کالم میں تاخیر کیاہوئی قارئین نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ قارئین کی محبت ہی لکھنے پر مجبور کرتی ہے پھر قارئین کی فیڈ بیک کے سہارے ہم زندہ ہیں۔ آج کل آنکھ میں موتیا اتر آیا ہے جس کی وجہ سے کتاب سے دور ہوں ۔ اخبار سے تعلق بھی واجبی سا رکھا ہواہے۔ ویسے بھی میں میٹھا آدمی ہوں یعنی جسم میں شوگر کی فیکٹری لگی ہوئی ہے۔ شوگر کی وجہ سے آپریشن میں تاخیر ہو رہی ہے۔ آئیے کالم کی طرف آتے ہیں۔ میں جمہوریت کی خامیوں پر کھل کر اظہار کرتا رہا ہوںاوراصلاحات کا حامی ہوں ۔ یہ کیسی جمہوریت ہے جس میں چور اچکے چوہدری بنے پھرتے ہیں ، کیسی جمہوریت ہے عام آدمی کو بنیادی حقوق سے محروم رہے اورصاحب حیثیت آدمی انسانی حقوق پامال کرتا پھرے یہ کیسی جمہوریت ہے علم کے دروازے غریبوں کے لیے بند اوراشرافیہ کے بچے بیرون ملک سے تعلیم حاصل کرتے پھریں۔ یہ کیسی جمہوریت غریب روٹی سے ترس اور امیر کے کتے مہنگی ترین خوراک کھا ئیں۔ یہ کیسی جمہوریت ہے محنت کش کا صرف پیٹ بھرے اور مل مالک بغیر ٹیکس ادا کئے اربوںمیں کھیلے یہ کیسی جمہوریت ہے انصاف عام آدمی کی پہنچ سے دوراورطاقت ور انصاف کوڑیوں کے بھائو خریدتا پھرے یہ کیسی جمہوریت ہے چور اچکے لوگ پارلیمان کاحصہ بن کر پارلیمان کو اپنے تابع کئے پھریں۔ جس ملک میں سیاسی جماعتوں میں جمہوریت کا فقدان ہو وہاں جمہوریت نہیں ملوکیت ہوا کرتی ہے جب تک سیاسی جماعتوں سے ورکر کااستحصال ختم نہیں ہوتا سیاسی جماعتیں جمہوریت کے لیے زہرقاتل ثابت ہوتی رہیں گی۔ میں جمہوریت کا مخالف نہیں ، جمہوریت بہترین نظام ہے مگرپاکستان میں جاری جمہوریت کے خلاف ہوں ملک میں جاری جمہوریت ملک اورقوم دونوں کے لیے زہر قاتل ہے سینیٹ الیکشن کاپہلا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے حکومتی امیدوار حفیظ شیخ ہار گئے ۔ یوسف رضا گیلانی جیت گئے اس سے قبل ایک کالم میں میں نے کچھ حقائق بیان کئے تھے۔ ''یوسف اورشیخ میں کانٹے دار مقابلہ متوقع ہے جو بھی جیتے گا وہ صرف چار یا پانچ ووٹوں سے جیتے گا۔ مگر چانس گیلانی کے زیادہ ہیں''۔اب سینیٹ کے چیئرمین کاچنائو عمل میں لایاجارہا ہے اب چیئرمین کون ہوگا، گیلانی یاسنجرانی حقائق کے مطابق گیلانی کے جیتنے کے چانس زیادہ ہیں۔ مگر سنجرانی پہلے بھی معجزانہ طریقے سے چیئرمین بن چکے ہیں۔ اگر معجزہ رونما کرنے والوں کا تعاون ہوا تو سنجرانی اپنی چیئرمین شپ بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ پاکستان میںکونسا جمہوری نظام ہے۔جس میں کرپٹ شخص بھی جیت کر چیئرمین کا امیدوار بن جاتا ہے۔ پاکستان کی جمہوریت ملوکیت کاشکار ہے۔ سیاسی جانشینوں کی وجہ سے پاکستان کو دیگر ممالک کی جمہوریت سے الگ کرتی ہے۔ جب تک ملک میں ملوکیت ، سیاسی اجارہ داری ختم نہیں کرتے ۔ گیلانی جیسے جیتتے رہیں گے۔ اورحفیظ شیخ جیسے ہارتے رہیں گے۔ حفیظ شیخ بطور وزیرخزانہ حکومت کے لیے اچھا اور عوام کے لیے زہر قاتل ہے، حفیظ شیخ کی عوام دشمن پالیسیوں کے منفی اثرات پاکستان تحریک انصاف پر بھی پڑسکتے ہیں۔ حکومتی جماعت ابھی تک اچھی کارکردگی دکھاتے میں ناکام نظر آرہی ہے۔ اب تک جاری پالیسیوں میں عوام تحریک انصاف ، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں کوئی فرق محسوس نہیں کرسکے۔ حکومت ایسی پالیسیاں تشکیل دے جس کا براہ راست فائدہ عوام کو پہنچے۔ حکومت کو جاری جمہوریت میں اصلاحات لانے کی ضرورت ہے ورنہ چور اچکے پارلیمان کاحصہ بنتے رہیں گے۔
427