293

ٹاپ ٹن مسائل اورآئندہ کا بجٹ 

کالم کا آغاز ملکی مسائل اور آئندہ مالی سال کے بجٹ سے کررہا ہوں جب سے حکومت نے جی ڈی پی کی شرح فیصد اضافے کی نویدسنائی ہے۔ ملک میںدو متضاد آراء منظر عام پر گردش کررہی ہیں حکومت جی ڈی پی کی شرح فیصد اضافے پر خوشی کااظہار کررہی ہے جب کہ اپوزیشن والے اسے فریب قرار دے رہے ہیں۔ ہمارے ملک کی ریت رہی ہے جب بھی نیابجٹ آنا متوقع ہوتاہے۔ حکومت اس طرح کے بیان داغ کر عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کرتی ہے۔ جب کہ عمران کی سیاست دیگر سیاست دانوں سے ذرا ہٹ کے ہے کیونکہ اُس کی سیاست میں جھوٹ کا عنصر نہیں۔ وہ جو حقیقت ہے اس سے بھاگنے والانہیں اگر اِسی موضوع پرقلم چل گیا تو اصل موضوع اس بحث میں پھنس کر رہ جائے گا۔ غریب ملک کا بجٹ ماسوائے اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے کچھ نہیں ہوتا  بلکہ بجٹ کاسارادارومدار مستقبل میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ جو ہمیشہ سے ریت کی دیوار ثابت ہوتا رہا ہے۔ غریب ملک کی اکثریتی آبادی کو روٹی کی فکر لاحق رہتی ہے۔ غریب گھر ، غریب شہر، غریب ملک میں غربت کے آثار داخل ہوتے ہی نظر آنا شروع ہو جاتے ہیںترقی پذیر ممالک کے مسائل عوام کے چہروں سے نمایاں نظر آتے ہیں۔ تمام ترقی پذیر ممالک کے مسائل ایک جیسے ہیں۔ملک پاکستان کے ٹاپ ٹن مسائل کا ہلکا سا تذکرہ کرکے آگے گزر جائوں گا پاکستان کے دس مسائل غربت و افلاس ، آبادی میں خوف ناک اضافہ، ماحولیاتی آلودگی ، بنیادی سہولتوں کا فقدان، غیر ملکی قرضے، کرپشن ، تعلیمی معیار تنزلی کا شکار ، سیاسی جہالت ، رشوت خوری اور اقرباء پروری و سفارش، انہی مسائل نے ملک کا بیڑا غرق کیا ہوا ہے۔جب تک ہم ٹاپ ٹن مسائل میں تخفیف نہیں کرتے ملک ترقی کی راہ پر گامزن نہیںہوسکتا۔ بیشتر مسائل حل کئے جاسکتے ہیں مگر ملک کے سیاست دانوں کو ان مسائل سے کوئی دلچسپی نہیں جس ملک کے مسائل ہی مسائل ہوں گے وہاں کا بجٹ کبھی شفاف نہیں ہوسکتا ۔ غریب ملک کا بجٹ اعداد و شمار کا گورکھ دھندہ کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا ۔ غریب ملک کے بجٹ میں ملک کا کل روشن دکھانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔ قوم کو سبز باغ دیکھا کر بیوقوف بنایاجاتا رہا ہے 70 سال سے ہر حکومت مثالی بجٹ پیش کرتی نظر آتی ہے مگر ہرسال بہتری کی بجائے ابتری کی طرف ملک چلا جاتا ہے۔ ملک کی تاریخ شاہد ہے حکومت اور اپوزیشن ملکی مسائل کے حل کے لیے کبھی ایک پیج پر اکٹھی نہیں ہوئی۔ اپوزیشن نے حکومت کو کام نہیں کرنے دیا بلکہ دیگر مسائل میں الجھا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کئے جاتے رہے ہیں۔ اگربدقسمتی سے کسی حکمران نے اچھا کام کر بھی لیا ۔ اپوزیشن نے داد دینے کی بجائے اس کا م سے کیڑے نکالنے شروع کردیئے ۔ اکثر یہ بات برملا کہتا رہتا ہوں۔ کسی بھی سیاسی جماعت نے ملک کا نہیں اپناسوچا، موجودہ حکومت پہلے دوسال سے مسائل سے نپٹنے کی بجائے اس میں زیادہ الجھی دکھائی دی۔اس کی شاید وجہ کورونا بھی ہوسکتی ، کورونا نے صرف پاکستان ہی کو نہیں پوری دنیا کی معیشت کو ہلاکر رکھ دیا ہے دو سالوں جی ڈی پی کی شرح منفی چار فیصد تھی جبکہ چند ماہ میں ترقی کی شرح 3.94 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ دنیا کا بڑے سے بڑا ماہراقتصادیات تسلیم کرنے کو تیار نہیں حکومت کی معجزاتی پالیسیوں سے ڈی جی پی کی شرح میں بہتر ی آئی ہے۔ چارفیصد تک بڑھنے کے اعداد و شمار حکومت کے مقرر کردہ ہدف سے بھی دوگنا ہے اگر حکومت نے بڑا ہدف حاصل کر لیا ہے تو اس کااثر نظر بھی آناچاہیے ۔ حکومت کو آئندہ بجٹ میں مہنگائی کاجن قابو کرنا چاہیے ۔ اگر عمران حکومت مہنگائی میں 25 فیصدکمی کرنے میں کامیاب ہوگئی تو بڑا کارنامہ ہوگا ۔اب عمران خان کو عوام میںڈیلیور کرنا ہوگا۔ اسی میں پی ٹی آئی کی بقاء ہے۔
 

بشکریہ اردو کالمز