246

ایران ،اسرائیل جنگ ،پس منظر اور پیش منظر ۔1

یہ آج سے نہیں بلکہ اسرائیل کے قیام سے ہی سی آئی اے ، موساد اور را کا ایک گٹھ جوڑ تھا ، سب کے اپنے اپنے مفادات تھے ، را" کا پاکستان کے خلاف منصوبہ تھا جبکہ اس کے لیے را نے "موساد" اور" کے جی بی" سے بھی مدد حاصل کر رکھی تھی ، بھارت اور روس بڑے اتحادی تھے ، لیکن جب سے بھارت امریکہ کے زیادہ قریب ہوتا گیا ساتھ ساتھ روس سے بھی کچھ فاصلے بڑھ گئے ، بات ہو رہی تھی "موساد "اور" را" کا ایک مکروہ گٹھ جوڑ آج بھی چل رہا ہے ، جس کے بڑے مقاصد میں شامل تھا کہ مسلم ممالک کو جوہری پروگرام سے دور رکھنا اور اگر ایسے شواہد بھی ملیں ان کو ختم کر دیا جائے، جس میں سائنسدانوں کا قتل اور جوہری پلانٹس کو تباہ کرنا شامل تھا ، یادش بخیر پاکستان نے جب ایٹمی پروگرام شروع کیا تب سے یہ نیٹ ورک سرگرم تھا ، 1980ء سے 1996ء تک اسرائیل اور بھارت نے کئی مرتبہ کوشش کی کہ اس پروگرام کو ختم کیا جائے ، سائنسدانوں کو قتل کیا جائے ، پروگرام کو روکا جائے ، اسی تناظر میں کہوٹہ تک اسرائیلی جہاز اچکے تھے مگر پاکستانی اداروں کی کامیاب حکمت عملی سے ایٹمی پروگرام کو محفوظ ھوا ، اس میں پاکستانی انٹلیجنس ایجنسیوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اتنے بڑے گٹھ جوڑ کا ھمیشہ مقابلہ کیا ، 
اسی طرح" سی آئی اے" ، موساد" اور" را" کی کوشش تھی کہ پاکستان کو سیاسی ، عسکری اور معاشی طور پر اتنا عدم استحکام کا شکار کیا جائے کہ وہ طاقت حاصل کرنے میں ناکام رہے ، لیکن پاکستان اور چین کے اتحاد اور پاکستانی سائنسدانوں نے اتنی بڑی طاقت ور ایجنسیوں کو تھکا دیا کہ وہ اپنے بیشتر منصوبوں میں ناکام ہو گئیں اور آج پاکستان ایک ایٹمی ملک کی حیثیت سے دنیا خاص کر اسرائیل اور بھارت کو بہت کھٹکتا ہے ، اگرچیکہ سی آئی اے اور را نے انتہا پسندی ،لیڈروں کے قتل اور کرپشن کے منصوبوں میں کسی حد تک کامیابی حاصل کی ,پاکستان کے سبھی حکمران جس نے ایٹمی پروگرام یا ترقی کا سوچا اسے یا قتل کر دیا گیا یا اقتدار چھین لیا ، کچھ تو چپ ہوگئے یا ساتھ ہو گئے ، لیکن زیادہ تر بے یار و مددگار کر دئیے گئے ،
اسی سوچ کے تحت موساد ، سی آئی اے اور را" نے دیگر مسلم ممالک کے خلاف منصوبے بنائے ، عراق پر نیوکلیئر ہتھیاروں کا الزام لگا کر دولت پر قبضہ کیا اور ملک کو گروہی بنیادوں پر تقسیم کر دیا ، یہی فارمولا لیبیا ، شام ، فلسطین ، یمن ، لبنان اور ایران کے خلاف استعمال ھوا ، ایران اپنے قومی اتحاد ، مضبوط تہذیب اور تمدن اور تیل کی دولت کی وجہ سے آج تک کھڑا رہا ، اگرچیکہ اس پر معاشی اور معاشرتی پابندیاں لگائی گئیں ، تنہا کیا گیا ، مگر صدیوں سے ایک مضبوط تہذیب و ثقافت کی وجہ سے گروہی تقسیم کا شکار نہیں ہوا ، اگرچیکہ لبرلزم واپس لانے کے لیے امریکہ نے طلباء وطالبات ، نوجوانوں اور بنیاد پرست نظریات کے مخالف لوگوں کو بہت نوازا مگر یہ کوششیں ایران نے ناکام بنائی ، مصر ، عراق ، ایران اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام میں سب سے بڑی رکاوٹ اسرائیل بنا جس میں صرف پاکستان نکلنے میں کامیاب رہا ، آپ ملاحظہ کریں کہ مصر کے سائنسدانوں کو قتل کروانے میں موساد کا ہاتھ تھا ، عراق کے ایٹمی ری ایکٹر میں دھماکہ کرانے میں موساد کا ہاتھ تھا ، پاکستان میں یہ گٹھ جوڑ را کے ساتھ مل کر کام کرتا رہا اور 1986ء میں سری نگر ائیر بیس سے کہوٹہ تک اسرائیلی جہاز آئے مگر پاکستان کے خفیہ اداروں نے اسے ناکام بنایا ، جن کی بدولت آج پاکستان ایٹمی ملک کی حیثیت سے دنیا میں مقام رکھتا ہے اور اسرائیل کو بڑا کھب رہا ہے ، 
حال ہی میں ایران جب ایٹمی پروگرام کو حتمی شکل دے رہا تھا تو اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا جس میں اسرائیل نے ایٹمی سائنسدانوں سمیت خفیہ ادارے کے سربراہ اور نائب کو نشانہ بنانے کے علاؤہ نطنز ، اصفہان اور تبریز کے ایٹمی ری ایکٹرز اور پلانٹس پر حملے کیے ، جواب میں ایران نے تل ابیب ، حیفہ اور دیگر اسرائیلی شہروں پر حملہ کیا اور وہ منظر بھی دیکھنے کو ملا جو اسرائیل نے غزہ میں بپا کیا تھا ، اسرائیل نے اس مرتبہ ایران کے ارد گرد شام ، اردن ، لبنان اور یمن پر کسی حد تک کنٹرول حاصل کیا جس سے ایران کو مشکلات کا سامنا ھوا لیکن ایران کے سپر سونک ، بیلسٹک میزائلوں نے دنیا کو حیران ضرور کیا ہے ، اسی حیرت میں امریکی صدر ٹریمپ کو یہ کہنا پڑا کہ ایران اور اسرائیل کو سمجھوتہ کرنا ھوگا ، ایران صرف جوابی کارروائی کر رہا ہے ، نیتن یاہو کی کوشش کہ کسی طرح امریکہ براہ راست ، اس جنگ میں شامل ھو ، اگر ایسا ھوا تو پھر شاید چین اور روس بھی پیچھے نہ رہیں اور پاکستان کے لئے بھی آسان نہ ہو ، اس صورت میں عالمی جنگ کا خطرہ ہے ، ایران نے ھمیشہ عالمی ایٹمی ایجنسی کو اپنی تنصیبات معائنے کے لیے پیش کیں ، مگر کبھی عالمی ایجنسی نے اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کا مشاہدہ اور تجزیہ نہیں کیا ، کیا اس تضاد میں دنیا اور خاص کر مسلم ممالک این پی ٹی پر قائم رہ سکتے ہیں ؟ دنیا کو سمجھنا چاہیے کہ توازن برقرار نہ رکھا گیا تو انسانیت تباہ ہوگی ، انسان بھوک اور افلاس میں مبتلا ہوں گے ۔ ہار جیت کسی کی نہیں ہوگی ، بھارت کی خفیہ ایجنسی را اور موساد کا نیٹ ورک ایران میں بھی کام کر رہا تھا ، ایران کو نقصان پہنچانے میں را کا اہم کردار ہے ، یہ بات ایران کو سمجھنی ہوگی ، آج دنیا کو یہ بھی خطرہ ہے کہ ایران کے ایٹمی ری ایکٹرز پر حملے سے بڑے پیمانے پر تابکاری پھیل سکتی ہے ، جس سے سب متاثر ہوں گے ، خود یہود کی لابی اپنے مذہب کے بنیاد پر لڑ رہے ہیں ، مگر مسلمان ممالک گروہ بندی ، مسلکی دیواروں اور تعصب سے آٹے ہوئے ہیں ، جب تک یہ دیواریں نہیں گرائی جاتیں ، ایک کے بعد دوسرا گرتا جائے گا ، کوئی معیشت اور معاشرت کی تباہی سے ، کوئی ایٹمی ہتھیاروں کی بدولت اور کوئی غرور و گھمنڈ میں مارا جائے گا ، گروہ بندی ، تعلیم اور تربیت سے دوری اور عوامی انصاف سے روگردانی ھمیں عرب ھو کہ عجم سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہے ، غداروں کو پہچانیں ، اور وظیفوں کی بجائے تعلیم اور ٹیکنالوجی کے حصول پر توجہ مرکوز کریں کوئی ایجنسی ، کوئی طاقت اور کوئی اسرائیل آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکے گا ، اپنی اپنی ریاستوں میں رہ کر ایک دوسرے کے معاون بنیں ، یہی دیرپا عمل اور سب کا خواب ہے ، ویسے عوام کو انصاف دلانے میں کردار ادا کریں گے تو لوگ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ھوں گے ، ایران اور اسرائیل جنگ جاری ہے ، جس میں ایران نے سرپرائز بھی دئیے مگر انسانیت کی فلاح جنگوں میں نہیں امن میں ہے ، امن کے لیے کبھی کبھی اسرائیل جیسے ممالک کو سبق سکھانا ضروری ہو جاتا ھے۔جاری ھے ۔۔

بشکریہ اردو کالمز