708

 کےٹو کے مسافر

 

پہاڑوں سے انسانی تعلق رومانویت سے زیادہ روحانیت پر مشتمل ہے جب ایک دفعہ ان سے تار جڑ جاتے ہیں آپ کہیں بھی ہو ہو کوئی بھی ایسی تصویر  کوئی ایسی خبر پر آپ کی توجہ کو ایک دم کھینچ لیتی ہے اسی لیے پیغمبر اولیاء اللہ سادھو یوگی یکسوئی کو حاصل کرنے کے لیے پہاڑوں کا رخ کرتے

 ان سے نکلنے والی لہریں ان سے پیار کرنے والوں کو ہمیشہ بے چین رکھتی ہیں ایسے ہی 24 فروری کو اچانک سوشل میڈیا پر خبر چلی کہ سردیوں میں کےٹو کو سر کرنے کے لئے ایک ٹیم اپنی منزل کی طرف گامزن ہے اور سردیوں میں پہلی دفعہ ہو رہا تھا کےٹو فتح ہوگا  ہونا کیا تھا کےٹو پرانے عشق کی طرح سامنے کھڑا ہو گیا  پھر کیا سارے ٹریک اور موسم کے بارے میں معلومات تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کی انگریزی بھی کیا زبان ہے ایک لفظ میں پورے فقرے کا مفہوم بیان کر دیتی ہے پہاڑوں میں مارے مارے پھرنے والوں کو orophile بنا دیتی ہے یعنی پہاڑ سے محبت کرنے والا شخص

اس میں سارا قصور مستنصر حسین تارڑ کا ہے جو ان منچلوں کو اپنے حصار میں لے کر کےٹو نانگا پربت راکا پوشی کے آنگن میں اکیلا چھوڑ کر وہاں سے غائب ہو جاتا ہے اور پہاڑ اپنے اندر گنگناتے رہتے ہیں ان کو دیکھ کے جو بھی گیت آپ کے ذہن میں آتا ہے وہ یقینا پہاڑوں نے گنگنایا ہوگا

کےٹو کو دیکھ کے کے میرے ذہن میں گلزار کا ایک ہی گیت آتا ہے

اس دل میں بس کے دیکھو تو

یہ شہر بڑا پرانا ہے

محمد علی سدپارہ کانام پہاڑوں کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہیں نہیں پھر آکسیجن کے بغیر کے کو فتح کرنا یہ سچ ہے یا جھوٹ لیکن ہے چھپر پھاڑ اور سردیوں میں منفی پچاس سے کم درجہ حرارت 70 کلومیٹر سے زیادہ چلتی تیز ہواؤں اور برف باری

 سردیوں میں منفی پچاس سے کم درجہ حرارت اور برف پر برفباری کچھ بھی نہیں اوپر سونے پر سہاگا ڈیتھ ریٹ 29 فیصد یعنی چار کو پیماں میں سے ایک کی موت یقینی

دنیا میں 82 سو میٹر سے اونچی صرف 14 پہاڑ ہیں ہیں ان میں سے پانچ پاکستان میں واقع ہیں محمد علی سدپارہ نے ان میں سے آٹھ پہاڑ سر کیے یے اور اس منفرد اعزاز کی طرف رواں دواں تھے جو صرف 43 کو پیماؤں کو نصیب ہوا تھا جنہوں نے ان 14 پہاڑوں  کو فتح کیا  کےٹو کی محبت کی تسخیر بھی عجیب ہے دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ  4466 سے زیادہ مرتبہ ہوا سر ہوچکا یا مگر کے ٹو پر  پہنچنے والے تقریبا تین سو لوگ ہیں ہیں یہ اپنے قریب لوگوں کو کم ہی آنے دیتا ہے

دن گزرتے جا رہے تھے تھے سوشل میڈیا یا اور دوسرے جتنے بھی میڈیم ہیں ان میں سے ان خبروں کی تلاش جاری تھی کہ بات کہاں تک پہنچی 4  فروری کو اطلاع ملی کے پانچ فروری والے دن

کے ٹو فتح کرنے کی مہم اپنی آخری مراحل میں داخل ہونے والی ہےپھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا کوہ پیما علی سدپارہ ،

جان سنوری اور جون پیبلو جو موسم سرما میں کے ٹو سر کرنے کی مہم پہ تھے  ان سے رابطہ بیس کیمپ کا منقطع ہو گیا کوہ پیماؤں کی تلاش کے لیے پاکستان آرمی کا ریسکیو مشن جاری ہے

اس مہم کی خاص بات یہ تھی کہ محمد علی صدپاری اور اس کا بیٹا ساجد اس کے شانہ بشانہ کےٹو کو فتح کرنے کے لیے گامزن تھا لیکن bottle neck کے مقام پر ساجد کا آکسیجن ریگولیٹر خراب ہوگیا جس کی وجہ سے اس کی طبیعت خراب ہونے لگی تو اس نے واپسی کا فیصلہ کیااگرچہ 48 گھنٹے سے زیادہ کسی کوہ پیما کے 8000 میٹر سے اونچائی پر زندہ رہنے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں لیکن ڈیتھ زون کےٹو کو فتح کرنے کے قریب ایک جگہ ہے طبی ماہرین کے مطابق انسانی جسم سطح سمندر سے 2100 میٹر تک کی بُلندی پر رہنے کے لیے بنا ہے اور اس سے زیادہ بلندی پر انسانی جسم آکسیجن کی کمی کا شکار ہونا شروع ہو جاتا ہے ہائپوکسیا یعنی آکسیجن کی کمی کے ساتھ دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے خون گاڑھا ہو کر جمنے لگتا ہے اور فالج کا خطرہ بڑھ جاتا ہے زیادہ خراب حالت میں کوہ پیماؤں کے پھیپھڑوں میں پانی بھر جاتا ہے اور وہ ہائی ایلٹیٹیوٹ سیریبل انیڈما (HACE) کا شکار ہو سکتے ہیں انھیں خون کے ساتھ یا اس کے بغیر کھانسی آنے لگتی ہے اور ان کا نظام تنفس بری طرح متاثر ہوتا ہے ایسی حالت میں بیشتر کوہ پیماؤں کا دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے  ان میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم ہو جاتی ہے انھیں عجیب ہذیانی خیالات آتے ہی

اس سب میں سے ایک دیوانہ ہی گزر سکتا ہے آنے والا وقت بتائے گا کہ  محمد علی سدپارہ اور اس کے ساتھیوں نے کے ٹو کو فتح کیا یا ان کو کےٹو نے فتح کر لیا

پاکستان کا جھنڈا لے کر جانے والا محمد علی سدپاری کےٹو کی برفوں میں کہیں گم ہے اکثر کہا کرتا تھا

 کسی دن اگر میں ان پہاڑوں میں کھو جاؤں تو پریشان مت ہونا.؛ میں برف میں گھر بنا کر رہ لونگا اور واپس لوٹ آونگا

بشکریہ اردو کالمز