دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے مگر مسلم ممالک میں زیادہ دہشت گردی کیونکرہے۔ کیادہشت گردی فرقہ واریت کی ترقی یافتہ شکل ہے۔ آج ہر مسلمان سوال کررہا ہے مگراِس کا جواب میرے پاس نہیں ہے۔ مسلم امہ کی تباہی سے کالم کا آغاز کر رہا ہوں۔ صدیوں سے مسلم امہ مختلف سازشوں کا شکار ہو کر ذلیل و خوار ہو رہی ہے۔ مسلم امہ کل بھی غیر مسلم کی ساز ش کا شکار تھی آج بھی اُسی صورت حال سے دوچار ہے صدیوں سے مسلمان مسلمان کو فتح کررہا ہے۔ آج مسلم امہ نے فرقہ واریت کو خانہ جنگی میں تبدیل کر لیا ہے۔ آج بھی مسلمان غیروں کی ایماء پر اپنے ہی بھائیوں کا گلہ کاٹ رہا ہے۔ آج بھی مسلم امہ شیعہ و سنی میں تقسیم ہے۔ جب کہ غیر مسلم ہمیں صرف مسلمان تصور کر رہاہے۔ اسلامی ممالک کو کئی غیر ملکی سہولت کاروں کی مدد بھی حاصل ہے۔ شام ، عراق ، افغانستان اور یمن مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں ان ممالک میں درندگی ناچ رہی ہے۔ انسانیت اپنی بربادی پر نوجہ کناں ہے، بنیادی حقوق خانہ جنگی نے ختم کر دیئے ہیں۔بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ ادویات ناپید ہیں۔ ہسپتالوں میں علاج کی سہولت نہیں ، سڑکیں عمارتیں اپنی بربادی کا نوحہ پڑھ رہی ہیں۔ عوام روٹی کو ترس رہی ہے۔پاکستان آج کل جنگی حالت میں ہے پہلے ہمارا ایک دشمن تھا۔ اب ہمیں تین طرف سے مزاحمت درپیش ہے ملک اندر سے جس منافق دشمن کا سامنا ہے وہ سب سے زیادہ خطرناک ہے، تین دشمن پاکستان کو تباہ کرنا چاہتے ہیں۔انہی ممالک کو اس حد تک پہنچانے والے پاکستان کو خانہ جنگی کی طرف دھکیلانا چاہتے ہیں۔ افغانستان میںخانہ جنگی عروج پر ہے اس خانہ جنگی کے اثرات براہ راست پاکستان پر آرہے ہیں۔ افغانستان میں کئی غیر ملکی ایجنسیاں موجود ہیں جن میں موساد ، راء ، امریکن چار پانچ ، کئی عرب ممالک ، روس ، ایران کی ایجنسیاں سرگرم عمل ہیں۔ موساد اورراء افغانستان کے ذریعے بلوچستان اور کچھ قبائلی علاقوں کا امن تباہ کرنے پر تلی ہوئی ہیں، گوادر کی ترقی کئی ممالک کو رڑک رہی ہے۔ بھارت کھل کر بلوچستان اور کے پی کے میں کارروائیاں کررہا ہے۔ بھارت گوادر پورٹ کی تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹیں پیدا کررہا ہے بھارت میں جاری بدامنی کی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان میں بدامنی پھیلا رہا ہے پاکستان میں جاری تازہ لہر کے پیچھے بھی بھارت ملوث نظر آتا ہے پاکستان نے عالمی سطح پر بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کیا ہے۔ پاکستان کو عالمی میڈیا پر بھارت کے خلاف اپنی آواز اور بلند کرنی چاہیے۔ پاکستان میں دہشت گردی ختم نہیں ہوئی بلکہ ناگزیر وجوہات کی وجہ سے دبی ہوئی تھی۔ بھارت دہشت گردی کی چنگاری کو ہوا دے رہا ہے۔ بھارت کے تیار کردہ افغان دہشت گردوں کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ کارروائیاں کرتے ہیں۔ پاکستان اب بھی ملک دشمن قوتوں اوران کے پروردہ دہشت گردوں کے نشانے پر ہے۔ دہشت گرد پاک فوج و دیگر سیکورٹی اداروں پر حملے کررہے ہیں۔ جب پاک فوج ان دہشت گردوںاوران کے سہولت کاروں کے خلاف سرگرم عمل ہے۔ سانحہ مچھ کے پیچھے موساد اور راء کے ایجنٹ نظر آتے ہیں۔ جبکہ داعش کو ہنود و یہود اور کچھ عرب ممالک کی مکمل سپورٹ حاصل ہے۔ ملک دشمن عناصر ہزارہ کمیونٹی کو نشانہ بنا کر فرقہ واریت پھیلانا چاہتے تھے۔ حکومت کے بروقت اقدام سے دشمن کا ارادہ خاک میں ملا دیا۔ ہزار برادری پر تقریباً 80 حملے ہو چکے ہیں جن میں 1600 سے زائد افراد جاں بحق اور ہزاروں افراد زخمی ہوچکے ہیں۔ ہر حکمران نے یقین دہانی کروائی مگر سفاکانہ وارداتوں میں ملوث کوئی مجرم پکڑا نہیں جاسکا۔ وزیراعظم ہزارہ برادری سے کئے گئے معاہدے پر عمل درآمد کر دیں تاکہ ان کے دکھوں کا کچھ مداوا ہوسکے۔ پاک فوج دشمن کے عزائم خاک میں ملانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ امید ہے پاک فوج دہشت گردی کی سلگتی چنگاری مکمل طور پر ختم کر دے گی۔ کیونکہ پاکستان کی خوشحالی اور ترقی دہشت گردی کے خاتمے میں ہے۔
366