390

نعرہ باز قوم

ہر حکومتی پارٹی جتنی محنت اور تندہی سے نعرہ تیار کرتی ہے اگر معاشی اور اقتصادی پالیسی پر دھیان دیتی تو خزانے میں چھید نہ ہوتا۔
الفاظ کا چنائو، وزن، لے، دھن نفسیات پر اس سٹاک سے پڑتے ہیں کہ دماغ پر سناٹا چھا جاتا ہے۔ پھر ڈھول کی تھاپ اور تالیوں کی گونج میں لوگ بدمست نعرے لگاتے ہیں اور سیاست دان دھن دھنا دھن نعرے بیچتیں، اقتدار پاتیں اور مال بناتیں۔
اور عوام نسل در نسل نعرے ہی لگا رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر آج کل ایک کلپ چل رہا ہے جس میں ایک باریش بابا شکر گزاری کی تلقین کرتے ہوئے کہتے ہیں آج سے کئی سال پہلے ایک خاتون گھی کی کڈوی لے کر جارہی تھی پوچھنے پر بتاتی ہے کہ اسے ب یچ کر کپڑے کا جوڑا خرید لوں گی اور اب بھی وہ کڑوی لے کر جارہی تھی پوچھا اماں کہاں جاتی ہو، کہنے لگی بیٹا یہ گھی بیچ کر ایک جوڑا اور جوتے خرید لوں گی۔ بابا نے کہا شکر کرو، ابھی وہ جوڑا اور اضافی جوتے لے آئے گی۔ شکر کا مقام یعنی گھی کی قسمت میں جو جوڑا پہلے آتا تھا اب جبکہ اصلی گھی سترہ اٹھارہ سو کے قریب ہے اب بھی لے آئے گی۔ لہٰذا شکر کرو۔
بس پھر کیا ہے سب نے سوشل میڈیا پر باآواز بلند شکریہ ادا کیا۔ سوچیں کیا تبدیلی آئی۔
پھر بھولی عوام نے نعرہ شکرانہ لگانا شروع کر دیا کہ اللہ کا کرم ہے کھانے اور پینے کو مل رہا ہے۔ بھٹو کا نعرہ لگانے والے جانتے ہیں کہ کل بھی بھٹو زندہ تھا آج بھی بھٹو زندہ ہے۔ اس نعرے میں اس قدر سرور ہے کہ بھوکے پیٹ بھی دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے۔
لیکن نعرہ لگانے والے شاید یہ ادراک نہیں کر پاتے سرور و مستی میں کہ کل بھی جیب خالی تھی آج بھی جیب خالی ہے، لیاری کے جیالے کل بھی جیالے تھے اور آج بھی ہیں۔ لیکن لیاری جو سو سال پہلے تھا آج بھی وہی ہے۔تھر جو پہلے تھا آج بھی وہی ہے۔ تاہم کراچی جو پہلے تھا اب وہ نہیں ہے نہ بجلی ہے نہ پانی لیکن پھر بھی بھٹو زندہ ہے۔
پھر قدم بڑھائو نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ اب عوام نے بھی قدم بڑھاتے نعرے لگائے۔ اس طرح عوامی نعروں اور غیبی طاقتوں نے انہیں تو اقتدار پر براجمان کر دیا ہے اور یہ شہر اقتدار کے گیٹ پر نعرے لگاتے لگاتے واپس اپنی چھابڑی اٹھا کر مزدوری کو چل دیے۔ آخر پاپی پیٹ کا سوال ہے یوں نعروں سے وقتی سرور ملتا ہے پیٹ تو نہیں بھرتا۔
پھر خان آئے اور ڈی چوک پر پہلے عوام کو تبدیلی کی مشق کروائی مہینے بھر کی ریہرسل کے بعد نعروں پر عوامی سر پکے ہوئے یہاں بات صرف گلا پھاڑ نعروں پر نہیں تھی۔ جدید سازوسامان کے ساتھ باقاعدہ کنسرٹ کروایا گیا کوریو گرافی کے لیے برے بڑوں کی مدد لی گئی یہاں رقص و سرور کی بات تھی عوامی گلوکارہ نے تان یوں کھینچی کہ
جب آئے گا عمران
بنے گا نیا پاکستان
بوڑھے، بچے، مرد و عورت جھوم جھوم گئے۔ جسم گرما گئے۔ پیر تھرک تھرک گئے واقعی ایسی مشق اس سے قبل کسی حکمران کے حصے میں نہیں آئی تھی۔ جس کا اس حکومت نے آغاز کیا۔
ان نعروں میں ایسی گرمی سرور اور نشہ تھا کہ لوگ مہینہ بھر چوک پر ناچتے رہے اور اپنے ہیرو کا دیدار لیتے رہے۔
پھر خان آیا اور سب کی جان نکل گئی۔ تبدیلی کا بگل بجانے والوں کی سانسیں پھولنے لگیں۔ اور نعرے اوپر سے نکلنے کے بجائے نیچے کو نکلنے لگے۔
لیکن ہم تو چونکہ نعرہ باز قوم ہیں۔ جان جائے پر وچن نہ جائے۔ اب بھی نعرے لگا رہے ہیں۔
لے کے رہیں گے پاکستان
بٹ کے رہے گا ہندوستان
سے 
بنے گا نیا پاکستان
تک کا نعروں والا سفر تو طے کر لیا۔ عوامی حالت تبدیلی اب تک جمود کا شکار ہے۔ بلکہ عوام حالت افیون میں ہے۔ ہر حاکم نیا نعرہ دے کر سلا دیتا ہے اور یہ نیم پژمردہ جسم لیے اور تار تار لباس جھوم کے، زور زور سے نعرہ لگا کر دھڑام سے چاروں خانے چت پڑ جاتے ہیں گدھ نوچتا ہے اور اڑان بھر لیتا ہے۔ لیکن فضائوں میں رہتی ہے تبدیلی آئی نہیں آگئی ہے۔

بشکریہ اردو کالمز