زندگی کیا ہے ؟ کسی کو آج تک معلوم نہیں ہو سکا لیکن ھم سب اپنے بارے میں کوئی رائے یا احتساب نہیں رکھتے لیکن دوسروں کے بارے میں خدائی نظر ، فرعونی رویہ اور جہالت پر مبنی مشاہدات اور تجزیے ضرور رکھتے ہیں ، حال ہی میں حمیرا اصغر علی جو ایک ماڈل اور اداکارہ تھیں ، اس کی المناک موت اور تنہائی کی زندگی کا ذمہ دار کون ہے ؟ اس کے بعد اس کے ساتھ شہرت کے لیے کیسی کیسی خبریں اور رویے ہیں دل سن کر اور دیکھ کر دہل جاتا ہے ، سب سے پہلے کچھ مذہبی خداؤں نے کہا کہ ایسی زندگی کا ایسا ہی انجام ہونا تھا ، یہ سر سر گناہ والی زندگی ھے جسے حمیرا اصغر کو انجام سے دوچار کیا ، گویا ان سب نے خدائی فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں ، میرے ایک دوست نے کہا کہ "کئی لوگ ظاہری طور پر بڑے قیام و سجود سے بھرپور ہوتے ہیں لیکن اندر سے اتنے ہی بھیانک ہوتے اور کیا پتہ ایک معمولی شخص اللہ کا کتنا پسندیدہ ہو " بات تو درست ہے ان سب نے جنت اور جہنم کا فیصلہ اپنے ہاتھ میں لے رکھا ہے ، اور خود ہی فیصلہ صادر فرما دیتے ہیں ، ایسے معاشرے میں کیسے زندگی رہ سکتی ہے ؟ خود سوچیں ویسے ھم فیصلہ کرنے والے کون ہوتے ہیں ؟ انسان کی زندگی اس کی سانسیں کتنی بڑی نعمت ہیں وہی جینے کے لیے بند کر دی جائیں تو اس بڑا ظالم کون ہو گا ؟
دوسرا بڑا المیہ مشترکہ خاندانی نظام کا ہے اس پر بھی کئی سوال ہیں کہ کیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی زندگی اپنائی ، کیا آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی کے بعد چچا ، یا کسی رشتہ دار کے گھر منتقل ہو گئے تھے ؟ ایسا ہوتا اور مشترکہ خاندانی نظام ہوتا تو وہاں اس کی جھلک نظر آجاتی ، ہاں خیال رکھنا اور بات ہے مگر مشترکہ طور پر رہنا اور ایک دوسرے کی پرائیویسی چھیننا ، جائیداد اور دولت پر قبضہ کی سوچنا کہاں درست ہے ، ؟ اجکل اس پر سوچنا ضروری ہے ، معاشرتی رواداری کی بات کی گئی ہے ، مہاجرین کے ساتھ اخوت کی بات ہے ، مگر کہیں خاندانی نظام کی بات نہیں ، قدر دانی ، برے وقت میں خیال رکھنا ، خوشی غمی میں شریک ہونا ، اہم مگر ایک ہی چھت تلے رہنا کوئی قبائلی روایت ہو سکتی ہے دین کا اس سے تعلق نہیں ہے ، آج خبریں حمیرا اصغر علی کے گھر سے آرہی ہیں کہ بھائی کاروبار اور دولت پر قابض ھے اور دوسرے بھائی اور بہنوں کو کچھ بھی نہیں دینا چاہتا ، وہ ستمبر 2024ء سے پہلے اپنے مسائل کی وجہ سے پیسے مانگتی رہی جو اسے نہیں دئیے گئے ، دوسرا بھائی ڈپریشن میں ھے ، مگر ایک صاحب دولت پر قابض ھے ، یہ کتنا بڑا المیہ ہے ، پہلے وہ نعش لینے کے لیے تیار نہیں تھے اب میڈیا کے دباؤ کی وجہ سے آخری ہڈیاں وصول کرنے پہنچ گئے ، ہو سکتا ہے اس میں بھی سچ نہ ہو لیکن چند لوگ ذاتی شہرت کے لیے دھواں دار پروگرام کر رہے ہیں ،
تیسرا بڑا المیہ حمیرا اصغر علی کے دوست احباب کا ہے کہ ایک ماڈل اور اداکارہ چھ ماہ سے رابطے میں نہیں ہے اس کا ذرا پتہ تو کر لیں ، کہاں ہے کس مشکل یا بیماری میں ہے ایسا بھی نہیں کم از کم ایسے لوگوں کی کوئی اپنی انجمن یا تنظیم ہونی چاہیے تاکہ ایک دوسرے کا خیال رکھ سکیں ، حیرت اور دکھ کی بات یہ ہے کہ حمیرا اصغر علی کی نعش کی تصاویر اتار کر وائرل کر دی گئیں ، کیا پولیس اور دوسرے ادارے اتنا بھی راز نہیں رکھ سکتے ، انسانیت ، اخلاق اور درد دل بھی کوئی چیز ھے کہ نہیں ؟ آخر کیا یہ معاشرہ زندوں میں شامل ہے ، میرے خیال میں ھم سب کب کے مر چکے ہیں ، زندہ ہوتے تو یہ رویے نہ ہوتے ، ایک تیسرا المیہ ریاست اور قانون کا ہے کہ اس کیس اور مقدمے کی وہ ذمہ داری لے اور مکمل تحقیق کرے ، نتیجہ اخذ کرے اور مجرموں کو سزا دے ، یہ بھی نہیں یہاں تو کسی خاتون کے ساتھ زیادتی ہو جائے کیمرے لے کر داد رسی کی جاتی ہے ، تو کیا ہم زندہ ہیں ؟
یہ واقعات اور سانحات روز افزوں ہو چکے ہیں ، کوئی قانون ، اخلاق یا معاشرہ اس کی زمہ داری لے گا ، کفر و شرک کا فتویٰ ھماری زبان پر ، عمل و کردار نام کی چیز نہیں ، اخلاق و عادات بدل چکیں ، معاشرہ ایک چلتے پھرتے مردوں کا قبرستان ہے ، جہاں صرف المیے ہی جنم لیتے ہیں ، حمیرا اصغر علی کی لاش کا تعفن نہیں ہے یہ مردہ معاشرے کا تعفن ھے جو سانس تک نہیں لینے دیتا ، وہ دیکھیں ایدھی کو ، چیھپا کو کبھی انسان سے نفرت کی ھے انہوں نے ، یہ درد وہ کیسے محسوس کرتے ہیں اور ایک دین دار ، عالم فاضل اور نیکو کار کہلانے والا یہ درد محسوس نہیں کر سکتا ، اپنے اجلے کپڑے خراب نہیں کر سکتا ، اپنے نرم و ملائم ہاتھوں سے مشقت نہیں کر سکتا ، کیا ھمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ رؤیہ اپنایا ، ہر گز نہیں آپ تو یہودی کے جنازے کے لیے بھی راستے میں احتراماً کھڑے ہو جاتے تھے ، دکھ کا اظہار کرتے تھے ، پھر یہ اجلے کپڑوں والے چند حاکم اور خدا نما لوگ کیسے جنت اور جہنم کا فیصلہ کر لیتے ہیں ،؟ کوئی معاشرہ اور قانون سوچے گا ، خدا را اب بس کر دیں اس بچی کی اور بے حرمتی نہ کریں ، دوست اور گھر والے سبق سیکھیں اور آج کے نوجوان معاشرے میں اپنے اخلاق و عادات کو ایسے بنائیں کہ انسانیت فروغ پا سکے ، ورنہ یہ جان لیوا مرض پھیلتا جائے گا
میڈیا اور وی لاگز والوں سے دست بستہ التجا ہے کہ حمیرا اصغر کی چیتھڑے نہ اڑائیں ، ھمیں اپنے اندر بھی جھانکنا چاہیے ، سنگ اٹھائیں گے تو اپنا سر بھی دیکھ لیں ، شرارے نہ اگلیں تاکہ ایسے واقعات سے نجات میسر ہو جن لوگوں نے حمیرا اصغر کی نعش کی تصاویر لی ہیں ان کو سزا دیں ، گھر والے محاسبہ کریں ، دوست احباب غور کریں اور حکومت اور ریاست اپنی ذمہ داری پوری کرے ۔
111