چوڑیاں پاکستان کی سپر ہٹ فلم تھی 1998 میں یہ ریلیز ہوئی اور اس نے اندرون اور بیرون ملک کمال کا بزنس کیا دوسرے شہر سے کچھ دوست ملنے آئے تو سب نے مل کر فلم دیکھنے کا پروگرام بنایا جب لکشمی چوک پر اترے تو سینما گھروں کے بار رش قابل دید تھا بہرحال کافی تگ و دو کے بعد ٹکٹ نہ مل سکی فلم ہاؤس فل جا رہی تھی خیر تھک ہار کر لکشمی چوک کے ایک ہوٹل میں بیٹھ کر 90 کی شروع کی دہائی کو یاد کر رہے تھے جب اتوار کے دن گیارہ بجے سٹوڈنٹس شو ہوتا تھا وہاں پر ٹکٹ حاصل کرنا ایک مشکل مرحلہ تھا بھیڑ میں زیادہ ہوتی تھی الفلاح پلازہ جیسے سینما گھروں میں عمومی طور پر انگلش فلمیں لگتی تھی کھانا کھانے کے دوران ہم فلم پہ باتیں کر رہے تھے اور فلم کی ٹکٹ نہ ملنے پر افسوس اور رش دیکھ کر حیران ہو رہے تھے اسی اثناء میں ایک صاحب جو ساتھ والے میز پر بیٹھے ہمارے درمیان ہونے والی گفتگو سن رہے تھے انہوں نے ہم سے مخاطب ہو کہا کیا میں آپ کی گفتگو میں شریک ہو سکتا ہوں اور ہم نے ان کو اپنے میز پہ آنے کی دعوت دی دوران گفتگو میں پتہ چلا کہ وہ فلم انڈسٹری میں ساؤنڈ ریکارڈنگ کے شعبہ سے وابستہ تھے انہوں نے ہمیں بتایا کہ تیس سال سے وہ یہ کام کر رہے ہیں اور پشین گوئی کی کہ یہ پاکستان کی فلم کا آخری رش کا دور آپ دیکھ رہے ہیں اس کے بعد پاکستانی فلمی صنعت ویسے ہی زوال پذیر ہوجائے گی ہم لوگوں نے بڑی حیرانگی سے ان سے اس کی وجہ پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ کہ آپ نے سینما میں آئے ہوئے لوگوں کو دیکھا ہیں اور ایک بات نوٹ کی ہے کہ ان میں خواتین کی تعداد نہ ہونے کے برابر اور زیادہ تر رکشہ ڈرائیور اور مزدور غرض ایک طرح کے لوگ تھے بیٹا فلم سب کے لئے بنتی ہے تاکہ ہر طرح کے لوگ اس کو دیکھنے سینما گھروں کا رخ کریں کسی بھی فلم کی کامیابی اور اس کے امر ہونے کے لیے یہ بات ضروری ہے انیس سو ساٹھ کی دہائی میں بہترین فلمیں بنیں کیونکہ مشرقی پاکستان کے اشتراک سے فلمیں بنتی ستر کی دہائی بھی بہترین رہی اس کے بعد کیا ہوا پاکستانی فلمى صنعت آہستہ آہستہ زوال کا شکار ہوتے ہوتے محدود ہوگئی
انیس سواسی کی دہائی میں فلم صنعت کی زوال پذیری جرنل ضیاءالحق کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے بہت پہلے شروع ہو چکی تھی بعد میں گنڈاسے کے دور نے فلم کو کو مخصوص لوگوں تک محدود کر دیا
1960 کی دہائی میں پورے ملک میں ڈیڑھ ہزار سینما گھر اور اس میں نمائش کیلئے پیش جانے والی کم از کم 300 فلم ہوتی تھی صرف کراچی میں کم از کم سو سے زیادہ سینما گھر تھے وہاں کے لوگ اردو فلموں کے شوقین زیادہ تھے اس لیے اردو فلمیں وہاں پہ کامیابی کی ضمانت سمجھی جاتی تھی1996 کے بعد ملک بھر میں 1200 سنیما گھروں میں محض 150 سنیما ہی حوادثِ زمانہ سے بچ سکے کئی پرانے سنیما پلازوں اور پارکنگ میں بدل گئے اَیورنیو سٹوڈیو، باری سٹوڈیو، شاہ نور سٹوڈیو اجاڑ بیابانوں میں تبدیل ہو گئے بوسیدہ مشینری فرسودہ فلمی تکنیکی سامان اور سہولیات کے فقدان نے رہی سہی کسر پوری کر دی اور یوں نگار خانے ویران ہو گئے وہاں پہ جگہ اب ہاؤسنگ سوسائٹی نے لے لی ہے
اچھی فلمیں کہانیوں کی کی کمی کے کی وجہ سے فلمیں کی تعداد محدود ہوگئی اور سینما گھروں کی تعداد بھی انتہائی کم ہوگئی فلمى صنعت زوال کا دور 2013 تک رہا اس کو کم کرنے نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ ناپا نے اپنے ہونہار طالب علموں کے ذریعے اس جمود کو توڑا
شعیب منصور کی فلم بول نے پاکستان کی فلم انڈسٹری کو جلا بخشی پھر ہر نئی فلم نے کروڑ روپے کمائے نئے آنے والے فلمی صنعت کے تمام لوگ اس بات سے آگاہ ہیں کے فلم کے ہر شعبے میں کوئی کمی نہیں رہنی چاہیے وہ جدت اور جدید دور کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے فلم بناتے ہیں اور پھر پیسہ کماتے ہیں اب سینما گھر بی جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہے ضرورت صرف اس بات کی ہے کے اس کو مزید بہتر بنانے کے لئے حکومتی سرپرستی کرے تاکہ کامیابیوں کا یہ سلسلہ جاری رہے