382

فلسطین کا حل احتجاج میں نہیں 

آج کا لم کا آغاز مسلم امہ کے موجودہ حالات سے کررہاہوں۔ مسلم امہ کی بدقسمتی ہے کہ ہم صیہونی طاقتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ اس وجہ سے ذلت و رسوائی ہمارامقدر بنی ہوئی ہے۔ مسلم ممالک ترقی یافتہ ممالک سے کئی سوسال پیچھے ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم دعوے دار تو اسلام کے ہیں ۔ مگر بھروسہ امریکہ پرہے ہم آج بھی سنی شیعہ میں تقسیم ہیں۔ اس فرقہ واریت نے مسلم امہ کو تباہ کردیا ہے کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ کیاسلوک ہو رہاہے۔ فلسطین میں مسلمان کس ذلت کی زندگی بسرکررہے ہیں افغانستان چالیس سال سے حالت جنگ میں ہے عراق ،شام ، یمن ، لیبیا ، ایران میں بربادی بال کھولے ہوئے ناچ رہی ہے پوری دنیامیں کئی کروڑ مسلمان مہاجر بن کر غربت کی زندگی بسر کررہے ہیں۔ جبکہ صیہونی طاقتیں مسلم امہ کی بربادی پرخوشی کے شادیانے بجارہی ہیں۔ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے۔کہ یہ حالات ہم نے خود پیداکئے ہیں۔ فرقہ واریت کی جنگ ہم نے خود پیدا کی ہے۔ ''ایک عربی شیخ نے دوسرے سے کہا اسرائیل پر کب حملہ ہوگا دوسرے شیخ نے جواب دیا جب تک وہ مسلمان نہ ہو جائے'' ایک سو سال سے عرب ممالک آپس میںدست و گریباں نظر آتے ہیں۔ شاید ہم دنیا میں اسلام کا صحیح چہرہ دکھانے میں ناکام رہے ہیں۔ جس کا فائدہ امریکااوریورپ نے خوب اٹھایا ہے۔ آج فلسطین کی صورت حال دیکھ کر دل خون کے آنسو رو رہاہے۔ اسرائیل نے گزشتہ بارہ دن سے فضائی حملوں میں سینکڑوں فلسطینی مسلمان شہید کر دیئے ہیں۔ مسلسل دہشتگردانہ حملوںاوروحشیانہ بمباری سے سرزمین انبیاء خون میں لت پت ہے سینکڑوں معصوم بچے اورخواتین اس دہشت گرد ی کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں۔ہزاروںافراد زخمی ، 600 سے زائد گھرتباہ ہو چکے ہیں۔ سرزمین فلسطین 57 ممالک پرمسلط حکمرانوں کی بے حسی پر ماتم کناں ہے پروفیسرنوم چومسکی نے اسرائیل کے عزائم کا پردہ چاک کرتے ہوئے لکھتے ہیں ''اسرائیل کی مہم جوئی کا مقصد لانگ ٹرم ٹارگٹ ہے جس کا شکارکئی اسلامی ممالک ہونگے'' او آئی سی تنظیم فلسطین کے حالات پر صرف ایک اجلاس تک محدود نظر آتی ہے جبکہ اقوام متحدہ صرف مذمتی قرارداد تک محدود رہی ہے۔ اقوام متحدہ امریکا کاایک ذیلی ادارہ ہے۔اقوام متحدہ پر کنٹرول امریکاکا ہے۔ اگراسرائیل والی حرکت کسی اسلامی ملک نے کی ہوتی امریکا اب تک اُس ملک کو صفحہ ہستی سے مٹادیتا ۔ اسرائیل امریکا کا لے پالک بیٹاہے اس لیے امریکا بالکل خاموش تماشائی بناہوا ہے۔ اب صورت حال یہ ہے کہ کسی اسلامی ملک میں اتنی سکت نہیں کہ اسرائیلی جارحیت کا جواب دے سکے۔ فلسطین کے حالات دیکھ کر مجھے صلاح الدین ایوبی ، ذوالفقار علی بھٹو ، یاسرعرفات ، شاہ فیصل بہت یاد آئے۔ کاش ہم نے ان قائدین کے مشورے پرعمل کیا ہوتا آج مسلم امہ کے حالات ایسے نہ ہوتے اب بھی مسلمانوں کو ہوش کے ناخن لینے ہوں گے۔امریکہ ، اسرائیل گٹھ جوڑ کو سمجھنا ہوگا ۔ دنیا میں فلسطینیوں کے حق میںاحتجاج ہو رہاہے صرف احتجاج سے مسئلہ فلسطین کاحل ممکن نہیں ۔ مسلم دنیا میں صرف دو راہنما طیب اردگان اور عمران خان میں مسلم امہ کادرد نظر آتا ہے۔ دیگرحکمرانوں کو اپنارویہ تبدیل کرنا ہوگا۔ ورنہ مزید تباہی مقدر بننے والی ہے۔
 

بشکریہ اردو کالمز