511

گورنر پنجاب چوہدری محمد سرور

 

 برطانوی پارلیمان کے پہلے مسلمان  رکن اور تین بار گلاسکو سے پارلیمان کے رکن منتخب ہونے کے بعد  پاکستان میں پنجاب کے  تیتیسویں گورنر ہیں

برطانیہ میں کامیاب کاروبار  اور ایک کامیاب سیاستدان لیکن  برطانوی شہریت پاکستان کی محبت میں  ترک کرنا  کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا  اور  وہ ایک کامیاب گورنر کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں 2 اگست 2013   سے 29 جنوری 2015  جب وہ نون لیگ کی طرف سے پنجاب کے گورنر تھے تو ان کی صلاحیتوں سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا

 تعلیم اور صحت کے شعبہ جات میں ان کی سماجی خدمات قابل ذکر ہیں  نہ صرف برطانیہ میں بلکہ پنجاب میں انتہائی محنت اور لگن سے اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں 2020 میں جب کرونا آیا تو عوام کے ذہنوں پر اس کے اثرات سے بچنے کے لئے پہلی پنجاب مینٹل ہیلتھ ٹیلی میڈیسن ہیلپ لائن  اڑتالیس گھنٹے میں قائم کرکے نا صرف لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچایا  جہاں ہسپتالوں میں ایمرجنسی بند تھی  وہاں گھر بیٹھے ہوئے لاکھوں لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات سے مستفید ہوئے

گورنر ہاؤس میں چوہدری سرور کی ہدایت پر ایک کرونا وال تعمیر  کی گئی ہے  جس پر ان تمام  هیروز کے نام درج ہیں جنہوں نے  کرونا  وبا میں خاطر خواہ خدمات سر انجام دی ہیں ان میں ڈاکٹرز  اور دیگر شعبوں میں سے افراد شامل ہیں چوہدری سرور  تعلیم کے شعبے میں  برطانیہ میں خدمات  سرانجام دیتے رہے ہیں بحثیت گورنر بھی انھوں نے تعلیم خاص طور پر سکول نہ جانے والے لاکھوں بچوں کے لیے کام کرنے کا عندیہ دیا ہے

برطانیہ میں تھے تو وہاں پہ رہنے والے پاکستانی بچوں کا تعلیمی معیار انتہائی کم ہوتا جا رہا تھا بنگلہ دیشی اور بھارتی بچے تعلیمی معیار ان میں آگے  نکلتے جا رہے تھے

اس کی وجہ پتہ چلانے کے لیے وہاں پر نہ صرف  اسکولوں میں جا کے ہیڈ ماسٹرز سے ملاقات کی اور ان کو اس بارے میں  سوالات کیے اور پتہ چلا کہ پاکستانی والدین میں اور سکول  میں عدم تعاون کے خلیج ہے  پاکستانی والدین  پیرنٹ ٹیچر میٹنگ  میں نہیں آتے  انہیں نہیں پتا ہوتا کہ ان کا بچہ اسکول آیا ہے یا نہیں آیا  اور انگریزی زبان کا ایک سب سے بڑا مسئلہ  درپیش ہے  ان مسائل کا ناصرف ف حل سوچا  بلکہ والدین کو  اسکول کے ساتھ رابطے کو یقینی بنایا اور انگریزی زبان کے مسئلہ کے حل کے لیے ٹیوٹرز کا بھی بندوبست کیا

چوہدری سرور انتہائی مذہب  صلح جو اور نفیس شخصیت کے مالک ہیں ان کے نزدیک سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں وہ مصالحتی سیاسی سوچ رکھتے ہیں جس کے تحت  وہ اکثر اپوزیشن کو  مصالحتی سیاسی حل نکالنے کی بات کرتے ہیں

چوہدری سرور  سوشل میڈیا کے بے لگام گھوڑے کے بارے میں  فکر مند ہیں  ان کے خیال میں اس کو قابو کرنے کے لیے مناسب حکمت عملی ترتیب دی جانی چاہیے تاکہ عوام کو صحیح آگاہی  مل سکے

برطانیہ میں سیاسی تجربہ اور پنجاب کے گورنر کی حیثیت سے اب  وہ پاکستان کی سیاست کی جڑوں تک جان چکے ہیں  صحت اور تعلیم کے  شعبہ جات میں انکی  خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہےاور یہ بات بعید نہیں ہے  کے مستقبل میں کسی بھی اہم پوزیشن کے لیے بہترین  انتخاب ہیں

بشکریہ اردو کالمز