برطانوی پارلیمان کے پہلے مسلمان رکن اور تین بار گلاسکو سے پارلیمان کے رکن منتخب ہونے کے بعد پاکستان میں پنجاب کے تیتیسویں گورنر ہیں
برطانیہ میں کامیاب کاروبار اور ایک کامیاب سیاستدان لیکن برطانوی شہریت پاکستان کی محبت میں ترک کرنا کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا اور وہ ایک کامیاب گورنر کی حیثیت سے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں 2 اگست 2013 سے 29 جنوری 2015 جب وہ نون لیگ کی طرف سے پنجاب کے گورنر تھے تو ان کی صلاحیتوں سے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا جا سکا
تعلیم اور صحت کے شعبہ جات میں ان کی سماجی خدمات قابل ذکر ہیں نہ صرف برطانیہ میں بلکہ پنجاب میں انتہائی محنت اور لگن سے اپنا کام سرانجام دے رہے ہیں 2020 میں جب کرونا آیا تو عوام کے ذہنوں پر اس کے اثرات سے بچنے کے لئے پہلی پنجاب مینٹل ہیلتھ ٹیلی میڈیسن ہیلپ لائن اڑتالیس گھنٹے میں قائم کرکے نا صرف لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچایا جہاں ہسپتالوں میں ایمرجنسی بند تھی وہاں گھر بیٹھے ہوئے لاکھوں لوگوں کو علاج معالجے کی سہولیات سے مستفید ہوئے
گورنر ہاؤس میں چوہدری سرور کی ہدایت پر ایک کرونا وال تعمیر کی گئی ہے جس پر ان تمام هیروز کے نام درج ہیں جنہوں نے کرونا وبا میں خاطر خواہ خدمات سر انجام دی ہیں ان میں ڈاکٹرز اور دیگر شعبوں میں سے افراد شامل ہیں چوہدری سرور تعلیم کے شعبے میں برطانیہ میں خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں بحثیت گورنر بھی انھوں نے تعلیم خاص طور پر سکول نہ جانے والے لاکھوں بچوں کے لیے کام کرنے کا عندیہ دیا ہے
برطانیہ میں تھے تو وہاں پہ رہنے والے پاکستانی بچوں کا تعلیمی معیار انتہائی کم ہوتا جا رہا تھا بنگلہ دیشی اور بھارتی بچے تعلیمی معیار ان میں آگے نکلتے جا رہے تھے
اس کی وجہ پتہ چلانے کے لیے وہاں پر نہ صرف اسکولوں میں جا کے ہیڈ ماسٹرز سے ملاقات کی اور ان کو اس بارے میں سوالات کیے اور پتہ چلا کہ پاکستانی والدین میں اور سکول میں عدم تعاون کے خلیج ہے پاکستانی والدین پیرنٹ ٹیچر میٹنگ میں نہیں آتے انہیں نہیں پتا ہوتا کہ ان کا بچہ اسکول آیا ہے یا نہیں آیا اور انگریزی زبان کا ایک سب سے بڑا مسئلہ درپیش ہے ان مسائل کا ناصرف ف حل سوچا بلکہ والدین کو اسکول کے ساتھ رابطے کو یقینی بنایا اور انگریزی زبان کے مسئلہ کے حل کے لیے ٹیوٹرز کا بھی بندوبست کیا
چوہدری سرور انتہائی مذہب صلح جو اور نفیس شخصیت کے مالک ہیں ان کے نزدیک سیاست میں کچھ بھی حرف آخر نہیں وہ مصالحتی سیاسی سوچ رکھتے ہیں جس کے تحت وہ اکثر اپوزیشن کو مصالحتی سیاسی حل نکالنے کی بات کرتے ہیں
چوہدری سرور سوشل میڈیا کے بے لگام گھوڑے کے بارے میں فکر مند ہیں ان کے خیال میں اس کو قابو کرنے کے لیے مناسب حکمت عملی ترتیب دی جانی چاہیے تاکہ عوام کو صحیح آگاہی مل سکے
برطانیہ میں سیاسی تجربہ اور پنجاب کے گورنر کی حیثیت سے اب وہ پاکستان کی سیاست کی جڑوں تک جان چکے ہیں صحت اور تعلیم کے شعبہ جات میں انکی خدمات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہےاور یہ بات بعید نہیں ہے کے مستقبل میں کسی بھی اہم پوزیشن کے لیے بہترین انتخاب ہیں