کورونا وباء کی پاکستان میں تیسری لہر بھی تیزی سے جاری ہے بلکہ کورونا کا تیسرا حملہ خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ کورونا کی تیسری لہر کا وائرس برطانیہ سے برآمد ہوا ہے۔ لاہور، فیصل آباد ، جہلم ، اوکاڑہ ، گجرات میں 70 فیصد کیسز اسی وائرس کے نکل رہے ہیں۔ ملک بھر میں کورونا متاثرین کی مجموعی تعداد 6 لاکھ 6 ہزار تک جا پہنچی ہے۔کورونا مجموعی اموات 13 ہزار 5 سو سے زائد ہوگئی۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میںصحت یاب ہونے والے مریضوں کی شرح دیگر ممالک سے بہت بہتر ہے۔ پانچ لاکھ 91 ہزار مریض صحت یاب ہو چکے ہیں اِس وقت فعال مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اگر یہی صورتحال رہی تو ملک شدید مشکلات کاشکار ہوسکتا ہے۔ اگر معاشی بحران شدت اختیار کر گیا تو لوگ بھوک سے مریں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم نے کورونا ایس او پیز پرعمل درآمد کرناچھوڑ دیا ہے۔ ہمارے ہاں پچھلے کچھ عرصے سے کورونا سے بچائو کی حکمت عملی تعلیمی اداروں کی بندش تک محدود دکھائی دیتی ہے۔ میں نے اپنے کالم میں قوم کو بیدار کرنا ہے تاکہ ہم کورونا کے خطرے سے محفوظ رہ سکیں۔ حکومت بے چاری احتیاط کا حکم دے سکتی ہے عمل تو ہم نے کرنا ہے۔ حکومت اس جانب بار بار توجہ دلائے جانے کے باوجود احتیاطی تدابیر پرموثر طریقے سے عمل نہیں کرسکے۔بازاروں ، مارکیٹوں اور تجارتی مقامات میںایس او پیز پر عمل درآمد بہترانداز میں نہیں ہو رہا ۔ جس ملک میں غربت و افلاس و جہالت کے ڈیرے ہوں وہاں کورونا کے کیسز میں اضافہ فطرتی عمل ہے۔ پچھلے دوہفتوں کے کورونا کیسز کاجائزہ لیں تو دوران یومیہ نئے کیسز کی تعداد میںاضافہ ہو رہاہے۔ یومیہ بڑھتے ہوئے کیسز یہ ظاہر کررہے ہیںکہ بے احتیاطی میں اضافہ ہوا ہے اور یہ خطرہ اب جس سطح کو پہنچ چکاہے اگرسخت احتیاط کی پالیسی اختیار نہ کی گئی تو آنے والے دنوں میں کورونا کیسز کی تعداد میں خوف ناک اضافہ ہو سکتا ہے کورونا وباء کا پھیلائو کم کرنے کے لیے وہی آزمودہ پالیسی اختیار کرناپڑے گی۔ جو اس سے پہلے بھی اپنی افادیت ثابت کر چکی ہے صرف تعلیمی اداروں کو بند کرنے سے کورونا ختم نہیں ہوسکتا ۔ ہمارے فیصلہ سازوں کو مسئلے کی جڑ سے پکڑنا ہوگا جب تک سماجی سطح پر احتیاطی تدابیرپر عمل عوام کی فطرت ثانیہ نہیں بنتی کورونا سے مکمل تحفظ ممکن نہیں کورونا کی ویکسین بھی لگائی جارہی ہے۔جب ویکسین کے خلاف پروپیگنڈا بھی جاری ہے یہ حقیقت ہے دوائی محفوظ ہے کسی قسم کاری ایکشن نہیں ہے۔ عوام کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ ویکسین کے بارے افواہوں پرکان مت دھریں حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ ویکسین کے بارے افواہوں کی تردید کرے تاکہ لوگ ویکسین سے مستفید ہوسکے۔ دنیا بھر کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں ویکسین سے بھی سو فیصد بچائو ممکن نہیں مگر ستر سے نوے فیصد تک بچت کا امکان ہے۔پاکستان میں ویکسین عام آدمی تک پہنچنے میں کئی ماہ لگ جائیں گے۔ تب تک اپنابچائو خود ہی کرنا ہوگا۔ ماسک پہنچ کر خطرے کو خاصا کم کر سکتے ہیں۔ مصافحہ سے صاف انکار کیاجائے ۔ گلے ملنے کی کوئی ضرورت نہیں، ہاتھ منہ زیادہ سے زیادہ دھوئیں اور اپنے کپڑے صاف رکھیں کورونا زندگی موت کی جنگ ہے معمولی کوتاہی جان سے ہاتھ دھولینے کے مترادف ہے۔ احتیاط میں زندگی ہے۔
392