375

یہ تاخیر مہنگی نہ پڑ جائے

پاکستان اس وقت کئی بحرانوں میں گھرا ہوا ہے، جن میں اندرونی اور خارجہ پالیسی نے اسے تنی ہوئی رسی کی طرح دونوں جانب سے کھینچا ہوا ہے لیکن فی الوقت ٹی ایل پی بڑھتی ہوئی مہنگائی اور ڈوبتی ہوئی معیشت جیسے قرضوں کے ذریعے سنبھالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حکومت کے گلے کا پھندا بنتے جارہے ہیں۔
منیر نیازی کا شعر ہے۔
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
یہ مصرعہ وزیراعظم پر ایک دم ثابت ہوتا ہے کہ کپتان ہر معاملے کو لٹکا کر رکھتے ہیں۔ خواہ ڈی جی آئی ایس آئی کے نوٹیفکیشن کا معاملہ ہو یا دیگر معاملات، وہ پہلے تاخیری حربے استعمال کرتے ہیں۔ غور طلب بات ہے کہ اگر ندیم انجم کا نوٹیفکیشن جاری ہی کرنا تھا تو اس قدر تاخیر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ فوری فیصلہ کر لیا ہوتا۔ کئی ہفتوں تک تماشہ کیوں بنائیرکھا۔ اپنی اور ملکی اداروں کی ساکھ خراب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ ڈی جی آئی ایس آئی کوئی بھی ہو ایک ادارے کا سربراہ ہوگا۔ اپنا کام کرے گا۔ اسے اس قدر متنازعہ بنایا گیا کہ عوام کا بچہ بچہ اب فیض حمید اور ندیم انجم کو جاننے لگا ہے۔ غیر ملکی بھی انہیں تصویر دیکھ کر پہچان لیتے ہیں۔
بھانت بھانت کی بولیاں بولی گئیں۔ سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث کا آغاز ہوا۔ ابتدا میں اس کا جواب ہی نہیں دیا گیا ایشو کو خوب بڑھایا گیا پھر عوام کو یہ کہہ کر مطمئن کیا گیا کہ ٹیکنیکل معاملہ تھا۔
سب پریشان ہوئے کہ آخر تقرری ہی تھی یا گاڑی کا انجم خراب ہو گیا تھا جو جڑ نہیں رہا تھا۔ خیر ملک کو بحرانوں کی نظر کر کے ہمارے وزیراعظم سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہوئے اور پھر آنے کے بعد نوٹیفکیشن ہو گیا۔ ندیم انجم نے آنا تھا وہ ہی آئے لیکن ایک طرفہ تماشہ لگا کر انہیں لایا گیا۔ اس طرح ان کی تقرری کی ایک نئی تاریخ رقم ہوئی۔
لیکن حکومت کی جانب کوئی وضاحتی بیان نہیں آیا کہ آخر کیا وجہ تھی جو ایک تقرری کو ملکی مسئلہ بنا دیا گیا۔ بہرحال عوام کو ایک مشغلہ دے دیا گیا کہ وہ اس پزل کو حل کریں کہ ڈی جی آئی ایس آئی کی تقرری کب ہو گی۔ اور اگر ہو گی تو ڈی جی کون ہو گا ندیم انجم یا کوئی نیا فرد ہو گا۔
ابھی وہ مسئلہ حل ہی ہوا تھا کہ ٹی ایل پی کا معاملہ اٹھ کھڑا ہوا۔ احتجاجی مارچ پنجاب سے چلا اور آگے بڑھتا رہا اور حکومت حل ڈھونڈنے کے بجائے کنٹینر کھڑے کرنے میں مصروف رہی۔ پھر سڑک کی کھدائیاں شروع کر دیں۔ شہر کے گرد خندقیں کھودی گئیں۔ اسلام آباد کو جانے والی سڑکیں چھ سات روز تک بند رہیں۔
قافلہ آگے بڑھتا رہا اس چپقلشمیں چار پولیس والے اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے کئی مظاہرین زخمی اور ہلاک ہوئے۔ املاک کو نقصان پہنچا، لیکن حکومت ابتدا میں ضد پر اڑ گئی کہ ان سے بات نہیں ہو گی۔ کیونکہ یہ عسکری جماعت ہے اس کی فنڈنگ باہر سے ہورہی ہے۔ اس قدر دوغلاپن۔
یہ وہی حکومت ہے جو اس جماعت کو سپورٹ کرتی آئی ہے۔ اب اچانک ان کے خیالات جذبات اور حالات بدل گئے۔
یہاں بھی پی ٹی آئی کی حکومت نے تاخیری حربہ اختیار کیا کوئی پوچھے کہ ان سے بات کیوں نہیں ہو گی۔ یہ اس ملک کی جماعت ہے الیکشن جیت کر آئی ہے۔ ایک نظریہ کو لے کر آگے بڑھ رہی ہے آپ ان کے معترف رہے ہیں اور آج آپ ان سے بات کرنے کے روادار نہیں۔
وہ معاملات جو باہمی گفت و شنید سے حل کیے جا سکتے تھے انہیں ابتدا ہی میں روکا جا سکتا تھا۔ اناپسندی اور کم فہمی اور غیر سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس قدر جانی مالی نقصان کروایا گیا شاید پی ٹی آئی کی حکومت ملکی بحرانوں سے اس طرح نمٹ رہی ہے جیسے والدین روتے ہوئے بچوں کو خاموش کروانے کے لیے اس سے وعدہ کرتے ہیں کہ تمہیں فلاں جگہ گھمانے لے کر جائیں گے یہ کھلونا لے کر دیں گے اور پھر اس کو چند ٹافیاں دے کر خاموش کروایا جاتا ہے کہ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی تو بھاں بھاں تو بند کر۔
بس حکومت بھی یہی کررہی ہے۔ آخر حکومت جواب دے کہ اس نے ٹی ایل پی سے ایسا معاہدہ کیوں کیا تھا اور ان شرائط پر رضامندی کا اظہار کیوں کیا تھا جن کو پورا کرنے کی وہ سکت نہیں رکھتی۔ اس وقت ان کے قریبی افراد نے سمجھایا کہ ایسی شرائط طے نہ کی جائیں جن پر سمجھوتہ نہ ہو سکے۔
یہ ٹی ایل پی کا پہلا نہیں ساتواں مارچ ہے۔ لیکن حکومت ہر بار کسی سیاسی بصیرت کا مظاہرہ نہیں کرتی۔ ہر بار انہیں ٹال دیا جاتا ہے اور حکومت اپنی جیت کا جشن منا کر میڈیا کو خوش کر دیتی ہے کہ لو جی بات ختم۔ اب آگے بڑھو۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی لیکن ان کے تاخیری حربے ان کے گلے کا پھندا بن رہے ہیں۔ 
سربراہ جماعت وہ کیوں کہتی ہے جو کر نہیں پاتی۔
حکومتی تاخیری حربے عوام کو مستقل اذیت میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔ جن میں اس وقت سب سے بڑا بحران مہنگائی کا ہے۔ جس پر کسی طور قابو نہیں پایا جا سکا ہر ہفتے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ ڈالر کی اونچی اڑان، بجلی کی قیمتوں میں آئے روز اضافہ، واقعی کپتان مہنگائی کا سونامی لے آیا ہے۔ چیخیں نکال دی ہیں اور اپنے ہی پھندے میں جکڑے جارہے ہیں۔ دیکھیں اب ان کی چیخیں کب نکلتی ہیں۔
مسائل دن بدن بڑھتے جارہے ہیں اور حکومت کی جانب سے عوامی دکھوں کا مداوا یہ کہہ کر دیا جارہا ہے کہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ ایک پیج پر ہے  جبکہ عوام کا پیج ریزہ ریزہ کر دیا ہے۔
سیانے کہہ رہے ہیں یہاں تو حکومت داخلی طور پر ایک پیج پر نہیں ہے ہر وزیر مشیر کا بیانیہ دوسرے سے متجاد ہے۔ وہ میڈیا پر ایک دوسرے کی نفی کررہے ہوتے ہیں۔ وزیراعظم بذات خود کئی بحرانوں کے حوالے سے لاعلم ہیں۔ کون کیا کررہا ہے کسے علم، بس علم ہے تو یہ کہ کس طرح میری کرسی بچ جائے اور میرے مفاد کو کوئی ٹھیس نہ پہنچے۔
اس وقت حکومت ہو یا اپوزیشن یا کوئی اور کسی کو عوام کی پریشانیوں کا علم نہیں۔ انہیں صرف اپنے مفادات کی پڑی ہے یہاں ستر برس سے مفاد کا کھیل کھیلا جارہا ہے اور عوام کو صرف نعروں کی تھاپ پر خوش کیا جارہا ہے۔
ملکی معیشت ڈوبنے کو ہے۔ قرضوں پر قرضے لیے جارہے ہیں۔ لیکن وزیراعظم سمیت کسی کو شرم نہیں آرہی نہ ہی آئی ایم ایف کے پاس جانے پر کسی نے خودکشی کی ہے بلکہ بڑے فخر سے کشکول لے کر جاتے ہیں اور بھر کر لے آتے ہیں۔ اتنے قرضے تو گزشتہ حکومتوں نے نہیں لیے ہوں گے جو حالیہ تین برسوں میں لیے گئے ہیں۔ لیکن حکومت بھول گئی کہ وہ کیا کہہ کر اور کیا وعدے کر کے آئی تھی۔
اسی لیے کہتے ہیں وہ کہتے کیوں ہو جو کرتے نہیں۔
اب کی بار پھندا بہت قریب آرہا ہے اور اس مرتبہ تاخیر کی تو کہیں اخیر ہی نہ ہو جائے۔
یہ تاخیر شاید مہنگی پڑ جائے۔

بشکریہ اردو کالمز