بھارتی شہر باندرہ میں واقع کراچی سویٹس کے مالک کو دھمکی ملی کہ وہ اپنی دکان کا نام تبدیل کر لے کیونکہ کراچی پاکستان میں ہےاور یہ دہشت گرد ملک ہے یہ دھمکی انتہا پسند جماعت شیو سینا کی طرف سے تھی حالانکہ دکان کا مالک ہندو ہے مگر وہ پاکستان اور اسلام کی وجہ سے مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہو گیا
بھارت میں یہ بات نئی نہیں ہے وہاں آئے روز ایسے معاملات ہوتے رہتے ہیں اور مسلمان مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہیں وہاں کی سرکار کے کان میں جوں تک نہیں رینگتی اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ وہاں کی حکومت ہندو دیش کا نعرہ لگا کر اقتدار میں آئی ہے مودی کی سربراہی میں بی جے پی کی حکومت نے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی ایک نئی لہر شروع کی اور دن بدن تشدد بھرے واقعات میں اضافہ ہوتا گیا اس پر انتہا پسند ہندوؤں نے میڈیا وار شروع کی اور سوشل میڈیا پر تعصب کی انتہا کر دی جس کی وجہ سے مسلمان دکانداروں سے ہندوؤں نے سودا لینا بھی بند کر دیا
اب کرونا کو ہی لے لیں وہاں کے ہسپتالوں نے مسلمانوں کا کرونا ٹیسٹ کرنے سے انکار کیا اور ہندو اکثریتی علاقوں میں مسلمانوں کا آنا بند کر دیا گیا
بھارت میں متنازع شہریت قانون کے خلاف 24 فروری کو بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں اچانک یہ مظاہرے مذہبی فسادات کی شکل اختیار کر گئے تھے جب ہزاروں افراد نے نئی دہلی میں متنازع شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کیا جہاں ان پر اچانک انتہا پسند ہندوؤں اور شرپسند افراد نے حملہ کردیا جس کی وجہ سے مظاہرے مذہبی فسادات میں تبدیل ہوگئے ان فسادات کے دوران کم از کم 53 افراد ہلاک اور 400 سے زائد زخمی ہو گئے تھے جبکہ صرف شمال مشرقی دہلی میں فسادات کے دوران مسلمانوں کے گھر، دکانیں اور گاڑیوں کو ہدف بنایا گی اور 11 مساجد، 5 مدارس، مسلمانوں کی ایک درگاہ اور قبرستان پر حملہ کیا گیا اور انہیں نقصان پہنچایا گیا
ان فسادات کی اصل وجہ راشٹریہ سوائم سیوک سنگھ یا آر ایس ایس بھارت کی ایک ہندو تنظیم ہے یہ خود کو قوم پرست تنظیم قرار دیتی ہے لیکن یہ بھی دیکھا گیا کہ کئی دہشت گرد اور فرقہ وارانہ فسادات میں اس تنظیم کا ہاتھ رہا ہے آر ایس ایس کی حمایت یافتہ بی جے پی ہے
کرونا وائرس کی آڑ میں نہ صرف مسلمان طالب علموں کو گرفتار کیا جا چکا ہے بلکہ وہاں کے مسلمان دانشور اور صحافیوں کے خلاف بھی مقدمات درج کئے جا چکے ہیں اس کی وجہ صرف اور صرف ہندو انتہا پسند حکومت ہے یہ اسلاموفوبیا کی بدترین مثال ہےبھارتی فوج کے مظالم کی وجہ سے کشمیر میں مسلسل لاک ڈاؤن کی وجہ سے وہاں کی صورتحال انتہائی خراب ہوتی جارہی ہے اس صورتحال پر واشنگٹن میں ہونے والی ایک کانفرنس میں
بین الاقوامی ماہرین نے ہندوستان میں 20 کروڑ مسلمانوں کی نسل کشی کا خطرہ ظاہر کیا ہے۔
سربراہ جینوسائیڈ واچ ڈاکٹر گریگری سٹینٹن کا کہنا تھا کہ بھارت میں حقیقتاً مسلمانوں کی نسل کشی ہورہی ہے اور انسانیت کیخلاف منظم جرائم کا سلسلہ جاری ہے، کشمیر اور آسام میں مسلمانوں پر ظلم ان کے قتل عام سے پہلے کا مرحلہ تھا بابری مسجد کو گرانا اور مندر تعمیر کرنا اسی سلسلے کی کڑی ہے دہلی فسادات میں دہلی پولیس نے سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا اور ان پر اپنے خلاف ہی تشدد کا الزام لگایا گیاہندو تعصب تو کوئی نئی بات نہیں ہے سرسید احمد خان نے دو قومی نظریہ اسی بنیاد پر پیش کیا تھا
اردو اور ہندی زبان کے ہونے والے تنازعہ کی وجہ سے ہندو مسلم فسادات رونما ہوئے جس پر سر سید احمد خان کے خیالات نے انقلاب برپا کردیا جس کو بعد میں علامہ اقبال نے ایک مکمل ضابطہ حیات کے طور پر پیش کیا اور پھر قائد اعظم محمد علی جناح نے عملی جامہ پہنایا بھارتی مسلمانوں کی حالات زندگی دن بدن بدترین ہوتی جا رہی تھی اس سے نہ صرف دوسرے ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کے لیے باعث تشویش ہے
پاکستانی وزیراعظم عمران خان نے مختلف عالمی فورم پر اس کی نہ صرف مذمت کی ہے بلکہ بھارتی مسلمانوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا طیب اردگان نے کہا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی نسل کشی اب ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ اور یہ سب ہندوؤں کی ایما پر ہو رہا ہے
انکا کہنا ہے یہ لوگ کس طرح سے عالمی امن کی بات کر سکتے ہیں
بھارتی مسلمانوں کو اپنی اہمیت اور اپنی طاقت کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے اگر بیس کروڑ مسلمان ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو جائیں اور ان کو علامہ اقبال اور قائداعظم جیسی قیادت میسر ہوجائے تو کوئی شک نہیں وہ ایک علیحدہ وطن بنا سکتے کیوں کہ اس چیز کا حل صرف اور صرف دو قومی نظریے کی بنیاد ہے پاکستان بننے کے پہلے حالات کا جائزہ لیں تو مسلمانوں کا ایسی ہی صورتحال سے دوچار ہونا پڑا تھا