1837

جوانوں کا  بوڑھا ملک

 حیرت کی بات ہے اگرسڑک پر کوئی جوان بھیک مانگتے ہوئے نظر آئے تو فوراً  تیوری چڑھا کر کہا جاتا ہے۔
''  شرم نہیں آتی بھیک مانگتے ہوئے  ہٹے کٹے ہو کر بھیک مانگ رہے ہو۔ جوان ہو کوئی کام کیوں نہیںکرتے ۔ جائو کام کرو ، ہاتھ پیر سلامت ہیں، محنت کرو اور کمائو۔
لیکن ہمارا ملک نوجوانوں کی آبادی کے لحاظ سے دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے۔جہاں کی آبادی کا 64  فی  صد حصہ 30  برس سے کم عمر کے نوجوانوں پر مشتمل ہے۔
شومئی قسمت کے نصف سے زیادہ جوان رکھنے  والا ملک اسقدر بوڑھا ہے کہ قرضوں کی لاٹھی پر چل رہا ہے۔
اتنی زیادہ لیبر فورس رکھنے والا ملک ویل چیئر پر آگیاہے۔
یہ اسقدر بوڑھا  اور کمزور ہوگیا ہے کہ اب اپنا وجود نہیں اٹھا پا رہا ۔اس کے بوڑھے وجود کو ملک کے اسمارٹ اور جوان وزیراعظم جوکہ جوانوں کے خاص الخاص نمائندہ ہیں ، آئی ایم ایف  اور  ورلڈ بینک سے لے کر ملکوں  ملکوں اسٹریچر پر لادھ کر علاج کی غرض سے گھما رہے ہیں۔ 
بڑی غیرت کا مقام  ہے کہ جس باپ کے اتنے بیٹے ہوں اس کا علاج نہ کرواسکیں ۔
کچھ کرنے کے بجائے کشکول  اٹھا کر در در مانگتے پھر رہے ہیں۔
یہی حال ہمار ے ملک کا ہے یہاں جوان بھی ہیں ،  وسائل بھی ہیں، ٹیلنٹ بھی ہے، ہنر بھی ہے اور جذبہ بھی ہے لیکن روز گار کے مواقعے نہیں ۔ اس  ملک کی پیداواری صلاحیت نہ ہونے کے برابر ہے۔
اول تو تعلیم نہیں جو تعلیم یافتہ ہیںان کے لیے نوکریا ں نہیں ، کوئی سماجی ڈھانچہ نہیں ۔
جوانوں کے اس بوڑھے ملک میںقرض اور خیرا ت مل جانے پرایک دوسرے کو مبارک باد پیش کی جاتی ہیں کہ بھائیو ں  سوتے رہنا  ، اگلے ایک سال گزر بسر ہوجائے گا۔ دیکھا اوپر والا غیب سے رزق دے رہا ہے۔ تم خوامخواہ  پریشان ہورہے تھے ، جس نے پید اکیا ہے وہ  رزق بھی دے گا آخر  اس کا  وعدہ ہے۔
تمھارے جوان دبنگ اور  اسمارٹ وزیر اعظم نے بھی کوئی کام نہیں کیا تو کیا وہ بھوکا مرگیا تم بھی نہیں مرو گے ۔ اوپر والا دے گا۔
جوانو ں کے اس بوڑ ھے ملک کے وسائل اسقدر ہیں کہ باہر والوں کو ٹھیکے دیے جارہے او ر اپنوں کو دھکے دیے جارہے ۔
جو دس سالہ حکمرانی کی بات کرتے ہیںوہ آج  پنج سالہ معاشی پالیسی نہیں بنا سکے ۔ پنج سالہ نہ  سہی  تین بر س کی ترقیاتی پالیسی ہی مرتب کردیتے ۔
سرمایہ تو خوب ہے لیکن سرمایہ کاری نہیں البتہ  سرمایہ داری ہرجگہ پنجے گاڑھے بیٹھی ہے۔
طبقات میں بٹا ہوا معاشرہ  تقسیم در تقسیم  ہوتا چلاجارہا ہے۔ یہ قرض پر پلنے والی عوام ہے جس کی نہ اپنی کوئی سوچ ہے نہ فکر ہے ۔ ہر نسل نے باپ دادا کی فکر کو تعویذ بنا کر پہن لیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ہر بار ٹرک کی بتی کے پیچھے  دماغ بند کر کے چل دیتے ہیں۔
لٹیروں کو سنگھاسن  پر بٹھاتے  ہیں اور محسنوں کو فراموش کردیتے ہیں۔ یہ فکری اعتبار سے دوہلے شاہ کے چوہے ہیں ۔ ایک مخصوص نقطہ نظر جو سینہ بہ سینہ دیا گیا ہے، اس کے آرپار دیکھنے کی جسارت نہیں کرتے ۔
منبر سے ڈ ائس تک جو دیا جارہا ہے عقدت مندی سے جھک جھک کرلیا جارہا ہے اور اسی عقدت مندی اور سعادت مندی سے بوڑ ھے کو گھما گھما کر مال بٹورا جارہا ہے۔ کہیں مسکین بن کر اور کہیں عیاری سے کام لے کرمانگا جارہا ہے، کیونکہ مانگتے ہوئے شرم نہیں آتی  اور ویسے بھی وہ کونسا دے رہے ہیں اوپر والا دلوا رہا ہے۔ 
ا ب توبڑے بڑے دعوے کرنے والے چندو لال بن گئے ہیں۔ ہر طرف  سے چندہ  اکٹھا کیا جا رہا  ہے لیکن بوڑھے کی حالت میں سدھار آنے  کے بجائے  وہ مزید نحیف ونزار ہوتا جا رہاہے۔ اب تو وہ ہرکروٹ ہائے ہائے کررہا  ہے ، وہ  دہائی دیے جارہا ہے اور یہ ہر چندے پر آپس میں ایک دوسرے کو بدھائی دیے جارہے ہیں۔ 
جو دے رہے ہیں وہ کہہ  رہے ہیں شرم نہیں آ تی اتنے ہٹے کٹے ہو کر مانگ رہے ہو۔

بشکریہ اردو کالمز