایک بڑا طبقہ اس لبرلزم کا حامی ہے ، اسرائیل ، امریکہ اور کئی دوسرے ملکوں کا یہ خواب قومی اور تہذیبی طور پر مضبوط ایرانی قوم و حکومت کی وجہ سے ناکام رہا ، اسرائیل کے رہنما نیتن یاہو اس کا کئی مرتبہ اظہار بھی کر چکے ہیں ، ان دونوں مقاصد کے لیے موساد کے سینکڑوں نہیں ھزاروں ایجنٹ پہلے ہی اسرائیل میں ڈروان اور دوسرا اسلحہ لے جا چکے تھے ، اس سلسلے میں انہیں را کی مدد حاصل تھی ، جو ایران میں رہ کر ایران اور پاکستان دونوں کے خلاف برسر پیکار تھی ، یہاں بلوجستان اس کا ھدف رہا ہے ، ایران کو "را" نے شدید دھوکہ دیا ہے ، اب رجیم چینج کے لیے نیتن یاہو یہاں تک کہتا ہے کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کو قتل کرنا ان مقاصد میں شامل ہے اور یہ ھم کریں گے ، اسی مقصد کے حصول کے لیے اس نے ایرانی سائنسدانوں ، چیف آف آرمی سٹاف اور دیگر اہم رہنماؤں کو بھی شہید کیا ، ماضی میں بھی کئی لوگ قتل ہوئے خود ایرانی صدر ، حماس کے لیڈر اور حزب اللہ کے رہنماؤں کو اسرائیل نے اپنے ایجنٹوں کے ذریعے قتل کروایا ، مگر ایرانی حکومت کی پالیسیوں اور اس کی حرارکی توڑنے میں ناکام رہا ۔
تیسرا بڑا مقصد نیتن یاہو اور مودی کا ایک ہی اور وہ ہے سیاسی طور پر اپنے آپ کو مستحکم کرنا جس میں نتین یاہو اور مودی دونوں کو فی الحال سبکی ہوئی ہے ، نیتن یاہو عوام میں مقبولیت کی بجائے اس وقت نفرت کی علامت بن چکے ہیں جو مناظر تل ابیب ، حیفہ اور دیگر شہروں میں اسرائیلی عوام نے دیکھے ہیں اس سے ان کا خوف اور نیتن یاہو کے خلاف نفرت بڑی ہے ، ایران کا میزائل داغنے کا سلسلہ جاری ہے ، اور کہا جاتا ہے کہ ایران کے پاس دو سے تین ھزار بڑے میزائل بھی موجود ہیں ، جس سے کئی میزائل اسرائیل کے شہروں اور جوہری تنصیبات اور ڈیفنس سسٹم آئرن ڈوم کو نقصان پہنچا چکے ہیں ،البتہ اردر گرد اسرائیلی کنٹرول کی وجہ سے کئی میزائل انٹر سپٹ ہو جاتے ہیں ، جس سے اسرائیل کی فضائی کنٹرول کی صلاحیت ایران کے لئے مسائل پیدا کر رہی ہے ،
چوتھا بڑا مقصد نیتن یاہو کا یہ کہ کسی طرح ایران امریکہ پر حملہ کرے یا امریکہ خود براہ راست اس جنگ میں کود جائے اور ھم پیچھے ہو جائیں ، اسرائیل کے پاس جتنا جدید ائیر ڈیفنس سسٹم اور ھتھیار ہیں وہ سارے امریکی ہیں جن میں سے ایف 35 طیارے بھی شامل ہیں ، ایران کا دعویٰ ہے کہ ھم نے یہ جہاز بھی گرائے ہیں ، بہت ساری ٹیکنالوجی اور ھتھیار ایسے بھی ہیں جو امریکہ نے آج تک اسرائیل کو نہیں دئیے ، لیکن اب اگر امریکہ براہ راست جنگ میں کود گیا اور دوسرے ممالک نے بھی پوزیشن لے لی تو پھر عالمی جنگ کے خطرات بڑھ جائیں گے ، ایران کے پاس آخری حربہ آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا موجود ہے اگر وہ ایسا کرتا ہے تو خود اس سمیت کئی ممالک کی معاشی حالت خطرناک حد تک بگڑ سکتی ہے ، نتین یاہو کی گریہ زاری ، راہبوں کی دعائیں اور یہودی ازم کا تڑکا امریکہ کو مجبور کر سکتا ہے ، حال ہی میں امریکی صدر ٹریمپ نے جی سیون کے اعلامیے پر صرف اس لئے دستخط نہیں کیے کہ اس میں اسرائیل اور ایران جنگی بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا ، کیا ٹریمپ اپنے طے شدہ اہداف میں ناکام ہو گئے ؟ کسی حد تک یہ بات درست ہے کہ ٹریمپ نے امن اور معاہدات کی جو بات کی تھی وہ اس میں ناکام ہیں کیا وہ امن کا علم چھوڑ دیں گے اور ایران کے خلاف جنگ میں براہ راست شامل ہو جائیں گے ، اس کے زیادہ آثار موجود ہیں ، اسرائیل وہ امریکہ کا بغل بچہ ھے جس کی پرورش ہر حکومت نے کی ، مقاصد عرب و عجم پر بالادستی ہے اس میں وہ بہت حد تک کامیاب ہے ، مسلمانوں کو سب سے بڑی مار گروہ بندی اور جدید ٹیکنالوجی نہ ہونے کی وجہ سے پڑی ہے ، جب تک ان کو ٹیکنالوجی اور مہارت ، اور باہمی مفادات میں پرویا نہیں جائے گا ، گریٹر اسرائیل کا سلسلہ آگے بڑھتا جائے گا ، واحد ملک ایران ہے جو ابھی تک سخت مزاحمت کر رہا ہے ، اگر ایران کھنڈر بن گیا اور غزہ جیسی حالت ہو گئی تو پھر سب مسلم ممالک کو لاحق خطرات بڑھ جائیں گے ، اسرائیل کی چابی امریکہ کے ھاتھ میں ھے سفارت کاروں کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ امریکہ کو مجبور کر دیں کہ مذکرات اور امن سے مسائل حل کیے جائیں ، ایران کو دفاعی حق سے محروم نہ کیا جائے ، خود ایران کو بھارت جیسے ممالک سے بچ کر چلنا ہو گا ، یہ مزاحمت جاری ہے ، نتین یاہو کے مقاصد پورے ہوتے ہیں کہ نہیں البتہ ایران جیسا ایک بڑا ملک جس کی ابادی دس کروڑ سے زائد ہے ، ایک صدیوں پرانی تہذیب و ثقافت ہے ، ایک قوم ہے ، دوسری طرف نوے لاکھ ابادی والا ایک چھوٹا سا ملک اسرائیل ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایران یا کسی دوسرے ملک پر بھاری ہے ، اس بات سے تمام مسلم ممالک کو سبق سیکھنا چاہیے ، ھمیں سب سے پہلے سیکھنا ہوگا ، اب ہنوز دلّی دور است کا فارمولا بہت دور رہ گیا ہے ۔ جاری ہے
115