ایک سال کاعرصہ بیت گیا میں نے اُن کی زیارت نہیں کی تھی۔ علم وادبی شخصیت ہیں۔ بڑھاپے میںکتاب سے دوستی اِن کی چل رہی ہے۔ میں اکثر کالموں میں موصوف کا تذکرہ کرتا رہتا ہوں۔ موبائل فون پر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ بغیر اطلاع دیئے ان سے ملنے چلا گیا تو موصوف فارم پر موجود تھے۔ برگد کے درخت کے نیچے کتاب کامطالعہ کررہے تھے مجھے دیکھ کر پریشان ہوگئے۔ آپ کہاںسے ٹپک آئے ہیں جواباً عرض کیا سرکار آپ سے ملاقات کا اشتیاق تھا سو چلاآیا ناشتے کا پوچھا گیا میں نے کہادوپہر کا کھانا چلے گا اب صرف چائے پر انحصار کیاجائے گا۔ ایک خوبصورت حقہ دیکھ کر مجھے اپنے والد گرامی یاد آگئے۔ میرے ابّا جان بھی حقے کے بڑے شوقین تھے میں نے چلم کو ہاتھ لگایا تو اس میں کوئی دم خم نہیں تھا۔ بولے رات کچھ مہمان آئے تھے جو حقہ پینے کے شوقین تھے۔ اتنے میں چائے تیار ہو کر آگئی چائے پی ۔ انہوں نے کتاب بند کرکے چارپائی کے سرہانے رکھ دی۔ میں نے کہاملکی معیشت میں بہتری آرہی ہے ملک ترقی کی سمت چل پڑا ہے۔ مسکراتے ہوئے بولے آپ میڈیا والے بھی لکیر کے فقیر ہیں آپ مطالعہ سے عاری ہیں۔ صرف اخبارات اور ٹی وی چینلز پر اکتفا کرتے ہیں ۔ صرف اخبارات کے سہارے تم لوگوں کی صحافت زندہ ہے۔ میں نے شرمندگی محسوس کی اور دل میں سوچا ''بات تو سچ ہے مگربات ہے رسوائی کی ''وہ دھمیے لہجے میں گفتگو کررہے تھے بولے تاریخ گواہ ہے ضیاء الحق سے لے کر نواز شریف تک ہر حکمران نے قوم کو ترقی کے خواب دکھائے جب اقتدار کا سورج غروب ہوا تو ملک کی حالت پہلے سے بھی ابتر ملی میں تسلیم کرتا ہوں کہ عمران خان ملک کے ساتھ مخلص ہے مگر ایک دو وزراء کے علاوہ باقی وزراء کی کارکردگی پرسوالیہ نشان لگاہواہے۔ ملک کی ترقی کا انحصار موجودہ دور میں صرف ایکسپورٹ اوربیرونی ترسیلات پر ہے یہ عارضی ترقی ہے کورونا کی وجہ سے کئی ممالک کی ایکسپورٹ بند ہے جس کا فائدہ پاکستان کو ہو رہا ہے۔ جب تک ہم من حیثیت القوم اپنی کارکردگی بہتر نہیں کرتے ترقی کاخواب ادھورا ہے۔ جب تک غیر ملکی قرضوں پر انحصار کم نہیں کرتے ترقی کا خواب ادھورا ہے جب تک ملک کی بنیاد مضبوط نہیں کرتے ترقی کا خواب ادھورا ہے جب تک کرپشن ، اقرباء پروری اور رشوت ختم نہیں کرتے ملک میں ترقی کا خواب ادھورا ہے۔ جب تک قرضے کا کوہ ہمالیہ کھڑا ہے ہم ترقی کا خواب دیکھ سکتے ہیں کر نہیں سکتے۔ قرضے اتار سکتے ہیں مگراس کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پارلیمان ہے پھر سترسال میں پارلیمان کا کردارآپ کے سامنے ہے کل کے کنگلے آج کے اربوں پتی ، ملک میں جمہوریت کم اورملوکیت زیادہ ہے۔ ''گھری ہوئی ہے طوائف تماشبینوںمیں ''۔ پارلیمنٹ کے اراکین کا کردار طوائف سے بھی برا ہے۔ طوائف اپناجسم کا سودا کرتی ہے تو اس رقم کا کچھ حصہ اپنے جسم پر خرچ کرتی ہے ہمارے اراکین صرف نسلوں کا سودا کیا ملک کا کچھ نہ سوچا۔ اب صورت حال آپ کے سامنے ہے اس حالت کے ذمہ دار فوجی اورسول حکمران دونوں ہیں۔ اب ملک تباہ حال ہے تواقتدارعمران کے حوالے کر دیا گیا۔ عمران خلوص نیت سے محنت کررہا ہے مگر نام نہاد اشرافیہ اس کی راہ میں حائل ہے۔ ملک اس وقت ترقی کرے گا۔جب ترقی کے ثمرات عام آدمی تک پہنچنا شروع ہوں گے عمران کے پاس وقت تھوڑا اورمقابلہ سخت ہے میں نے دوسرا سوال داغا کیا کورونا ویکسین لگوانی چاہیے شوش میڈیا پر بڑی ڈس انفارمیشن چل رہی ہے؟ بولے شاہ جی ویکسین کسی عطائی حکیم نے تیار نہیں کی عالمی سطح پر بڑے سائنس دانوں کا کارنامہ ہے۔ ویکسین ضرور لگوانی چاہیے۔ ڈس انفرمیشن پھیلانے والوں نے پہلے ملک سے پولیو کا مرض ختم نہیں ہونے دیا اب ہاتھ دھو کر کورونا ویکسین کے پیچھے پڑھ گئے ہیں۔ موبائل کی طرف دیکھا تو دن کا ایک بج چکا تھا کھاناکھایا تو انہوں نے ڈرائیور کو بلوایا کہا شاہ جی کو شہر چھوڑآئیں ۔ موصوف نے گاڑی بھی اپنی عمر کی رکھی ہوئی ہے مگر جدید سہولتوں سے آراستہ تھی۔ دس منٹ میں ہم شہر پہنچ گئے بس میں بیٹھ کر فیصل آباد آگیا۔
391