اب تو منی اور ڈارلنگ کے چرچے نجی محفلوں سے چوک چوراہوں تک پہنچ گئے ہیں۔ ان دونوں کی آنکھ مچولی میں رضیہ بے چاری غنڈوں میں پھنس گئی ہے۔ کس کس سے بچے، کس کس کا جواب دے۔ شیلا جوان کیا ہوئی ہے کہ ہاتھ ہی نہیں آرہی۔
اب تو ابا بھی پریشان ہیں کہ نکے کو کیسے سمجھائے، نکا ضد پر اڑا ہے اور ابا بے بس کھڑا ہے۔ ابے کو یقین نہیں آرہا کہ ہماری انگلی تھام کر چلنے والا اب ہمارے گریبان پر ہاتھ ڈال دے گا۔
لیکن کیا کیجیے یہ تو دنیا کی ریت اور ہماری تاریخ ہے کہ منی ڈارلنگ کی وجہ سے بدنام ہوتی آئی ہے۔
لیکن پھر بھی منی نے عشق نہیں چھوڑا کیونکہ جب بھی ڈارلنگ نے بے وفائی دکھائی منی نے بھی منہ موڑا اور دوسرا عاشق پکڑ لیا۔
یہ کھیل نصف صدی سے زیادہ کا ہے۔ اسکرپٹ وہی پرانا ہے۔ بس ہیرو اور ولن بدل رہے ہیں۔ کبھی ڈنڈا سر پر پڑتا ہے اور کبھی ڈنڈے سے ہانکا جاتا ہے۔
منی اور ڈارلنگ کی مفاد کی یہ عاشقی ماشوقی ستر برس سے جاری ہے۔ لیکن اب یہ بدنامی دنیا بھر میں اس لیے ہوئی ہے کہ نکا اور شیلا جوان ہو گئے ہیں۔ اور انہوں نے من مانیاں شروع کر دی ہیں۔
آخر کبھی نہ کبھی تو سانجھے کی ہانڈی کو چوراہے پر پھوٹنا تھا۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سانجھے کی نہیں جادو کی ہانڈی ہے جو پھوٹ گئی ہے، چونکہ وقت سے پہلے پھوٹی ہے اس لیے جادو الٹ گیا ہے۔ نہ جانے جادو کالا تھا یا پیلا البتہ حالات کی سن گن رکھنے والے کہہ رہے ہیں دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ اب تو سارے دیدہ و بینا رکھنے والے دال چنے میں لگ گئے ہیں۔ بھانت بھانت کی سنا رہے ہیں لیکن دال سے کالا نہیں نکال سکے۔
نکا سمجھا سمجھا کر تھک گیا ہے کہ دال پوری کالی ہے یہ ملکہ مسور کی دال ہے کیوں اپنا وقت ضائع کررہے ہو۔ ہمارا پیج ایک ہی ہے اور ہانڈی بھی ایک ہی ہے۔ البتہ بکرے کی سرے نہیں مل رہی جسے ہانڈی میں چڑھائیں۔
یہ امتحان ہے ابلاغی دانشوروں کا وہ بھانپ کر دکھائیں اس بار مسٹر یوٹرن کون سا ٹرن لیں گے۔
اس لیے کہ اب کی بار گاڑی کا اسٹیئرنگ نکے نے سنبھال رکھا ہے اور ابا پچھلی سیٹ پر ہے۔ اگرچہ ابا ہمیشہ سے نکے کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ کر ہی اسے گاڑی چلواتے رہے ہیں۔ لیکن اس بار نکے نے کانوں پر ہیڈ فون لگا رکھے ہیں۔
ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ سوچنے کی بات ہے ان ہاتھوں میں کیا دم ہو گا جس نے نکے کو مرد کا بچا بنا دیا ہے۔ یہ دم ہی ہے کہ جس نے بڑے بڑوں کا دم نکال دیا ہے۔
اس وقت سمندر بظاہر خاموش ہے لیکن اندر ہلچل اور طوفان بپا ہے اماوس کی رات کا انتظار ہے۔ جب موجیں آسمان کو چھوئیں گی۔ ہانڈیاں پھوٹیں گی، پتلے ہلیں گے۔ سرد رات، یخ بستہ ہوائیں پتوں کی سرسراہٹ، ملنگ کا گھنگھرو بندھا ڈنڈا جب زمین پر پڑے گا اور صدائے بلند ہوں گی پھر دیکھو عشق کا ٹیکا کس کے ماتھے پر سجتا ہے۔ عقیدت کی جیت ہو گی یا سیاست کی۔
سارے پتلے اپنی اپنی ڈوریوں کے ہلنے کے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ یہ وہ پتلے ہیں جن کے سروں پر مفاد کی ڈوریاں بندھی ہیں۔ ڈوری ہلانے والا کوئی ہو بس مفاد نہ ٹوٹے ان کی اپنی زبانیں نہیں ہوتیں یہ تو ادھار کی زبانیں لگا کر بولتے ہیں۔
یہ اتنے عقیدت مند ہوتے ہیں کہ ہر ایک سے عقیدت رکھتے ہیں۔ یہ ہر گلے کا ہار بنتے ہیں اور ہر مزار کی چادر ہر عرس پر دھمال ڈالتے ہیں اور ہر میلہ لوٹنے پہنچ جاتے ہیں۔ یہ لنگر لوٹنے کے شوقین ہیں۔ اور وہ دیگیں چڑھانے کے شوقین، بے چاری عوام اپنے دکھوں کے مداوے کے لیے مزاروں پر چڑھاوے چڑھاتی جارہی ہے۔ ہر مزار کے دیے میں عوام کا ہی تیل جل رہا ہے۔ لیکن ان کی امیدوں کا دیا اب تک بجھا ہوا ہے۔
عوام نسیان کا شکار ہے ہر بار بھول جاتی ہے ہر ایک سوراخ سے بار بار ڈسے جانے کی عادی ہو چکی ہے۔
بے چاری عوام کی جذبات کی ہانڈی ہمیشہ چولہے پر چڑھی رہتی ہے۔ جو لیڈر آتا ہے آنچ تیز کرتا اور اپنا فائدہ حاصل کر لیتا ہے اور یہ ابلتی ہی رہ جاتی ہے۔ یہ بھول جاتے ہیں کہ منی ہو یا ڈارلنگ ان کا رومانس عوام نامی دھمالی ٹولے سے نہیں۔ یہ تو صرف سیاسی مزاروں کی شان بڑھانے کے لیے ہوتے ہیں۔ انہیں کبھی بھی طاقت دی نہیں جاتی بلکہ ان سے طاقت لی جاتی ہے ان کے حلق نعرے لگانے اور پیٹ کاٹنے کے لیے ہوتے ہیں۔
ان کی جذباتی ہانڈی کو کبھی مذہب، کبھی رنگ و نسل، کبھی زبان اور کبھی وطن پرستی سے ابال دیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ دھمالی ٹولہ ستر برسوں سے ابل رہا ہے۔
سب مزے میں ہیں نکا اور ابا بھی منی اور ڈارلنگ بھی، شیلا اور رضیہ بھی۔
تاہم اس بار دھیریسے زور کا جھٹکا لگا ہے۔ رسی اس قدر تنی ہوئی ہے کہ لوگ اس انتظار میں ہیں کہ اب ٹوٹے اور کب ٹوٹے۔ سیاسی دانشوروں کی پیشن گوئیاں، سیاسی محاذ آرائیاں زبانی گولہ باری اور سوشل پھلجھڑیاں زوروں پر ہیں۔
لیکن ڈائریکٹر ابھی چین لکھتا ہے۔ کہتے ہیں اس قدر خاموشی بھی گھٹن پیدا کرتی ہے۔ کوئی تو گھن گرج ہو۔ نکا اسٹیئرنگ تھام کر صحرائوں میں نکل گیا۔ اباجی کو راستے میں اتار دیا ہے۔ ناخلف اولاد ایسی ہی ہوتی ہے۔ ابے کا سانس اٹکا ہوا ہے۔ لیکن منی تو اب بھی ڈارلنگ کے ساتھ ہے۔
رضیہ کو چکاچوند روشنیوں سے بلا کر غنڈوں کے حوالے کر دیا ہے۔ وہ کس کس کو منائے اور جواب دے۔
لگتا ہے اب کی بار گیم ہی الٹ گئی ہے۔ یہ سانپ سیڑھی کا کھیل زیادہ عرصے نہیں چلے گا۔ کب تک عوامی ٹولے کی پشتوں پر تازیانے بجائے جائیں گے اور انہیں جھنڈو بام لگا کر سہلایا جائے گا۔
اب وقت پلٹا کھانے کو ہے۔ ہر فرعون کے لیے موسیٰ ہے اور اب ساعتیں آنے کو ہیں جب آسمان روشن ہو گا۔ تاریکی چھٹے گی۔ خوشبو پھیلے گی، غلاف اتریں گے اور چادریں تبدیل ہوں گی۔ دیوں میں نیا تیل ڈلے گا پھر سوت اپنی نرم نرم روشنی دے گا۔ طاقت و اقتدار ایسا نشہ دیتا ہے کہ فرد غفلت میں پڑ جاتا ہے اور غفلت کا غلاف ڈھانپ لیتا ہے تو قانون قدرت حرکت میں آتا ہے۔ اور نشہ ایسا ہرن ہوتا ہے کہ غفلت کا پتلا ریت پر بنے گھروندے کی طرح برابر ہو جاتا ہے۔
اب بھی وہی خاموشی ہے وہی غفلت ہے۔ وہی خماری ہے اور وہی کنیا کماری ہے۔
پردہ سیمیں پر فلم چل رہی ہے اور نمائش بین انتظار میں ہے کہ ولن کس کو اٹھاتے ہیں منی کو یا ڈارلنگ کو۔
2076