کرونا کی وبا میں دو سے زیادہ لوگ گپ شپ کے لیے اکٹھے ہو جائیں تو اس کو کرونا مستی کہتے ہیں جیسے جیسے کرونا بڑھتا جا رہا ہے ہمارے ملک میں کرونا مستی بھی بڑھتی جا رہی ہے کسی گاؤں میں چلے جاؤ تو یہ سوال پوچھا جاتا ہے کرونا ہے یا ایسے ہی شوشہ چھوڑا ہوا ہے لاہور جیسے شہر کا یہ حال ہے کے ماسک نہ لگانے کی مہم زور پکڑ رہی ہیں
دوسری طرف یہ حال ہے کہ دن بدن مرنے والوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے ان میں ہماری قوم کے وہ ہیرے شامل ہیں جو ملک و قوم کی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے تھے لیکن پاکستانی قوم نے ماسک نہ پہننے کی قسم کھا رکھی ہے کسی شادی میں چلے جائیں یا جنازہ پڑھنےیا جمعہ کی نماز پڑھنے مسجد میں چلے جائیں یا مارکیٹوں میں خریداری کرنے لیے چلے جائیں تو ہر جگہ ایسا لگتا ہے کہ کرونا کا کہیں نام و نشان ہی نہیں ہے کرونا کی پہلی لہر میں سردیوں کا اختتام ہو رہا تھا اس لیے پاکستان میں شرح اموات دوسرے ممالک سے کم رہی ہیں اب شدید سردی میں اس کی دوسری لہر ہے جس میں انتہائی سنگین حالات پیدا ہو سکتے ہیں موجودہ حکومت بھی انتہائی اقدام اٹھانے سے قاصر نظر آ رہی ہے دوسرے ممالک کی طرح جرمانے اور اس کی روک تھام کے لیے کیے گئے اقدامات انتہائی ناقص ہیں
اپوزیشن والے تو کرونا مستی کا شدید شکار دکھائی دیتے ہیں وہ جلسے جلوسوں میں کرونا کے پھیلاؤ میں پیش پیش ہیں اور ان کے لیڈران جلسے کے دوران کی گئی تقړیروں میں کرونا سے بچاؤ کی تلقین کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جلسے کے انتظامات پر کروڑوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں لیکن عوام کے لئے جلسوں میں ماسک اور سینیٹائزر کا انتظام گناہ کبیرہ کے مترادف سمجھتے ہیں
حال ہی میں مائیکرو سافٹ کے سربراہ بل گیٹس نے ایک انٹرویو میں آنے والے چار سے چھ ماہ کرونا وبا کے لیے انتہائی سنگین قرار دیئے ہیں
ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے کرونا سے نکلنے پر حکومتی اقدامات پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے کہ کرونا کی وبا نے حکمراں اداروں اور حکومتی اشرافیہ عوام کا اعتماد حاصل نہیں کر سکے
کرونا کے دوسری شدید لہر کے دوران اگر پاکستان میں حالات بگڑے تو ہمارے پاس انتظامات انتہائی کم ہیں کیسز بڑھنے سے اسپتالوں میں سہولتیں ناپید ہونے کا خدشہ ہے، پنجاب میں 1280 وینٹی لیٹرز 5 ہزار سے زائد آکسیجن بیڈز موجود ہیں میو ہسپتال میں سب سے زیادہ 75 وینٹی لیٹرز کرونا کیلئے مختص ہیں لاہور سے شہر میں یہ انتظامات کرونا کی بڑھتی ہوئی صورتحال میں انتہائی کم ہیں دوسری لہر میں دسمبر کے آخر میں شدت آسکتی ہے بچوں ضعیف افراد میں نمونیا سےاموات بڑھ سکتی ہیں ایسی صورتحال میں ویکسین کا کوئی آثار نہیں نظر آ رہا ہیں احتیاطی تدابیر ہی ویکسین ہے کوروناکی مقامی منتقلی روکنے کیلئےضروری خود کو محدود رکھا جائے اور کرونا مستی سے دور رہا جائے کیونکہ انسانی جان کا دنیا میں کوئی بھی نعم البدل نہیں ہے