ایمبولینس آ کے رکی تو رونے کی آوازیں بلند ہونے لگیں صبح کے چار بج رہے تھے اردگرد کے لوگ شاید اسی انتظار میں تھے کہ وہ فوری اکٹھے ہوگئے تابوت پے سفید کپڑا لپٹا ہوا تھا اور اس کو مزید بہتر بنانے کیلئے اس پر مومى لفافے کی ایک ته چڑھائی گئی تھی چار سے پانچ لوگوں نے تابوت کو ایمبولینس سے اتارا اور گھر کے اندر لے جا کر ایک بڑے میز پر رکھ دیا ماں اور بہنوں کا رونا دیکھا نہیں جا رہا تھا غرض کے سارے لوگ اشک بار تھےکیوں نہ ہوتے عمر بھی زیادہ نہیں تھی اور ملائیشیا روانہ ہونے سے کچھ دن پہلے مجھ سے ملا اور نہایت خوشی سے بتانے لگا کہ بھائی جان ملائیشیا کا ویزا مل گیا اب انشاءاللہ زندگی رہی تو آپ سے دو تین سالوں کے بعد ملاقات ہوگی لیکن یہ ملاقات تابوت کی شکل میں اتنی پر نم ہو گی اس کا اندازہ نہیں تھا تابوت کے اردگرد 8 سے 10 لوگ کھڑے تھے وه اسی شش و پنج میں مبتلا تھے کہ اس کو کھولا جائے اور کیسے کھولا جائے آخر کار بڑے بھائی نے آنسو اور کانپتے ہاتھوں سے اس کو کھولنا شروع کیا قینچی ہاتھ میں سنبھالی نہیں جا رہی تھی اس نے ہاتھ سے ہی اس کو کھولنا شروع کر دیا تاکہ وہ جلدی سے اس کا چہرہ دیکھ سکے میں نے تحمل سے اتارنے کو کہا کپڑے کو اتارنے کے بعد تابوت کے شیشے والے حصے پر بھی گتا لگایا گیا تھا اس کو اتارا گیا تو کفن میں لپٹا ہوا چہرہ نظر آیا کیونکہ چہرہ دیکھنے کے لئے تابوت کو کھولنا ضروری تھا کیونکہ وہ کیلوں سے بند کیا گیا تھا اب هتھوڑی سے کام شروع ہوا جونہی تابوت کی اوپر والا حصہ تھوڑا سا اوپر ہوا ایک ناگوار بو ناک سے ٹکرائی
دس جنوری کو خبر ملی کہ مقدم کا ملائیشیا میں انتقال ہوگیا گھر میں صف ماتم بچھ گئی خیر 15 جنوری کو پی آئی اے کی پرواز میں اس کا واپس آنا ٹھہرا اس دوران ماں کا بلڈ پریشر بہت زیادہ ہو گیا تھا غرض تمام قریبی رشتہ داروں کا ہسپتال آنا جانا لگا رہا
صدمہ ہی کچھ ایسا تھا کہ انتظار لمبا ہوتا چلا گیا پندرہ جنوری کو یہ لوگ اسلام آباد تابوت کو وصول کرنے کے لئے پہنچ گیے تو پتہ چلا کہ ملائیشیا سے آنے والی پرواز کو روک لیا گیا ہے پی آئی اے نے 12 برس قبل لیزنگ کمپنی پیری گرین سے بوئنگ 777 طیارہ لیز پر حاصل کیا تھا۔ بعدازاں ادائیگیوں کے معاملے پر فریقین کے درمیان تنازع چلا آ رہا تھا پیری گرین نے پی آئی اے پر لندن کی عدالت میں بھی وہی مقدمہ کر رکھا ہے ملائیشین عدالت نے پی آئی اے کو سنے بغیر طیارہ ضبط کرنے کا حکم دیا۔ ملائیشین عدالت کا بیلف پرواز سے کچھ دیر پہلے آیا اور طیارے کی ضبطگی کا اعلان کیا
اب یہ طے پایا گیا کہ کمرے میں صرف دو چار لوگ رہیں گے اور تابوت کو منہ کی طرف سے تھوڑا سا اٹھا کر سر منہ کو ننگا کر کے لوگوں کو اس کا دیدار کرایا جائے گا
ایسا ہی کیا گیا لیکن چہرے کا رنگ سلیٹی کی مانند ہو چکا تھا کیونکہ تابوت ملائیشیا کے ہسپتال پی آئی اے کے جہاز تک اور پھر لوڈ ہونے کے بعد پھر آف لوڈ ہوا پھر کئی گھنٹے کے بعد ہسپتال کے سرد خانے اور 22 جنوری کو پھر ملیشیا کے ایئرپورٹ 11 بجے اسلام آباد اور صبح پانچ بجے لاہور پہنچا ان تیرہ دنوں میں ناگوار بو اور سلیٹى رنگ کا ہو جانا قدرتی امر تھا خیر ماں اور قریبی رشتہ داروں کو چہرہ دکھانے کے بعد اس تابوت کو کیلوں کی مدد سے بند کر دیا گیا تیرہ دن کا یہ سفر لواحقین خصوصاً ماں پر کیسے گزرا یہ صرف وہی جانتی ہیں قصور اس میں پی آئی اے کا ہے کہ اس نے بروقت ادائیگی نہیں کی لیکن اس کے پاس کورونا کی وجہ موجود ہے ملائشین عدالت قصوروار ہے لیکن قانون اندھا ہوتا ہے ماں اور بہن بھائیوں کے جذبات کو نہیں سمجھتا
قصہ مختصر ریاستی اداروں سے اپیل کی جاتی ہے خواہ کیسی بھی صورتحال کیوں نہ ہو دوسرے مسافروں کی طرح تابوت میں لیٹے ہوئے مسافروں کو بھی بروقت گھر پہنچایا جائے تاکہ 13 دن کا سفر 13 سال کا نہ لگے