پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس میں کچھ بھی ہوسکتا ہے ہم مذہب کے نام پر کب تک عوام کو مصیبت میں مبتلا کرتے رہیں گے۔کب تک ہم فرقہ واریت کی اجارہ داری کے لیے قوم کی مشکلات میں اضافہ کرتے رہیں گے۔ تاریخ اسلام کو کب تک مسخ کرتے رہیں گے۔ جس دن لاہورسمیت پورے پاکستان کے حالات کشیدہ ہوئے تھے تو میں لاہور گیا ہوا تھا جب فیصل آباد سے روانہ ہوا تو حالات بڑے سازگار تھے موسم بھی خوشگوار تھا۔ جب لاہورسے واپسی ہوئی تو لاہور سے نکلنا دشوار ہوگیا۔ ایسے لگ رہا تھا۔ لاہور میں کوئی سیکورٹی نہیں بپھرے ہوئے لوگ ،عجب ہوکا عالم ، سڑکیں بلاک، جلائو گھیرائو اورسرکاری اہلکاروں پر تشدد کاسلسلہ جاری تھا ۔ مشتعل نوجوان ہاتھوں میں آہنی راڈ اورڈنڈے سوٹوں سے لیس نظرآئے۔ لاہورفیصل آباد جی ٹی روڈ اور موٹر وے مکمل طور پر بلاک ، صرف 45 منٹ کا سفر چار گھنٹے میں طے ہوا۔ شیخوپورہ تک پہنچا وہاںسے ریلوے اسٹیشن پیدل سفر کیا۔ اسٹیشن پر پہنچا تو معلوم ہوا ٹرینیں بھی بند ہوچکی ہیں۔ موبائل فون کی بیٹری بھی ساتھ چھوڑ گئی تھی۔ اب گھروالوں سے رابطہ بھی کٹ چکا تھا۔ پھر بائی پاس بڑی مشکل سے پہنچا تو بتی چوک میں احتجاج کاسلسلہ جاری تھا سڑک کے وسط میں ایک پولیس وین اپنی بربادی پر نوحہ کناں تھی۔ دو گھنٹے گزر گئے۔ ٹرانسپورٹ مکمل بند تھی۔ بائی پاس کے قریب واقع پٹرول پمپ پر موجود ٹک شاپ پر پانی کی بوتل لینے گیا تووہاں پر ایک دوست گاڑی سے اترا۔ دعاسلام کے بعد اُس شخص نے کچھ اشیاء خریدیں اورگاڑی میں بیٹھ گیا میں نے لفٹ لے لی، میں نے کہا میاں صاحب آپ میرے لیے رحمت کا فرشتہ بن کر آئے ہیں۔ وہ خاموش رہا ۔ میری طرف نمکو کا پیکٹ کرتے ہوئے بولے کھائیں۔اور پانی پی کر خاموش ہوگیا۔ مختلف علاقوں سے ہوتے ہوئے ہم چار گھنٹے میںفیصل آباد پہنچے جب گھر پہنچا تو صبح کی اذان ہورہی تھی جب اہل خانہ میری تاخیر کی وجہ سے الگ پریشان تھے۔ کیونکہ کسی ٹی وی چینل نے احتجاج کے متعلق کوئی خبر نشر نہ کی۔چھوٹی چھوٹی خبروں پر طوفان کھڑا کرنے والے ٹی وی چینلز اس صورتحال پر خاموش رہے۔ تجزیہ نگاروں کی زبان گنگ ہو گئی جب صبح اخبارات دیکھے تو کسی اخبار نے دوکالم سے بڑی خبر نہیں لگائی ۔ ٹی ایل پی کے سربراہ کی گرفتاری کیاعمل میں آئی۔سوشل میڈیا پرآنے والی خبر ملک میں جنگل میں لگی آگ کی طرح پھیل گئی۔ حالات کشیدہ کرنے میںسوشل میڈیا نے اہم کردار اداکیا۔چند گھنٹو ں میں پوراملک احتجاج کی زد میں آگیا۔
تاریکیوں کی اوٹ میں کیاجانے کیاہوا
پو پھوٹتے ہی شہر میں نوحے بکھر گئے
دیکھتے ہی دیکھتے ملک کس مصیبت میں مبتلا ہوگیا ختم نبوت پر ایمان دین کی اساس ہے مگر اہل یورپ ہمیشہ ہماری اساس پر حملے کرتے ہیں بدقسمتی یہ ہے کہ کسی اسلامی ملک میں اتنی جرأت نہیں کہ ان کو لگام ڈال سکے۔ صرف چند ممالک احتجاج تک محدود رہتے ہیں وزیراعظم عمران خان اُن مسلم راہنمائوں میں سے ایک ہیں جنہوں نے توہین رسالت کے خلاف عالمی سطح پر آواز بلند کی جبکہ اسلام کے نام نہاد ٹھیکے دارحکمرانوں میں کبھی اتنی جرأت نہیں ہوئی کہ لب کشائی بھی کر سکیں۔ پرامن احتجاج ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے مگر پرتشدد احتجاج کرنے کا نہ ہمارا مذہب اورنہ ہی قانون اجازت دیتا ہے۔ مذہبی تنظیموں میں انتہا پسندی کے عنصر کی بانی جماعت اسلامی ہے مگرعروج افغان جہاد میں آیا۔پاک فوج اور سابق حکومت کی کاوشوں سے انتہاپسندی میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔ بلکہ مگرابھی مزیداقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست پر لانے کی ضرورت ہے ان تنظیموں کے لیے حکومت کو ایک سیکورٹی پیراڈائم کی ضرورت ہے تاکہ یہ تنظیمیں انتہا پسندی سے دور ہو سکیں۔
605