ہم بحیثیت قوم اخلاقی طور پر دیوالیہ پن کا شکار ہیں۔ ویسے تو الحمدللہ ہم مسلمان ہیں۔ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہیں۔ تیس روزے رکھتے ہیں۔ عمرہ ، حج، زکوٰة، میلاد سے لے کر عاشورہ سب بڑی عقیدت سے مناتے ہیں۔ درود اذکار اس کے علاوہ۔ مسجدیں بھی آباد ہیں اور مزار بھی، عاشق بھی ہیں اور پروانے بھی لیکن پھر بھی ہمارا شمار کرپٹ قوموں میں ہوتا ہے۔ قانون کی دھجیاں اڑانے میں بھی ہمارا کوئی ثانی نہیں۔ اسکول ہو یا مدارس واعظ ہو یا استاد معلومات کا بوجھ تو لاد دیا لیکن کردار سازی نہیں کی۔ کردار سازی لیکچر دینے سے نہیں ہوتی عملی نمونہ پیش کرنا پڑتا ہے۔ بچہ آپ کی سنتا نہیں بلکہ آپ کو دیکھتا ہے۔ مشاہدہ کرتا ہے اور پھر وہی کرتا ہے جو آپ کرتے ہو۔
جنہیں لیڈر بنا کر ہیرو بنا کر ور شپ کی جاتی ہے ان کے قول و فعل میں دن اور رات کا سا تضاد پایا جاتا ہے۔
ہمارے لیڈر متنوع شخصیت کے مالک ہیں عوام میں ٹوپی لگا کر پیش ہوتے ہیں۔ کپڑوں اور شخصیت کی کریس چھپاتے ہیں لیکن جب اپنوں میں ہوتے ہیں تو یکسر بدل جاتے ہیں لباس، شخصیت گفتگو اور سوچ سب الٹ جاتی ہے۔
مذہب اور اخلاقیات کا تڑکا عوام کے جذبات کو گرمانے کے لیے لگایا جاتا ہے ۔ مشرقی رنگولی سجائی جاتی ہے لیکن جب اپنوں میں ہوتے ہیں تو سوچ، زبان، اقدار اور اخلاقیات سب مغربی ہو جاتے ہیں لیکن اس مغربیت میں بھی جھوٹ کا غلبہ ہونا ہے کہ مغربی اس قدر دیوالیہ پن کا شکار نہیں، وہ قانون کی پاسداری کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں کم از کم جو ہیں اس کا برملا اظہار تو کرتے ہیں۔
لیکن ہم وہاں بھی جھوٹ بولتے ہیں۔ ہمارے ہیرو اس قدر نرگسیت کا شکار ہیں کہ اپنے عیب نظر نہیں آتے دوسروں کے کردار کو تار تار کرتے ہیں۔
دوسرے کرپٹ، چور، جھوٹے، بے ایمان نظر آتے ہیں وہ کافر اور مشرک ہیں یہ سچے اور امانت دار۔
اس کردارکشی میں کردار سازی تو کجا ہم یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ہم کیا ہیں اور یہاں کیا کرنے ائے ہیں۔ دوسرے یاد رہ جاتے ہیں اور اپنا آپ بھول جاتا ہے۔ دوسروں کی کارکردگی یاد رہتی ہے اپنی بھول جاتی ہے۔
مذہبی رہنمائوں سے لے کر سیاسی رہنمائوں تک کسی نے اپنے فالوورز کی کردار سازی نہیں کی۔ البتہ انہیں استعمال ضرور کیا۔ ان سے طاقت کشید کی عقل و شعور اور آگہی سے دور رکھا کہ اگر فرد عقل و خرد سے کام لے گا تو سوچے گا سوال ضرور کرے گا۔ اور اگر باشعور ہو گیا تو حساب ضرور مانگے گا۔ پوچھ لیا تو پول کھل جائے گا۔ اس لیے پردے میں رہنے دو۔ فاصلہ بنائے رکھو، عقیدت کا عظمت کا، یہی وجہ ہے کہ عوام اور حکمرانوں کے درمیان سیکورٹی کا حصار ہوتا ہے۔
بات بات پر اللہ رسول کی قسمیں کھاتے ہیں اور ناقص مال بیچتے ہوئے ذرا بھی شرمندگی نہیں ہوتی۔ دھوکہ اس مہارت سے دیتے ہیں کہ دھوکہ بھی شرما جائے۔ لیکن اس کو بھی اپنی مہارت گردانتے ہوئے شکر کرتے ہیں کہ پکڑے نہیں گئے اور یہ خاصیتیں اشرافیہ سے لے کر ایک ریڑھی والے تک بدرجہ اتم موجود ہیں۔
ہر سیاست دان وہ کہتا ہے جو کرتا نہیں۔جھوٹے وعدے، جھوٹی نویدیں، ہر جھوٹا پر نیا جھوٹ گڑھتے ہیں۔ جبکہ
اللہ کہتا ہے
''اے ایمان والو، تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں ہو۔''
''اللہ کے نزدیک بہت سخت ناپسندیدہ بات یہ ہے کہ تم وہ بات کہو جو خود نہیں کرتے۔''
کرپشن کا قلع قمع کرنے کے دعوہ کرتے ہیں اور اپنی پارٹی کے کرپٹ لوگوں کو اپنے پروں میں چھپا لیتے ہیں۔ روٹی، کپڑا اور مکان، لوڈشیڈنگ، کرپشن کا خاتمہ، غربت کا خاتمہ، وغیرہ وغیرہ ۔
سب جھوٹے وعدے۔
جھو ٹ پہ جھوٹ ، ہم ببانگ دہل کہتے ہیں وہ وعدہ ہی کیا جو وفا ہو گیا۔
یہی وجہ ہے کہ ہم اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں۔ سیاسی جماعتیں ہوں یا مذہبی لیڈر سب عوام کواپنا فالورز بناتے ہیں لیکن باشعور نہیں بناتے۔ انہیں ریوڑ چاہیے، جو ان کے ہنکارنے پر دوڑا چلا آئے۔ کھڑا ہو کر پوچھے نہیں سر جھکا کر ہاتھ باندھ کر کھڑا رہے جو جتنا زیادہ سعادت مند ہو گا وہ اتنا ہی قریب ہو گا۔ بلکہ صاحب مرتبت ہو گا۔ صاحب فیضان اور اعلیٰ عہدے پر فائز ہو گا۔ باشعور سچا تو نظر نہیں آئے گا۔
جس نے اپنے حکمران سے کھڑے ہو کر سوال کر لیا وہ راندہ درگاہ ہو جائے گا۔
ترقی وہ کرتا ہے جو عقیدت مند ہو ۔گونگا اور بہرہ بنا رہے۔ سوال نہ کرے۔ ہم معاشی نہیں بلکہ معاشرتی اور اخلاقی ہر طرح کی کرپشن کا شکار ہیں۔
793