فیصل آباد شہر کے سماجی ، سیاسی ، مذہبی ، ادبی ، ثقافتی ، صنعتی اور سپورٹس سمیت دیگرمسائل پر میرے قلم نے اپنا بھرپورکردارادا کیا، جب میں فیصل آباد آیا تھا تو یہ شہر بڑا پنڈ تھا۔ دیہاتی ثقافت اس شہر میں رچی بسی تھی۔اب فیصل آباد شہر میں تبدیل ہو چکا ہے۔ پنڈو ثقافت دم توڑ چکی ہے بلکہ دھوتی کلچر معدوم ہوگیا ہے اِس شہر سے کھیل ، میوزک اور بزنس میں بڑے نامی گرامی نام نظر آتے ہیں۔ اگر ان شخصیات کا تذکرہ کرنا شروع کردوں تو کئی کالم معرض وجود میں آجائیں۔ میں نے سب سے زیادہ کالم فیصل آباد کی سیاست پر تحریر کئے آج بھی فیصل آباد کے دو سیاسی پہلوانوں کاتقابلی جائزہ پیش کررہا ہوں۔ دونوں راہنمائوں کے نظریات الگ ہیں مگر دونوں میں ایک خوبی مشترکہ طور پر پائی جاتی ہے، دونوں میڈیا میں ان رہنے کا ہنر جانتے ہیں دونوں راہنمائوں نے فیصل آباد کی سرزمین سے جنم لیا دونوں راہنمائوںنے فیصل آباد کا نام ملکی سطح پر روشن کیا دونوں راہنما گالی گلوچ کی سیاست سے بیزار نظر آتے ہیں ۔دونوں تعلیم یافتہ ہیں اورسیاسی رموز سے آشنا ہیں سابق صوبائی وزیرقانون صدرپاکستان مسلم لیگ ن پنجاب اورایم این اے راناثناء اللہ اورتقابلی جائزہ میں دوسری شخصیت ، جواں خون ، آئی ایس ایف کے مرکزی راہنماء اوروزیرمملکت برائے اطلاعات و نشریات اورعمران خان کی آنکھ کاتارا میاں فرخ حبیب، رانا ثناء اور فر خ حبیب کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں۔ میاں صاحب رانا صاحب کے مقابلے میں طفل مکتب ہیں۔ فرخ حبیب کی جتنی عمر ہے اس سے زیادہ رانا ثناء اللہ کاسیاسی تجربہ ہے راناثناء اللہ کی سیاسی جنم بھومی پیپلزپارٹی ہے، پیپلزپارٹی سے نکلنے والے ورکر دیگرسیاسی جماعتوں میں اپنی الگ پہچان رکھتے ہیں ۔ جیسے تحریک انصاف میں شاہ محمود قریشی ، رانا ثناء جب مسلم لیگ ن میں شامل ہوئے تو شیرعلی کانام گونجتا تھا پھر آہستہ آہستہ اپنے سیاسی قدم مضبوط کئے رانا صاحب کو اپنا سیاسی مقام بنانے میں 35 سال کا عرصہ لگا۔ میاں فرخ کی سیاسی عمر ابھی 9 سال ہے ۔ ''جم دیاں سولاں دے منہ تیکھے ہوندے نیں'' فرخ حبیب کاسیاسی کیریئر بہت تھوڑا ہے تحریک انصاف میں سیاسی جدوجہد انہیںدیگرراہنمائوں سے ممتاز کرتی ہے۔ اسلام آباد دھرنا میں فرخ حبیب نے کامیاب بنانے میں اہم کردارادا کیا۔ آج کل اپوزیشن ان کا ہدف ہے اورحکومتی کارکردگی کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں ۔ حکومت کی غلط اور اچھی پالیسیوں کادفاع کرنا فرخ حبیب کا نصب العین ہے۔الیکشن جیتنے کے بعد فرخ حبیب اسلام آباد میں زیادہ اورحلقے میں کم پائے جاتے تھے۔ جوں جوں الیکشن قریب آتے جارہے ہیں، فرخ حبیب بھی متحرک نظر آرہے ہیں، فرخ حبیب پہلے الیکشن میں شکست کے بعد حلقے سے ناطہ نہیں توڑا جس کانتیجہ فتح کی صورت میں سامنے آیا، راناثناء نے اپنے سیاسی زندگی میں جیل بھی دیکھی اوراب تک مقدمات کا سامنا کررہے ہیں۔ راناثناء نے اپنے ورکر کو اُسکا جائز مقام جس کا وہ حقدار تھے۔ سابق پی پی 70 کے ورکر اب بھی ثناء اللہ کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جبکہ میاں فرخ سے حلقے کے زیادہ ورکر نالاں نظر آتے ہیں۔ جب کہ کچھ الیکشن فنانسر بھی خفاء ہیں۔ رانا ثناء اللہ نے جتنے ترقیاتی کام کروائے ، ورکروں کی مشاورت سے کروائے جن یوسیوں میں وہ جیتے تھے وہاں سے کاموں کا آغاز کیا جبکہ فرخ حبیب اُن یوسیزمیں کام کروارہے ہیں جہاں شکست ہوئی ہے جس کا نقصان یہ ہوا کہ پرانے ورکر ناراض ہوگئے ہیں فرخ حبیب نے اب تک تقریباً 45 کروڑ کی ترقیاتی کا م کروائے ہیں جبکہ راناثناء نے پونے تین سال میں ایک ارب 60 کروڑ کے کام صرف پی پی حلقہ میں کروائے تھے۔ جبکہ اب این اے 108 تقریباً چارایم پی ایز کے حلقوں پر محیط ہے اس حساب سے میاںصاحب نے کوئی بڑا معرکہ سر نہیں کیا۔ میاں صاحب کا مقابلہ مسلم لیگ ن کے ساتھ ہے اپنی جیت برقرار رکھنے کے لیے ورکر کو عزت دینا ہوگی کیونکہ سیاسی راہنما کی اصل طاقت ورکر ہی ہوتا ہے۔
398