ابلیس کی مجلس شوریٰ ، علامہ اقبال کی طویل نظموں میں آخری طویل نظم ہے "ابلیس کی مجلس شوریٰ" میں علامہ اقبال نے جہاں ھماری روایتی شاعری میں ایک انقلاب بپا کیا وہاں ابلیس کو ایک کردار دے کر یہ بھی بتایا کہ وہ کس طرح انسان کی آفاقی حیثیت اور اللہ تعالیٰ کی حکمت و دانائی کو چیلنج کرنے کی کوشش کرتا ہے ، نظم "ابلیس کی مجلس شوریٰ" علامہ اقبال کی کتاب"ارمغانِ حجاز" سے ماخوذ ہے جو ان کی وفات سے دو سال پہلے یعنی 1936ء میں لکھی گئی تھی ، اس وقت دنیا پہلی جنگ عظیم کے بعد ایک نئی صف بندی اور جنگ میں مبتلا تھی ، جس کا شاخسانہ 1939ء میں جنگ عظیم دوئم تھا ،ایک طرف یورپ کا استعماری اور سرمایہ دارانہ نظام ، دوسری طرف ہٹلر کا نازی ازم آگ اور گولہ بارود کے شعلوں کو جمع کر رہا تھا جبکہ اٹلی کا آمر مسولینی حبشہ پر حملہ آور ہو چکا تھا ، کہیں یہودی برسرِ پیکار تھے تو کہیں ، کنگ مارٹر لوتھر کی تحریک زوروں پر تھی ، جبکہ کارل مارکس کا اشتراکی نظام اور نظریات تیزی سے یورپ ، یہاں تک کہ برصغیر کی ادبی محفلوں اور نظام حکومت میں زیر بحث تھا ، ایک کی نظر ان تمام ازم پر بھی تھی اور ساتھ ہی وہ اس بات پر کڑھتے رہتے تھے کہ اسلام جو ضابطہ حیات بن کر آیا ہے اس کے پیروکار اور نہابت الٰہی کے حق دار غفلت کی گہری نئید سو رہے ہیں ، نہ صرف غفلت کی نیند حتی کہ سوشلزم ، کیمونزم اور مغربی تہذیب و سیاست کے نرغے میں پھنس گئے ہیں ،
اسی پس منظر میں لکھی گئی نظم "ابلیس کی مجلس شوریٰ" میں ان تمام نظاموں کا محاکمہ اور تجزیہ بھی کیا گیا ، جہاں ابلیس کی بھی ایک تمثیلی پارلیمنٹ موجود ہے ، جہاں ابلیس یعنی تمام شیاطین کا سربراہ اپنی "میں" آنا اور تکبر کا اظہار کرنے کے لیے اپنے پانچ مشیروں سے خطاب کرتا ہے ، ایک بات ذھین میں رکھیں کہ علامہ اقبال کی نظم ایک تمثیل ہے ، اور خود اقبال کی سوچ و فکر میں مسلسل ارتقاء رہتا ہے ، یہی حقیقت ہے کہ انسان میں ارتقاء نہ ہو تو وہ ایک ساکن اور بے حرکت پڑا رہتا ہے ، جہاں آگے بڑھنے کے تمام راستے بند ہو جاتے ہیں ، اضطراب ہو یا ارتقاء ہر عمر میں تبدیلی کا باعث بنتا ہے ، دوسری بات یاد رکھنے والی یہ ہے کہ ابلیس کا لفظی مطلب بھی منکر یا مایوسی کا شکار ھے ، اور یوں کہہ لیجیے کہ انسان کو روز اول سے رجائیت یعنی امید کا محور بنایا اور ابلیس کو قنوطی فکر کا منبع ، اسی مایوسی کو وہ انسان میں پیدا کر کے اپنی تسکین حاصل کرتا ہے ، جبکہ انسان کے لیے اللہ تعالٰی نے کھلا اعلان کیا کہ ، ایک اعلان شیطان کے لیے کہ "عدو مبین" یعنی کھلا دشمن قرار دیا ، جبکہ انسان سے مخاطب ہو کر کہا کہ "لا تقنطو من رحمۃ اللہ" کہ اللہ کی رحمت اور شفقت سے مایوس نہ ہونا ' اسی میں زندگی کا سارا
ضابطہ موجود ہے ،
اقبال نے واضح کیا کہ اہل مغرب نے جتنے بھی نظام دئیے ہیں ان کے پیچھے وہی ابلیسی سوچ کار فرما ہے ، وہ چاہے جدید مغربی تہذیب ہو ، مادیت پرستی ہو ، سرمایہ دارانہ نظام ہو ، اشتراکیت اور جمہوریت ہو یا مردکیت کی سوچ ہو ، مردک ایران میں ایک ایسی سوچ کا پیروکار تھا جو روحانیت کی آڑ میں جذبہ جہاد اور انسانی حقوق کو غصب کرنا چاہتا تھا ، جو بعد ازاں قتل ہؤا ، ایک مغالطہ اقبال کی فکر کو لے کر یہ پیدا ہوا کہ اقبال جمہوریت اور تصوف کے خلاف ہیں حالانکہ وہ ایسے نظام سے لوگوں کو بیدار کرنا چا رہے تو جو بے عملی ، جہالت اور اندھی تقلید میں دھکیل دے ، اور آج اگر عالمی سیاست دیکھیں تو اس میں مغربی جمہوریت میں حکمرانی جمہوریت اور عوامی جمہوریت میں بڑا فرق ہے ، عوام انسانی حقوق ، انصاف اور آزادی کے لیے ووٹ دیتے ہیں مگر حکمران ایسے بیانیے کو لے کر استعصال کرتے ہیں ، اپنے عوام کو تو حقوق دے دیتے ہیں مگر دنیا میں ان کی نظر مختلف ہو جاتی ہے خاص کر یہود و نصارٰی کی سوچ سرمایہ دارانہ غاصبیت ، اور مذھبی بنیاد پرستی سے نہیں نکلتی آج بھی اسرائیل کی صورت میں امریکہ ، برطانیہ اور کئی یورپی حکومتوں کی پالیسی مختلف ہے البتہ عوام دوسری طرف کھڑی ہے ، حالانکہ جمہوریت کی ایک طرح کی نفی کرتے ہیں ، اسی تناظر میں اقبال نے کہا تھا کہ ، اسلام میں جو انصاف اور رحم دلی کا معاشرہ قائم کرنے کی بات ہے وہ خالصتاً انسانی بنیادوں پر ہے جبکہ اہل مغرب کے نظام کہیں کیمونزم ، کہیں کیپیٹل ازم اور کہیں سوشلزم کو تقویت دینے کے لیے ایک خاص طریقے سے پروان چڑھاتے ہیں ، آج اسرائیل کی طاقت اور قوت کہاں پہنچ گئی ؟ اور مسلم ممالک اس کے مقابلے میں کہاں کھڑے ہیں ؟ صاف دکھائی دے رہا ہے اور ہمیں بس ایسا انجکشن دے دیا جاتا ہے جس کی اقبال نے نشان دہی کی تھی کہ ۔۔
خواب سے بیدار ہوتا ہے ذرا محکوم اگر
پھر سلا دیتی ہے اس کو حکمران کی ساحری۔
اور ۔۔۔
وہی ساز کہن مغرب کا جمہوری نظام
جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری
اقبال جمہوریت کے مخالف نہیں لیکن جو جمہوریت حُکمرانی فسطائیت میں بدل جائے اور ایک ایسا بیانیہ بنا کر عوام کو دیا جائے کہ وہ بے عمل اور چپ کر کے قبول کر لیں یہ دراصل ایک ساحری ہے ، اور یہی خصوصا امریکی حکمرانوں نے مسلم ممالک کو سکھایا ہے ، آپنے مقاصد کے لیے انہیں بادشاہت ، جمہوریت اور سرمایہ دارانہ نظام سب کچھ قبول ہے قبول ہے ، ہر نظام کی کچھ نہ کچھ خوبیاں ہوتی ہیں اور خامیاں بھی ، مگر جو نظام خالق کائنات نے دیا ہو اس میں اتمام حجت بھی ہوتی ہے اور ایک دعوت انسانی بھی کہ اس سے آگے وقت کے مطابق آپ بہتری لائیں گے یہی انسانی مقاصد کی تکمیل ہے ، مگر اس کی بنیاد انسانی حقوق ، انصاف اور آزادی پر رکھی جائے ، بدقسمتی سے مسلم ممالک نو آبادیاتی نظام کی غلامی اور بے عملی کی ساحری سے آزاد نہیں ہوئے ، جہاں ۔۔۔
تیرا امام بے حضور ، تیری نماز بے سرور
رہ گئی رسمِ اذاں روحِ بلالی نہ رہی ۔
اب ایک رسم بن چکی ہے ، نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج ان سب عبادات کا آفاقی پیغام چھین لیا گیا ، جہاد دراصل پہچان تھا اور وہ بھی ریاست کی سطح پر ، دفاعی حکمت عملی کے تحت لیکن اس کام میں بھی گروہ بندی اور اپنی اپنی سوچ مسلط ہو گئی ، قطع نظر اس کے حکمران خود بری طرح اسی ساحری کا شکار ہو چکے ہیں ،
اقبال کی مجلس شوریٰ میں ، ابلیس اپنی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے اسی کامیابی کو فخر اور تکبر سے بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں نے جس کام کی مہلت اللہ سے لی تھی کہ بہکا دوں گا ، وہ میں نے انسان کو بہکا دیا ہے ، میں نے مختلف شیطانی نظاموں میں اسے جکڑ لیا ہے ، اب دنیا میں میری حکمرانی ہے ، وہ اپنے مشیروں سے کھل کر کہتا ہے کہ سب میرے شکنجے میں ہے ، کوئی مجھے چیلنج نہیں کر سکتا ، پارلمینٹ سے خطاب میں ابلیس کہتا ہے ،
یہ عناصر کا پرانا کھیل ، یہ دنیائے دوں
ساکنان عرش اعظم کی تمناؤں کا خوں
اس کی بربادی پہ آج آمادہ ہے وہ کار ساز
جس نے اس کا نام رکھا تھا جہان کاف و نوں
میں نے دکھلا دیا فرنگی کو ملوکیت کا خواب
میں نے توڑا مسجد و دیر و کلیسا کا فسوں
میں نے ناداروں کو سکھلایا سبق تقدیر کا
میں نے منعم کو دیا سرمایہ داری کا جنوں
کون کر سکتا ہے اس کی آتش سوزاں کو سرد
جس کے ہنگاموں میں ہو ابلیس کا سوز دروں
جس کی شاخیں ہوں ھماری آبیاری سے بلند
کون کر سکتا اس نخل کہن کو سرنگوں
ابلیس کے خطاب کے دعوے اور میں کا غرور دیکھیں ، ساتھ ہی ساکنان عرش اعظم کو چیلنج ، اور ساتھ کہ جس جہاں کو تو نے کن فیکوں کے نعرے سے بنایا تھا دیکھ میں نے برباد کر دیا ہے ، میں نے دین کو رسومات تک ، نظام کو فرنگی قید میں ، مسجد و منبر ، دیر و کلیسا کو تقسیم کر دیا ، میں نے شطرنج کی طرح بساط بچھا کر سرمایہ دارانہ نظام کو ایسی تقویت دی ہے کہ کوئی اس سے نہیں نکل سکتا اور میرے نظام کو کوئی سرنگوں نہیں کر سکتا ، ایک طرف ابلیس کا یہ اعلان اللہ تعالیٰ کو چیلنج کرتا ہے اور دوسری طرف مایوسی کے پردے میں اسی تفاخر سے خود ہی اپنی فتح کا اعلان کرتا ہے ، کوئی بس تقدیر پہ خوش ، کوئی سرمایہ داری پہ ، کوئی عبادات پہ اور کوئی فرنگی نظام کی غلامی میں خوش ہے ، اپنی سوچ ، فکر ، تدبر ، اور سچائی اور مساوات پر مبنی نظام چھوڑ دیا ، کیوں تکلیف اٹھائی جائے ، غلام صحیح لیکن ھماری حکومت تو ہے ، مال و زر ہے ، ھم طاقتور ہیں ، پھر اللہ تعالیٰ کسی کمزور کو طاقت دے کر اس نظام کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے ، کہیں اصلاح ، کہیں اضطراب تو پیدا ہوتا رہتا ہے اور ارتقائی سفر بھی شروع رہتا ہے ، ابلیس کے افتتاحی خطاب کے بعد پانچ مشیروں نے اظہار خیال کیا جس کے اختتام پر ابلیس نے اختتامی کلمات کہے ، مشیروں کے خطاب کے حصے اگلے کالم میں زیر بحث رہیں گے ۔۔۔۔جاری ہے
123