حال ہی میں ممتاز تجزیہ نگار اور پاکستان چین کوآپریشن کے چیئرمین مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ مستقبل میں پاکستان ، چین اور روس کا مضبوط اتحاد بننے جا رہا ہے ، انہوں نے یہ بھی کہا کہ خطے کی ترقی ایشئن اتحاد میں ہے مغرب کے ساتھ گٹھ جوڑ سے نہیں ، کس حد تک یہ بات درست ہے ؟ اس پہ بات ہوتی رہے گی ، یہ بات درست ہے کہ خطے کا سب سے بڑا روٹ وسط ایشیا اور افغانستان ہے اور اسی روٹ پر امریکہ نے ڈیرے ڈال کر ھمیشہ چین کو روکنے کی کوشش کی ہے ، خود اسی روٹ کے ڈر سے افغانستان اور روس کے حصے بخرے کیے گئے ، وہ دور ھمارے وقتی فائدے اور دیر پا معاشی اور معاشرتی مسائل کا ذریعہ بنا ، سوشلزم کی مخالفت کو مذھبی جنگ بنا کر پیش کیا گیا اور ھم ڈالر کی چمک دمک میں کھو گئے ، جواب میں ھم نوے ھزار سویلینز اور سیکورٹی فورسز کی قربانیوں سے دوچار ہوئے جس کے معاشی اور معاشرتی نقصانات کا آج پچپن سال گزرنے کے باوجود ازالہ نہیں ہو سکا ، معاشرہ بری طرح سے تقسیم ھوا ، شدت پسندی ، عدم برداشت اور سیاسی اور مذہبی تقسیم بڑھ گئی ، یہ فیصلہ سازوں کے لیے ایک کھلی تاریخ ہے کہ وہ اس سے سبق حاصل کریں ، وقتی طور پر ایک معاشی انجکشن لگا مگر اس کے اثرات زائل ہو گئے ، کیونکہ وہ تمام چیزیں دم توڑ گئیں جو قومی حمیت اور دیر پا ترقی کے لیے ضروری ہے ہوتی ہیں ھم مکمل طور پر دوسروں کا دست نگر بن گئے ، پھر امریکہ نے یہ کسی دوسرے منصوبے کو کامیاب نہیں ہونے دیا ، وہ ایران پاکستان گیس پائپ لائن ہو ، سی پیک ہو یا وسط ایشیا کا روٹ ہو ان سب پر امریکی پہرا لگ گیا ، ھم چونکہ آئی ایم ایف کے منتظر رہتے ہیں اس لیے امریکہ اس تنفس سے پاکستان کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا رہا حالانکہ چین تو اول دن سے ھمارے دوستوں میں شامل رہا اور اس نے اپنے معاشی اہداف ہوں یا پاکستان کا فایدہ ہر دو صورتوں میں ترجیح دی ہے ، یہ وقت نے ثابت کیا ہے ، اسی طرح ھم نے روس سے براہ راست دشمنی مول لے کر معاشی ، توانائی اور انفراسٹرکچر کا بہت نقصان کیا ، روس بھارت کا سب سے بڑا اتحادی رہا ہے اب بھی تجارتی اور دفاعی معاہدوں میں بندھا ہے ، لیکن روس بتدریج بھارت سے دور ہو رہا ہے اس میں چین کا سب سے بڑا کردار ہے ، سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے زمانے میں چین کی مدد سے روس کو قریب لانے کا کام شروع ہوا تھا اور بعد کی حکومت نے آگے بڑھ کر اس پر کام کیا جو اب انتہائی قریب آچکا ہے ،
حال پاک بھارت جنگ میں چین نے پاکستان کا کھل کر ساتھ دیا اور دفاعی و علاقائی سالمیت کا حق ادا کر دیا یہاں تک کہ سات مئی میں ہونے والی جنگ میں چین کی ٹیکنالوجی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ، پانی کے مسئلہ پر بھی چین نے پاکستان کے لیے یہ قدم اٹھایا ہے کہ اس نے کہا کہ اگر بھارت نے پانی بند کیا تو ھم بھارت کے لیے اپنے دریا بند کر دیں گے اور اس بھارتی اقدام کو اپنے دوست پاکستان کے خلاف جنگ سمجھیں گے جس کا بھرپور جواب دیا جائے گا ، سات مئی کی جنگ کے بعد سفارتی مہم میں بھی بھارت کو روس ، چین ، افریقہ اور یورپ کے کئی ممالک سے مشکلات کا سامنا ہے ، اس کی بڑی وجہ سات مئی اور پاک فضائیہ کی کارکردگی ہے جس کو انڈیا کو شکست اور دنیا کو سوچنے پر مجبور کر دیا ،
پاکستان اور روس کے تعلقات پاکستان اسٹیل ملز سے شروع ہوئے تھے مگر 1979ء کی جنگ نے یا بڈھ بیر کے حملے نے روس کو بہت دور کر دیا تھا ، جو اب پچپن سال گزرنے کے بعد ایک نئے دوستانہ ماحول میں بدل رہا ہے جس کا مرکزی کردار چین کا ہے ،
چین اور روس مل کر چاند پر جوہری پروگرام شروع کر چکے ہیں اور مستقبل میں خلائی توانائی کے حصول کے لیے ایک بڑا معاہدہ کر چکے ہیں ، جس کے لیے 2033ء تک یہ منصوبہ مکمل ہو جائے گا ، پاکستان بھی اس پروگرام میں شامل ہے ، اور 2028ء تک ابتدائی کام مکمل ہو جائے گا ، اس سوال کے کیا پاکستان امریکہ کو نظر انداز کر سکتا ہے ؟ اس سوال کے جواب میں ماہرین کی رائے یہی ہے کہ یہ فوری ممکن نہیں ہے کیونکہ پاکستان کو تجارتی اور دفاعی سطح پر ابھی امریکہ کی حمایت کی ضرورت ہے اور شاید امریکہ کو بھی پاکستان کی ضرورت ہے جس کا ایک منظر ٹریمپ اور مارک روبیو کی حالیہ پاک بھارت جنگ میں سیز فائر کی کوششوں سے نمایاں طور پر سامنے آیا ہے ، البتہ بتدریج تجارت اور دفاع کا رخ ایشا اور خصوصاً چین و روس کی طرف موڑنے کی ضرورت ہے ، جس کے لیے تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تحفظ کا معاہدہ اہم کردار ادا کر سکتا ہے دوسری طرف ترکی اور ایران بھی چین و روس کے اتحادی ہیں ، مشرق وسطی کے ساتھ چین کے تعلقات اچھے ہیں جبکہ روس کو شام اور مشرق وسطی سے دور کرنے کے لیے امریکہ نے وقتی طور پر فایدہ اٹھا لیا ھے ، دوسری طرف روس کو یوکرین کی جنگ میں الجھا رکھا ہے جو اب ڈروان حملوں سے ایک نیا رخ اختیار کر گئی جس سے امریکی مداخلت کا واضح عندیہ ملتا ہے ، چین پاکستان کا معاشی اور دفاعی اتحادی ہی نہیں دوستانہ مراسم رکھتا ہے تو دوسری طرف روس توانائی اور خوراک کا بڑا مرکز ہے ، جس سے پاکستان بہت فایدہ اٹھا سکتا ہے ، چاند پر جوہری پلانٹ لگانے سے ایک نئی دنیا آباد ہوگی ، تاہم مشاہد حسین سید کا تجزیہ اور کوششیں درست سمت پر ہیں لیکن اس کے ھمیں ھوم ورک کرنا ھوگا ، پاکستان نے سامنے ھمیشہ یہ اظہار کیا ہے کہ کوئی بلاک نہیں بنے گا حالانکہ اب یہ بلاک ضرورت بن چکا ہے ، خطے میں بھارت اور پاکستان کی جنگ کا حل نکال لیا جائے اور کشمیر کا مستقل حل نکالا جائے تو پھر چار ارب انسانوں کی حالت بدل سکتی ہے ، راستے بننا مستقبل کی ترقی کا ذریعہ ہوتے ہیں ، روس اب بھی ایک مضبوط معاشی اور دفاعی ملک ہے ، دوسری طرف چین ٹیکنالوجی کی بلندیوں کو چھو رہا ہے ، اگر رسمی نہ بھی ہو غیر رسمی اتحاد اور بلاک بھی تقدیر بدل سکتا ہے ، ھمیں اپنی صنعت و تجارت سمیت تعلیم اور تربیت پر کام کرنا ہوگا ، مشاہد حسین سید کو اس سلسلے میں ذمہ داری دینی چائیے جو پاک چین دوستی اور روس پاکستان قربت میں سفارتی کردار ادا کر سکتے ہیں ۔
آپریشن سندور کے جواب میں بینان المرصوص نے دینا کو حیران کیا ہے ، آوازیں دنیا سے آئی ہیں جس سے بھارت کی مضبوط سفارتی ٹیم کے باوجود سبکی ہو رہی ہے ، یہ وقت ہے اندرونی اتحاد کا ، یہ وقت ہے فیصلے کرنے کا ، دیر ہوئی تو پھر ھم 1979ء میں ہوں گے ، تجارتی ، تعمیراتی اور ٹیکنالوجی کی دنیا میں بھرپور قدم رکھنا ہوگا ، جن لوگوں نے پاک روس قربت کے لیے گیارہ سال کوشش کی ان کی قدر کرنی چاہیے ، تب ہی وقت بدل سکتا ھے ، قسمت بدل سکتی ہے ۔
158