پہاڑوں سے انسانی تعلق رومانویت سے زیادہ روحانیت پر مشتمل ہے جب ایک دفعہ ان سے تار جڑ جاتے ہیں آپ کہیں بھی ہو ہو کوئی بھی ایسی تصویر کوئی ایسی خبر پر آپ کی توجہ کو ایک دم کھینچ لیتی ہے اسی لیے پیغمبر اولیاء اللہ سادھو یوگی یکسوئی کو حاصل کرنے کے لیے پہاڑوں کا رخ کرتے
ان سے نکلنے والی لہریں ان سے پیار کرنے والوں کو ہمیشہ بے چین رکھتی ہیں ایسے ہی 24 فروری کو اچانک سوشل میڈیا پر خبر چلی کہ سردیوں میں کےٹو کو سر کرنے کے لئے ایک ٹیم اپنی منزل کی طرف گامزن ہے اور سردیوں میں پہلی دفعہ ہو رہا تھا کےٹو فتح ہوگا ہونا کیا تھا کےٹو پرانے عشق کی طرح سامنے کھڑا ہو گیا پھر کیا سارے ٹریک اور موسم کے بارے میں معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی انگریزی بھی کیا زبان ہے ایک لفظ میں پورے فقرے کا مفہوم بیان کر دیتی ہے پہاڑوں میں مارے مارے پھرنے والوں کو orophile بنا دیتی ہے یعنی پہاڑ سے محبت کرنے والا شخص
اس میں سارا قصور مستنصر حسین تارڑ کا ہے جو ان منچلوں کو اپنے حصار میں لے کر کےٹو نانگا پربت راکا پوشی کے آنگن میں اکیلا چھوڑ کر وہاں سے غائب ہو جاتا ہے اور پہاڑ اپنے اندر گنگناتے رہتے ہیں ان کو دیکھ کے جو بھی گیت آپ کے ذہن میں آتا ہے وہ یقینا پہاڑوں نے گنگنایا ہوگا
کےٹو کو دیکھ کے کے میرے ذہن میں گلزار کا ایک ہی گیت آتا ہے
اس دل میں بس کے دیکھو تو
یہ شہر بڑا پرانا ہے
محمد علی سدپارہ کانام پہاڑوں کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہیں نہیں پھر آکسیجن کے بغیر کے کو فتح کرنا یہ سچ ہے یا جھوٹ لیکن ہے چھپر پھاڑ اور سردیوں میں منفی پچاس سے کم درجہ حرارت 70 کلومیٹر سے زیادہ چلتی تیز ہواؤں اور برف باری
سردیوں میں منفی پچاس سے کم درجہ حرارت اور برف پر برفباری کچھ بھی نہیں اوپر سونے پر سہاگا ڈیتھ ریٹ 29 فیصد یعنی چار کو پیماں میں سے ایک کی موت یقینی
دنیا میں 82 سو میٹر سے اونچی صرف 14 پہاڑ ہیں ہیں ان میں سے پانچ پاکستان میں واقع ہیں محمد علی سدپارہ نے ان میں سے آٹھ پہاڑ سر کیے یے اور اس منفرد اعزاز کی طرف رواں دواں تھے جو صرف 43 کو پیماؤں کو نصیب ہوا تھا جنہوں نے ان 14 پہاڑوں کو فتح کیا کےٹو کی محبت کی تسخیر بھی عجیب ہے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ 4466 سے زیادہ مرتبہ ہوا سر ہوچکا یا مگر کے ٹو پر پہنچنے والے تقریبا تین سو لوگ ہیں ہیں یہ اپنے قریب لوگوں کو کم ہی آنے دیتا ہے
دن گزرتے جا رہے تھے تھے سوشل میڈیا یا اور دوسرے جتنے بھی میڈیم ہیں ان میں سے ان خبروں کی تلاش جاری تھی کہ بات کہاں تک پہنچی 4 فروری کو اطلاع ملی کے پانچ فروری والے دن
کے ٹو فتح کرنے کی مہم اپنی آخری مراحل میں داخل ہونے والی ہےپھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا کوہ پیما علی سدپارہ ،
جان سنوری اور جون پیبلو جو موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی مہم پہ تھے ان سے رابطہ بیس کیمپ کا منقطع ہو گیا کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے پاکستان آرمی کا ریسکیو مشن جاری ہے
اس مہم کی خاص بات یہ تھی کہ محمد علی صدپاری اور اس کا بیٹا ساجد اس کے شانہ بشانہ کےٹو کو فتح کرنے کے لیے گامزن تھا لیکن bottle neck کے مقام پر ساجد کا آکسیجن ریگولیٹر خراب ہوگیا جس کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہونے لگی تو اس نے واپسی کا فیصلہ کیااگرچہ 48 گھنٹے سے زیادہ کسی کوہ پیما کے 8000 میٹر سے اونچائی پر زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں لیکن ڈیتھ زون کےٹو کو فتح کرنے کے قریب ایک جگہ ہے طبی ماہرین کے مطابق انسانی جسم سطح سمندر سے 2100 میٹر تک کی بُلندی پر رہنے کے لیے بنا ہے اور اس سے زیادہ بلندی پر انسانی جسم آکسیجن کی کمی کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے ہائپوکسیا یعنی آکسیجن کی کمی کے ساتھ دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے خون گاڑھا ہو کر جمنے لگتا ہے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے زیادہ خراب حالت میں کوہ پیماؤں کے پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے اور وہ ہائی ایلٹیٹیوٹ سیریبل انیڈما (HACE) کا شکار ہو سکتے ہیں انھیں خون کے ساتھ یا اس کے بغیر کھانسی آنے لگتی ہے اور ان کا نظام تنفس بری طرح متاثر ہوتا ہے ایسی حالت میں بیشتر کوہ پیماؤں کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے انھیں عجیب ہذیانی خیالات آتے ہی
اس سب میں سے ایک دیوانہ ہی گزر سکتا ہے آنے والا وقت بتائے گا کہ محمد علی سدپارہ اور اس کے ساتھیوں نے کے ٹو کو فتح کیا یا ان کو کےٹو نے فتح کر لیا
پاکستان کا جھنڈا لے کر جانے والا محمد علی سدپاری کےٹو کی برفوں میں کہیں گم ہے اکثر کہا کرتا تھا
کسی دن اگر میں ان پہاڑوں میں کھو جاؤں تو پریشان مت ہونا.؛ میں برف میں گھر بنا کر رہ لونگا اور واپس لوٹ آونگا