501

بیس کروڑ بھارتی مسلمانوں کی نسل کشی

 

بھارتی شہر باندرہ میں واقع  کراچی سویٹس کے مالک کو دھمکی ملی کہ وہ اپنی دکان کا نام تبدیل کر لے کیونکہ  کراچی پاکستان میں  ہےاور یہ دہشت گرد ملک ہے   یہ دھمکی انتہا پسند جماعت شیو سینا کی طرف سے تھی حالانکہ دکان کا مالک  ہندو ہے مگر وہ پاکستان  اور اسلام کی وجہ سے مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہو گیا

 بھارت میں یہ بات نئی نہیں ہے وہاں آئے روز ایسے معاملات ہوتے رہتے ہیں اور مسلمان مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہیں وہاں کی سرکار کے کان میں  جوں تک نہیں رینگتی اس کی وجہ یہ بھی ہے  کہ وہاں  کی حکومت  ہندو دیش کا نعرہ  لگا کر  اقتدار میں آئی ہے  مودی کی سربراہی میں بی جے پی کی حکومت نے مسلمانوں کے خلاف  نفرت کی ایک نئی لہر شروع کی اور دن بدن تشدد بھرے واقعات میں اضافہ ہوتا گیا اس پر انتہا پسند ہندوؤں نے میڈیا وار شروع کی اور سوشل میڈیا پر تعصب کی انتہا کر دی جس کی وجہ سے مسلمان دکانداروں سے ہندوؤں نے سودا لینا بھی بند کر دیا

 اب کرونا کو ہی لے لیں  وہاں کے ہسپتالوں نے مسلمانوں کا کرونا ٹیسٹ کرنے سے انکار کیا اور  ہندو اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کا  آنا بند کر دیا  گیا

بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف  24 فروری کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اچانک یہ مظاہرے مذہبی فسادات کی شکل اختیار کر گئے تھے جب ہزاروں افراد نے نئی دہلی میں متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کیا جہاں ان پر اچانک انتہا پسند ہندوؤں اور شرپسند افراد نے حملہ کردیا جس کی وجہ سے مظاہرے مذہبی فسادات میں تبدیل ہوگئے ان فسادات کے دوران کم از کم 53 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہو گئے تھے جبکہ صرف شمال مشرقی دہلی میں فسادات کے دوران مسلمانوں کے گھر، دکانیں اور گاڑیوں کو ہدف بنایا گی اور 11 مساجد، 5 مدارس، مسلمانوں کی ایک درگاہ اور قبرستان پر حملہ کیا گیا اور انہیں نقصان پہنچایا گیا

ان فسادات کی اصل وجہ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس بھارت کی ایک ہندو تنظیم ہے یہ خود کو قوم پرست تنظیم قرار دیتی ہے لیکن یہ بھی دیکھا گیا کہ کئی دہشت گرد  اور فرقہ وارانہ فسادات میں اس تنظیم کا ہاتھ رہا ہے  آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بی  جے پی ہے

 کرونا وائرس کی آڑ میں نہ صرف مسلمان طالب علموں کو گرفتار کیا جا چکا ہے بلکہ وہاں کے  مسلمان دانشور  اور صحافیوں کے خلاف بھی مقدمات درج کئے جا چکے ہیں اس کی وجہ صرف اور صرف ہندو انتہا پسند حکومت ہے  یہ اسلاموفوبیا کی بدترین مثال ہےبھارتی فوج کے مظالم کی وجہ سے  کشمیر میں مسلسل  لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہاں کی صورتحال  انتہائی خراب ہوتی جارہی ہے اس صورتحال پر  واشنگٹن میں ہونے والی ایک کانفرنس میں

بین الاقوامی ماہرین نے ہندوستان میں 20 کروڑ مسلمانوں کی نسل کشی کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔

 سربراہ جینوسائیڈ واچ ڈاکٹر گریگری سٹینٹن کا کہنا تھا کہ بھارت میں حقیقتاً مسلمانوں کی نسل کشی ہورہی ہے اور انسانیت کیخلاف منظم جرائم کا سلسلہ جاری ہے، کشمیر اور آسام میں مسلمانوں پر ظلم ان کے قتل عام سے پہلے کا مرحلہ تھا بابری مسجد کو گرانا اور مندر تعمیر کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے دہلی فسادات میں دہلی پولیس نے سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا اور ان پر اپنے خلاف ہی تشدد کا الزام لگایا گیاہندو تعصب تو کوئی نئی بات نہیں ہے سرسید احمد خان نے دو قومی نظریہ اسی بنیاد پر پیش کیا تھا

اردو اور ہندی زبان کے ہونے والے تنازعہ کی وجہ سے  ہندو مسلم فسادات رونما  ہوئے  جس پر سر سید احمد خان کے خیالات نے انقلاب برپا کردیا  جس کو بعد میں علامہ اقبال نے  ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر پیش کیا اور پھر قائد اعظم محمد علی جناح نے  عملی جامہ پہنایا بھارتی مسلمانوں کی حالات زندگی دن بدن بدترین ہوتی جا رہی تھی اس سے نہ صرف دوسرے ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے باعث تشویش ہے

پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے مختلف عالمی فورم پر اس کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ بھارتی مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا طیب اردگان نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نسل کشی اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ اور یہ سب ہندوؤں کی ایما پر ہو رہا ہے

انکا کہنا ہے یہ لوگ کس طرح سے عالمی امن کی بات کر سکتے ہیں

بھارتی مسلمانوں کو اپنی اہمیت اور اپنی طاقت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اگر بیس کروڑ مسلمان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں اور ان کو علامہ اقبال اور قائداعظم جیسی قیادت میسر ہوجائے تو کوئی شک نہیں وہ ایک علیحدہ وطن بنا سکتے کیوں کہ اس چیز کا حل صرف اور صرف دو قومی نظریے کی بنیاد ہے پاکستان بننے کے پہلے حالات کا جائزہ لیں تو مسلمانوں کا ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہونا پڑا تھا

بشکریہ اردو کالمز