542

کنفیوژن ہی کنفیوژن

یہ حکومت کیسے چل رہی ہے اور کون چلا رہا ہے۔ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔ حکومت اس قدر کنفیوز ہے کہ اپنے ساتھ ساتھ عوام کو بھی ذہنی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے اور اپنی ساکھ بھی داخلی اور بین الاقوامی سطح پر خراب کر دی ہے۔
ٹی ایل پی کو عسکریت پسند اور دہشت گرد جماعت قرار دینے کے بعد ان سے مذاکرات کیے اور دوسرے روز ان کے ایک ہزار سے زائد کارکنوں کو رہا کر دیا گیا۔ یہ وہی جماعت ہے جنہیں انڈیا سے فنڈنگ ہورہی ہے۔
اب سینئر اعجاز چوہدری کے بقول ان سے پنجاب میں سیٹ ایڈجسمنٹ پر بات چیت کی تیاری ہورہی ہے۔ ریاستی رٹ کہاں ہے وہ مفاد کی چادریں لپیٹ کر کونے میں پھینک دی گئی ہے۔ 
عمران صاحب نے قوم سے خطاب کرنا تھا۔ اسے ملتوی کر دیا گیا۔ ظاہر ہے اب کیا جواب دیں گے۔ بہرحال وہ کچھ بھی کہہ سکتے ہیں کہنے میں کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اب تک جو کچھ کہا ہے وہ بس کہنے کی حد تک ہی کہا۔ کرنے کا کام تو کوئی اور کرتا ہے۔ اب کی بار معاہدہ واقعی خفیہ تھا۔ میڈیا پر کوئی اور تھے اور اندر کوئی اور تھے اور فوٹو سیشن میں کوئی اور تھے۔ اسی طرح معاہدہ بھی کوئی اور تھا۔ سیل بند۔ پٹاری میں کیا ہے۔ کسی کو معلوم نہیں۔ 
مفتی منیب صاحب فرما رہے ہیں کہ وزرا جھوٹ بیانی کرتے رہے ہیں۔ معاہدے کی شرائط میں فرانس کے سفیر کی ملک بدری کی شرط شامل ہی نہیں تھی۔
لو اب ایک نیا کنفیوژن تو پھر معاملے کو سلجھانے میں اس قدر تاخیر کیوں کی گئی۔ آنیاں جانیاں کیوں لگی رہیں۔ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت جان و املاک کا نقصان اور معیشت کو اربوں کا دھچکا کیوں دیا گیا۔ کنفیوژن ہی کنفیوژن۔
وزیراعظم صاحب کو پنجاب سے نکلنے سے پہلے ٹی ایل پی کو روک دینا چاہیے تھا تاکہ وزیر داخلہ سگار اور کرکٹ کے مزے سے لطف اندوز ہو سکتے۔ فواد چوہدری کو بھی وہ سبکی نہ اٹھانی پڑتی۔ جس کا بوجھ اب ان کے دل پر پڑا ہے۔ طاہر اشرفی صاحب اور نورالحق قادری بھی یہاں وہاں دوڑے نہ لگاتے۔ مذاکرات اس قدر خفیہ ہیں کہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کو ہی آئوٹ کرنا پڑ گیا۔ حتیٰ کہ آرمی چیف نے بھی انہیں سائیڈ پر لگا دیا اور مفی صاحب، عقیل کریم ڈھیڈی اور بشیر فاروقی کو شرف ملاقات بخشا گیا اور انہوں نے ثالثی انجام دی۔ اور پارلیمانی حکومت کیا کررہی تھی یہ بھی عجب کنفیوژن ہے۔
اس وقت ملک میں قانون کی بالادستی اور پارلیمان کی بالادستی کو بھی لپیٹ کر رکھ دیا گیا ہے۔
نہ حکومت ہے نہ اپوزیشن ہے، نہ داخلہ پالیسی ہے اور نہ خارجہ پالیسی نہ معاشی پالیسی ہے اور نہ اخلاقی پالیسی ہے۔
موجود حکومت بھان متی کا کنبہ ہے کہیں کی اینٹ اور کہیں کا روڑا ہے۔
اگرچہ کہنے کو یہ ایک پارتی ہے لیکن اس قدر دراڑیں پر چکی ہیں کہ کسی وقت بھی کرچی کرچی ہو جائے گی۔
مفتی منیب کے بیان کے بعد کسی وزیر نے اب تک اس کی تردید نہیں کی کہ وہ فرانس کے سفیر کے معاملے پر جھوٹ کیوں بول رہے تھے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ گمراہ کن بیانات نہیں ہیں۔
اب سوال یہ بھی ہے کہ ایک منتخب حکومت نے ایک کالعدم تنظیم کے ساتھ معاہدہ کیا اور اب ان سیٹ ایڈجسمنٹ کی باتیں منظر عام پر آرہی ہیں۔ اسے سیاسی دھارے میں شامل کیا جارہا ہے۔ اگرچہ وہ پہلے ہی پنجاب کی تیسری منتخب جماعت کے طور پر سامنے آچکی ہے۔ پنجاب اور سندھ سے بھی دو سیٹیں حاصل کر چکی ہے۔ چھ بار اسلام آباد کی جانب مارچ کر چکی ہے تو پھر حکومت ان سے بیٹھ کر اچھے بچوں کی طرح مذاکرات کیوں نہین کر لیتی۔ ان کے مطالبات کو حل کیوں نہیں کر دیتی۔
ایسے معاہدے کیوں کرتی ہے جن پر عمل درآمد نہ کر سکے۔
انہیں انڈین ایجنٹ قرار دینے اور باہر سے فنڈنگ کا الزام کیون لگایا گیا۔ ایک دم سکت رویے کے بعد حکومتی پالیسی کا یہ یوٹرن ایک نیا کنفیوژن پیدا کر گیا اب ہزارہا سوال ہیں۔
اب سوال یہ ہے بیرونی سطح پر پاکستان کی ساکھ کو کس طرح پیش کیا جائے گا۔ شاہ محمود قریشی اس کا دفاع کیسے کریں گے۔
ڈانواں ڈول ملکی معیشت والے اس ملک کو مستحکم بنانے کے لیے اس کا دفاع مغرب میں کیسے کیا جائے گا۔
کپتان صاحب تو حکومتی پچ پر جم کر نہیں کھیل پا رہے۔ ہزاروں کی کرائوڈ میں کھیلنے والے کپتان چند وزرا کو سنبھال نہیں سکے۔
ورلڈ کپ جیتنے والے اب میدان مین صرف اپنی ٹیم کے ہمراہ ہی رہ گئے ہیں اور کرسیاں خالی پڑی ہیں۔
اب خود بال کروا رہے ہیں اور خود کیچ پکڑ کر چھوڑ رہے ہیں۔ چوکا چھکا دیکھنے والے نکل لیے۔
اب تو خان صاحب پیار ہیں کسی اور کا انہیں چاہتا کوئی اور ہے۔
اب جو کہتے تھے کہ ہمیں ریاستی رٹ قائم کرنی ہے انہیں منہ کی کھانی پڑ گئی ہے۔  منظر سے ہٹا کر ایک نیا منظر نامہ لکھ دیا گیا ہے۔
جو بھی ہوا اچھا ہوا کیونکہ ہمارا ملک ان سنگین حالات میں کسی خون خرابے اور جبر کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
مفاہمت اور گفتگو شنید ہے وہ بہترین راستہ ہے جس سے الجھے ہوئے مسائل سلجھائے جا سکتے ہیں لیکن وزیراعظم نے ملکی معاملات کو انا کا مسئلہ بنا لیا ہے یہی وجہ ہے لیڈر آف دی اپوزیشن شہباز شریف سے کسی طور پر بات کرنے کو تیار نہیں لیکن حالیہ معاملات کے بعد یقینا وزیراعظم کو سمجھ لینا چاہیے کہ سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں۔ کوئی رقابت ذاتی دشمنی نہیں۔ سیاسی لڑائی سیاست سے لڑی جاتی ہے۔ ذتی عناس سے نہیں۔
جواب ہوا یہ ہوتا رہتا ہے۔ سب چلتا ہے بھائی۔ سب بکتا ہے، بس بولی لگانے والا تگڑا ہونا چاہیے۔ یہاں طاقت نہیں سیاست چلتی ہے۔ اگر چلانا آئے تو!
٭٭٭

بشکریہ اردو کالمز