604

امریکی صدر جوبائیڈن

جو بائیڈن امریکه کے چھیالیسویں صدر منتخب ہوگئے ہیں۔77 سالہ بائیڈن اِس عہدے پر فائز ہونے والے سب سے عمر رسیدہ  امریکی ہیں۔ ریاست پینسلوینیا کے شہر سکرینٹن میں پیدا ہونے والے 77 سالہ جوبائیڈن نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز 1972 میں اس وقت کیا جب وہ ریاست ڈیلاور سے امریکی سینیٹ کے لیے پہلی مرتبہ منتخب ہوئے جو بائیڈن نے 1988 میں پہلی مرتبہ صدر کے لیے انتخاب کی دوڑ میں حصہ لیا لیکن وہ اس وقت اس سے پیچھے ہٹ گئے 2008 میں انہوں نے پھر اپنی قسمت آزمانے کی کوشش کی لیکن اس مرتبہ بھی ناکام رہے کیونکہ ڈیموکریٹک پارٹی نے باراک اوباما کو نامزد کردیا تھا تاہم بعد ازاں جو بائیڈن کو نائب صدر کے عہدے کے لیے نامزد کیا گیا اور انہوں نے اگلے 8 سال کے لیے اوباما کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ جوبائیڈن کو خارجہ پالیسی میں کافی تجربہ حاصل ہے جبکہ وہ اپنے کیریئر میں 2 مرتبہ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی صدارت بھی کرچکے ہیں اس کے علاوہ وہ عدلیہ پر قائم کمیٹی کے چیئرپرسن کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔انھوں نے رپبلکن امیدوار صدر ٹرمپ کے خلاف ایک سخت انتخابی مہم  میں شکست دی ہے  صدارتی انتخاب میں کام یابی کے بعد جو بائیڈن نے ٹوئٹ میں کہاہے کہ اہل امریکا میں اس عظیم ملک کی قیادت کرنے کے لیے اپنا انتخاب کرنے پر آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آپ نے مجھے چاہے ووٹ دیا ہو یا نہیں لیکن میں وعدہ کرتا ہوں آپ سب کا صدر بن کر دکھاؤں گا اور آپ نے مجھ پر جو اعتماد کیا ہے اسے پوراکروں گا۔ جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ  کورونا وائرس کی وبا پر قابو   میں لانا ان کی اولین ترجیح ہے ـ  سائنسدان اور ماہرین پر مشتمل  ٹیم بنائیں  گے جو  بائیڈن۔ہیرس منصوبے  پر عمل درآمد کرے گی جس کا آغاز 20 جنوری 2021 سے ہوگا۔ اور یہ  منصوبہ ہنگامی اور سائنسی بنیادوں پر ہوگا۔ صدارتی انتخابات کی تاریخ میں سات کروڑ چالیس لاکھ سے زیادہ ووٹ حاصل کر کے سب سے زیادہ ووٹ لینے والے صدر بن گئے اس سے قبل 2008 میں باراک اوباما نے چھ کروڑ نوے لاکھ ووٹ حاصل کیے تھے اوړ نائب صدارت کے لیے کام یاب ہونی والی کملا ہیرس بھی امریکی تاریخ کی پہلی خاتون اور سیاہ فام نائب صدر بن گئی ہیں۔ امریکہ میں صدارتی امیدواروں کو جیت حاصل کرنے کے لیے 538 ای سی ووٹ میں سے کم از کم 270 ووٹ حاصل کرنا لازمی ہوتا ہے۔  وہ جنوری میں امریکہ کے 46ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔لبرل نظریات کے مالک افراد کے دباؤ کے باوجود بائیڈن نے درمیانے خیالات کی بنیاد پر انتخابی حکمتِ عملی بنائی اور سب کے لیے سرکاری ہیلتھ کیئر، مفت کالج ایجوکیشن یا مجموعی اثاثوں پر ٹیکس جیسی پالیسیوں کی کبھی بھی حمایت نہیں کی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی درمیانے خیالات رکھنے والے افراد میں مقبولیت میں اضافہ ہواجو بائیڈن  اپنی صدارت کے پہلے 100 دنوں میں صدر ٹرمپ کی ان پالیسوں کو ختم کر دیں گے جو میکسیکو کی سرحد پر  آنے والے تارکین وطن  کو اپنے بچوں علیحدہ کرتی ہیں۔اوړ امریکہ میں پناہ کی درخواستوں پر لگائی گئی   پابندیوں اور مسلمان ممالک کے شہریوں کی امریکہ آمد پر پابندیوں کو ختم کر دیں۔ویزا اصلاحات  میں تارکین وطن کے لیے جن کی تعداد  تقریبا ایک کروڑ 10 لاکھ ہیں اور ان کے پاس  دستاویز نہیں ہے ان کو شہریت فراہم کرنے کے لیے قانون سازی کا عندیہ دیا گیا ہے ۔ پہلے سال کے دوران مہاجرین کے سالانہ داخل ہونے کی تعداد کو ایک لاکھ 25 ہزار تک بڑھانا  اس میں شامل ہےوہ کہتے ہیں کہ وہ صدر اوباما کے دور میں شروع کیے پروگرام ’ڈریمر‘ کو بھی دوباړه شروع کریں گے جس کے تحت غیر قانونی طور پر امریکہ میں لائے گئے بچوں کو امریکہ میں رہنے کی اجازت دی گئی تھی۔وہ کہتے ہیں کہ وہ اس بات کو بھی یقینی بنائیں گے کہ ان ’ڈریمرز‘ کو طلبہ کے لیے وفاقی امداد حاصل ہوسکے اور اس کے ساتھ ساتھ پرائمری اور کالج کی تعلیم کو مفت دیا جائے گا جو بائیڈن کی طرف سے ایسے کالجوں میں اضافے کا وعدہ کیا گیا ہے جہاں مفت تعلیم دی جائے گی۔ ان کی جانب سے طلبہ کے قرضوں کو معاف کرنے اور پری سکول کی تعلیم تک سب کی رسائی کا وعدہ ڈیموکریٹ پارٹی میں بہت مقبول ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اس پالیسی پر عمل درآمد کے لیے ضروری فنڈز کے لیے وہ ٹرمپ دور میں ٹیکسوں میں دی گئی چھوٹ کو ختم کر کے پورا کریں گے۔جو بائیڈن نے کہا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں نسل پرستی کی سوچ موجود ہے اور امریکہ کو اس مسئلے پر قابو پانے کے لے اقلیتوں کی مدد کے لیے معاشی اور سماجی پروگرام ترتیب دینے کی ضرورت ہے۔

جو بائیڈن نے اقلیتوں کی کاروباری مدد کے لیے 30 ارب ڈالر کا ایک فنڈ قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔اور وہ صدر اوباما کے دور میں صحت عامہ میں اصلاحات کو توسیع دیں گے جس کے تحت 97 فیصد امریکی اس ہیلتھ انشورنس سے مستفید ہو سکیں گے۔

جو بائیڈن وعدہ کرتے ہیں کہ وہ تمام امریکی شہریوں کو پبلک ہیلتھ انشورنس کا حصہ بننے کا موقع دیں گے، وہ قید و بند کو کم کرنے ، لازمی سزاؤں کو ختم کرنے اور  بھنگ کے استعمال کو جائز قرار دینے اور چرس کے استعمال پر دی گئی سزاؤں اور موت کی سزا کو ختم کرنے کے لیے وہ 20 ارب ڈالر کی لاگت سے ایک پروگرام شروع کریں گے وہ کمیونٹی پولیس کے لیے 300 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی بات کرتے ہیں۔امریکہ کے سابق صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ ان کے سابق نائب صدر تمام ’غیر معمولی چیلنجز‘ کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں جن میں ایک وبائی مرض، غیر مساوی معیشت اور انصاف کا نظام، خطرے سے دوچار جمہوریت اور ماحول کو درپیش چیلنجز شامل ہیں۔

بشکریہ اردو کالمز