وزیراعظم نے پہلا نعرہ سونامی کا لگایا تھا۔ اس کے بعد وہ تبدیلی میں تبدیل ہو گیا لیکن تبدیلی کا منشا اور مقصد وہی سونامی ہی رہا ہے جس کا ثبوت ان تین سالوں میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کی صورت میں اسمارٹ وزیراعظم نے دیا ہے۔
اب پاکستان اس خطے کا مہنگا ترین ملک بن گیا جس طرح دن دگنی اور رات چوگنی مہنگائی بڑھ رہی ہے پاکستان اور کسی شعبے میں ترقی کرے نہ کرے مہنگائی میں ضرور کر لے گا۔
دن میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا بتانا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف ہوتا ہے اس لیے اب رات کے اندھیروں کو پیٹرول بم گرا کر روشن کیا جارہا ہے اور سوتے ہوئے عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔ اتنے اہتمام سے پائوڈر شائوڈر لگا کر بال بٹھا کر، سیاہ کوٹ پہن کر اچھے بچوں کی طرح عوام کو تاریخ کا سب سے بڑا پیکیج 120 ارب کا دیا اس کے ساتھ ہاتھوں ہاتھ گھی مہنگے ہونے کی پٹی بھی چلتی رہی اور چوبیس گھنٹے بعد آدھی رات کے سناٹے میں پیٹرول بم گرایا۔ عوام صبح اٹھی تو جیب تار تار تھی۔ لیکن عوام پھر بھی پاکستانی ڈراموں کی صبر و شکر والی مظلوم بہو کی طرح اتنے کا پیٹرول بھروا کر کام پر چل دی کچھ نہ بولی صبر کر لیا۔
کیونکہ اب بولے بھی تو کیا ان کا اپنا فیول ختم ہو گیا ہے۔ اسمارٹ وزیراعظم نے چینی کو 160 روپے کلو کر دیا۔ کیونکہ چینی سے ذیابیطس امراض قلب تو ہوتے ہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ وزن بھی بڑھ جاتا ہے۔ اس عوام دوست وزیراعظم نے چینی کو مہنگا کر دیا تاکہ عوام بھی اسمارٹ ہو جائیں اور سکس پیکس بنائیں۔ پیٹ اندر ہو تو عمر کا پتا نہیں چلتا اورنہ کھانے کا پتہ چلتا ہے۔ جیسے ہمارے وزیراعظم اب تک فٹ فاٹ ہیں۔
عوام کو تین سالوں میں پی ٹی آئی نے لسی کی طرح بلو کر مکھن نکال لیا ہے۔
اس سے قبل گنڈاپور وزیر نے نوید سنا دی تھی کہ اگر سو دانے شکر کے کھاتے ہو تو اس میں سے نو دانے کم کر دو تو کیا چائے میٹھی نہیں ہو گی۔ بات تو ٹھیک تھی۔ وزیراعظم نے اسی وقت نوٹس لیا اور اب عوام صرف دس دانے ہی استعمال کرنے کے قابل ہے۔ ہر مہنگائی کے بعد عوام سے کہا جاتا ہے کہ گھبرانا نہیں ہے۔ کیونکہ 120 ارب دے کر سات سو ارب تو عوام سے تیل، گیس، بجلی، چینی، آٹا، گھی اور ادویات کی مد میں عوام سے ہی کھینچنا ہے۔ واقعی وزیراعظم اسمارٹ ہیں بڑی مہارت سے تقریر کرتے ہیں۔
یا تو وزیراعظم صاحب اپنے خول میں بند ہیں یا پھر اب تک کنٹینر والے لاڈلے بنے ہوئے ہیں۔ وہ لاڈ و پیار والی خماری اتر ہی نہیں رہی کہ جائزہ لے سکیں کہ تحریک انصاف کی اب صرف تحریک ہی رہ گئی ہے۔ انصاف تو دفن ہو گیا ہے۔
پہلے عوام کنٹینر کے سامنے خان کی محبت میں ناچتے تھے اب مہنگائی کے جھٹکوں نے جسم میں ترنگ کی لہریں دوڑا دی ہیں۔
وزیر و مشیر، بیوروکریٹ، وزیراعظم و صدر اور مزید اوپر والے مقدس ترین حکمرانوں کو مہنگائی سے ککھ اثر نہیں پڑتا۔ ان کی بجلی، گیس، پیٹرول، سفر شفر، حج عمرے، دورے، ہوٹل کھانے، نوکر چاکر سب فری، کھلا کھاتا ہے۔ ان کی تنخواہیں بھی بڑھ رہی ہیں ان کے لیے نئی گاڑیاں، ہیلی کاپٹر سب فری۔
اور عوام بے چاری ایک پنکھا چلا کر ان کے اے سی کا بل اپنی جیب سے دیتی ہے۔ ایک پیناڈول کھا کر لاکھوں کا بل اپنی جیب سے دیتی ہے۔ لیکن غریب اور معصوم عوام کیا جانے کہ حکمران اور اشرافیہ طبقہ اپنی عیاشیوں کو عوام کی جیب سے نکالتے ہیں۔ عوام کے دکھ سے چمکتے دمکتے چہروں والے اشرافیہ، بڑی بڑی گاڑیوں اور پروٹوکول سے جب سڑک پر چلتے ہیں تو اپنے پالنے والی عوام کو ہش ہش کر کے سائیڈ پر لگا دیتے ہیں۔ کہا جاتا ہے، جس کا کھایئے اسی کے گن گایئے۔ یہاں تو اس کے بالکل الٹ ہے عوام کا پیسہ ان کے ٹیکس، ان کا صدقہ خیرات ان کے نام کی امداد، سب ہڑپ کر کے یہ طبقہ اشرافیہ ٹھہرا اور عوام کو دھول مٹی کی طرح بے وقعت کر رکھا ہے۔ انہیں یہ سمجھ اور ادراک ہی ہونے نہیں دیا جاتا کہ وہی تو اپنے اشرافیہ طبقے کو پال رہی ہے۔ ان کی عیاشیوں کا سامان انہی کی جیبوں سے نکالا جاتا ہے لیکن عوام کی آنکھوں پر عقیدت، لسانیت، نسل پرستی اور شخصیت پرستی کی پٹی بندھی ہے۔
وہ تو پژمردہ جسم کی طرح خود ہی گدھوں کے سامنے لٹ گئی ہیں اور وہ اسے نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔
پاکستان کی حکومتی پارٹی، اپوزیشن مذہبی جماعتوں کسی نے عوام کے لیے مہنگائی کے لیے بجلی گیس تیل کی بڑھتی قیمتوں کے لیے، ناانصافی، ظلم و زیادتی کے لیے آج تک دھرنا نہیں دیا۔ کوئی احتجاج نہیں کیا۔ بس ان کے دل میں عوام کا درد ہے، لگتا ہے یہ گیس کا درد ہے جسے اجوائن کی پکھی کھا کر دور کر لیتے ہیں۔
یہ درد دراصل بسیار خوری کا بھی ہو سکتا ہے۔
اب بھی عوام کو گھبرانا نہیں ہے۔ یہ وہ کہہ رہے ہیں جن کے گھر میں سب مفت آتا ہے۔ انہیں آٹے دال کا بھائو نہیں معلوم۔ جنہوں نے کبھی پہلی تاریخ تک سیلری کا انتظار نہیں کیا، یوٹیلٹی بلز نہیں دیے۔ اسپتالوں کے چکر نہیں کاٹے، ان کا تو سب مفت ہے۔ مفتے پر گزارا ہے۔ اس لیے عوام کا احساس تو کیا اپنی ستم ظریفی بھی محسوس نہیں ہوتی ریاست مدینہ میں تو بھوکے کتے کے حساب سے بھی خلیفہ خوف زدہ ہو جاتے تھے۔ یہاں انسان خودکشی کر لیں تو وزیراعظم کہتے ہیں میں کیا کروں؟
قول و فعل کا یہ تضاد اس قدر واضح ہوتا جارہا ہے کہ اب چولیں ہلتی محسوس ہورہی ہیں۔ کچھ سنبھل نہیں رہا کرائے کی زبانیں بھی لڑکھڑانے لگی ہیں۔ کتنا بولیں اور کب تک بولیں۔ جھوٹ تو آخر جھوٹ ہے۔ سچ ہمیشہ غالب آکر رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہر بار جھوٹ پر سچ کی چوٹ پڑ رہی ہے۔
اب جھوٹ چھپ نہیں رہا بلکہ ہر بار عیاں ہورہا ہے۔ لیکن بولنے والے دمادم مست کے نشے میں ہیں کیونکہ عوام بھی تازیانے اپنی پیٹھوں پر کھانے کی عادی ہے۔ وہ درد سے چلانے کے بجائے جھوم رہی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ غم کا الم ہو۔ لیکن صدمے میں آئے ہوئے کو ہوش میں لانے کے لیے ایسے ہی تابڑ توڑ تھپڑ رسید کیے جاتے ہیں تب ہی اسے ہوش آتا ہے۔ اس لیے اب وقت آگیا ہے کہ عوام بھی گھبراہٹ سے باہر آجائے آخر کب تک گھبراتی رہے گی۔ اب بنتا ہے تم بھی کچھ ہاتھ پیر ہلائو، تاکہ تمہارے مردہ جسموں میں جان آئے اور حرکت کرو تاکہ رزق میں برکت آئے۔ کیونکہ بغیر حرکت کے تم مردہ تصور کیے جائو گے اور مردہ پر مٹی ڈال کر دبا دیا جاتا ہے۔
جیسا گزشتہ 70 برسوں سے ہوتا جارہا ہے۔ جہاں ہلکی ہلکی حرکت نظراتی وہیں مٹی پائو کا فارمولا دہرا دیا جاتا ہے۔ اپنی آنکھوں سے پٹی کھولو، دماغ کی دھند دور کرو، اور سوچو، غور کرو، تمہاری ڈوری کون سی طاقت ہلا رہی ہے اس سے حساب لو۔
اب وقت آگیا ہے کہ عوام اپنے مردہ جسموں میں جان ڈالے اور پکارے کہ ساڈا حق ایتھے رکھ۔
اب ہمیں حساب دو، ہمارے ٹیکس کہاں جارہے ہیں۔ ہمارا مال کون کھا رہا ہے۔ ہمارے پیسے پھر عیاشیاں کیوں کی جارہی ہیں۔ یہ نئی نئی گاڑیاں اور ہیلی کاپٹروں کے خرچے، حج عمرے اور کروڑوں کی شادیاں کیسے ہورہی ہیں۔ غریب کے لیے چھت نہیں اور اشرافیہ اربوں کے فارم ہائوس کیسے بنا لیتی ہے اگر عوام ٹیکس نہیں دیتی تو ان کی شوگر ملیں ادویات کی فیکٹریاں، سیمنٹ کی فیکٹریاں، چمڑے کی فیکٹریاں کیسے چل رہی ہیں۔
عوام چالیس ہزار روپے پر ٹیکس دے اور یہ لاکھوں پر ٹیکس سے مستثنیٰ ہو جائیں یہ کونسا انصاف ہے ان کی دولت دن بدن بڑھتی جارہی ہے اور عوام غریب سے غریب ہوتی جارہی ہے۔
عوام کے پیروں سے زمین نکل رہی ہے۔ اور یہ ہزاروں ایکڑ اراضی کے مالک بنتے جارہے ہیں۔ غریب کا بچہ تعلیم سے محروم اور ان کے بچے پیدا ہوتے ہی لاکھوں کے کاروبار کے شراکت دار اور بزنس مین بن جاتے ہیں۔
اب عوام کا وقت ہے کہ وہ اپنا حساب لے، بولو اور پوچھو کہ کہاں سے آرہا ہے اور کہاں جارہا ہے ورنہ یہ خان پشت پر بوجھ ڈال کر اس قدر جھکا دے گا کہ زمین سے نہیں لگو گے بلکہ دفن ہو جائو گے۔
314