ہمارے ہینڈسم وزیراعظم کو نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ہے کہ ہر تدبیر الٹی پڑ رہی ہے۔ پے در پے سبکی ہورہی ہے۔ لگتاہے کوئی وظیفہ الٹ گیا ہے۔ جو یوں بے سوچے سمجھے منہ سے بونگی نکل جاتی ہے۔
جس کی مثال حالیہ سی این این کو دیا جانے والا انٹرویو ہے جس میں اس قدر کو وزیراعظم نے حقانی نیٹ ورک کی معلومات دی کہ سوشل میڈیا پر وزیراعظم کے میڈیا سیل نے مہمز چلا دیئے کہ دیکھا ہمارے ہینڈسم خان نے سی این این کی صحافی کو بولنے نہیں دیا۔
اور یہ سچ ہے کہ وہ انگشت بدندان تھی کہ یہ راز اسے پہلے کسی نے نہیں بتایا کہ حقانی کا نیٹ ورک کہاں سے ہے۔
پھر صحافی نے جب بائیڈن کے فون کا پوچھا تو ہینڈسم وزیراعظم ایک لمبی اور ٹھنڈی آہ بھری۔
جیسے مشتاق عاشق اپنی محبوبہ کی جدائی میں ایک لمبی آہ بھر کے اسے یاد کرتا ہے۔
اور پھر مغربی طرز پر کندھے اچکائے اور ہاتھ پھیلا کر بولے شاید وہ مصروف ہوں گے اس لیے فون نہیں کیا۔
لوجی، یہ وہ بونگی تھی جس پر انہیں منتخب کرنے والوں نے بھی سر پکڑ لیا ہو گا۔
اگرچہ وزیراعطم کہہ سکتے تھے کہ ہمیں بائیڈن کے فون کا ہرگز انتظار نہیں سفارتی سطح پر بات چیت ہوتی رہتی ہے۔
لیکن خان صاحب کی سرد آہ انہیں لے ڈوبی۔ اور حقانی نیٹ ورک میں الجھ کر اپنی ہی بات پر ضرب لگا دی کہ میں افغان اور طالبان جتنا جانتا ہوں امریکی اور یورپی نہیں جانتے۔
مکافات عمل کا تو سنا ہے لیکن اب اس کا عملی مظاہرہ بھی دیکھ لیا آپ کا ہر بیان الٹ کر آپ کے سامنے آرہا ہے۔ یا شاید عوام کی بددعائیں رنگ لارہی ہیں۔
وہ تمام الزام تراشیاں جو آپ کنٹینر پر کھڑے ہو کر کیا کرتے تھے ردعمل کے طور پر آپ کے سامنے موجود ہیں۔ اس قدر جلدی نتیجہ مرتب ہورہا ہے کہ شاید آپ اور آپ کی ٹیم بھی حیران ہو گی کہ ابھی تو صرف تین برس ہوئے ہیں اقتدار اعلیٰ پر براجمان ہوئے۔
آپ کے بیان الٹے تیر کی طرح پڑنے شروع ہو گئے۔ آپ کہتے تھے کہ پیٹرول مہنگا ہو تو سمجھ لو حکمران چور ہے۔ اب 5 روپے مزید اضافہ کر کے پیٹرول کی قیمت کو تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا۔ ڈالر تاریخ کی بلند ترین سطح پر آگیا ہے۔ بجلی، ادویات اور اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں روز افزوں اضافہ عوام کی پشت پر ہر روز کوڑے برسانے کے مترادف ہے۔
تحریک انصاف کا انصاف بھی عثمان بزدار کی کارکردگی کی طرح نظر نہیں آرہا۔
شاہد حکمران جماعت کو یہ علم نہیں کہ آپ میڈیا پر پابندی عائد کر سکتے ہیں لیکن تاریخ کے اوراق پر لکھی تحریر کو حرف غلط کی طرح مٹا نہیں سکتے۔
اپنے طرز حکومت کو دیکھتے ہوئے ہی اعلیٰ مرتبت صدر صاحب نے دنیا کے حکمرانوں کو وزیراعظم کی مریدی میں آنے کا مشورہ دیا ہے۔
ان بونگیوں کے بعد عوام کو بھی یقین ہو چلا ہے کہ یہ تمام اوصاف کسی صاحب مرید کے ہی ہو سکتے۔
کیونکہ جب عقیدت کی پٹی بندھ جاتی ہے تو سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سلب ہو جاتی ہے۔ مرشد کے ہر حکم کو سرتسلیم خم قبول کر لیا جاتا ہے۔
ایسا لگتا ہے یہ مریدی اب تحریک انصاف میں باجماعت چل رہی ہے۔ حکمران جماعت کے لیے دوسری سبکی نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی واپسی ہے۔ عین لمحات میں جب میچ شروع ہونا تھا سیکورٹی خدشات کے پیش نظر ان کا میچ کھیلنے سے انکار ہمارے ملک کے لیے شدید رسوائی کا باعث بن گیا۔ نہ صرف کھیلنے سے انکار کیا بلکہ واپسی کا اعلان بھی کر دیا۔
نہ وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس اور نہ ہی وزیراعظم کا نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو مطمئن کر سکا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان میچوں کے آغاز سے پہلے یقینا نیوزی لینڈ کی سیکورٹی ٹیم نے بھی یہاں کا دورہ کیا ہو گا اور انہیں سیکورٹی انتظامات بھی سمجھائے گئے ہوں گے اور وہ مکمل طور پر تسلی کرنے کے بعد ہی یہاں سے گئے ہوں پھر کیا ہوا کہ آخری لمحات میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پاکستان کی بدنامی کر کے لوٹ گئی۔
اور ہمارے وزیر داخلہ نے اسے دشمن کی سازش قرار دے دیا۔ کیا ملک کی حکمراں جماعت انٹیلی جنس ادارے اس قسم کی سازش سے آگاہ نہیں تھے۔ وہ اپنے خطے کے حالات سے یقینا آگاہ ہوں گے اور انہیں یہ بھی علم ہو گا کہ کہاں کہاں سے وار ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں تو انہیں چوکنا اور چوکس رہنا چاہیے۔ وزیراعظم صاحب تو خود بھی کھلاڑی رہ چکے ہیں۔ ان کی حکومت میں تواس قسم کی غلطی کا امکان نہیں ہونا چاہیے کہ تھریٹ کے لیٹر میڈیا پر گردش کرتے نظر آئیں۔ ایسی چیزوں کو تو بالائی سطح پر روکا جاتا ہے۔
ہوشمندی اور دانشمندی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے۔ لیکن لگتا ہے یا تو حکمران جماعت بہت بااعتماد ہے یا پھر مریدی میں اپنا سب کچھ تیاگ چکے ہیں۔ آپ کو دنیا کو بتانا چاہیے کہ ہم نے ان کی سیکورٹی کا بھرپور انتظام کیا تھا اور کیا کیا انتظامات کیے تھے۔ اس کو صرف سازش قرار دے کر ہلکا نہ لیں۔ابھی تو انگلینڈ کی ٹیم بھی پاکستان کا دورہ کرے گی۔
بے شک ہینڈسم وزیراعظم بہت اعلیٰ وژن رکھتے ہیں لیکن اسے نظر بھی آنا چاہیے۔
تاہم مکافات عمل بڑی تیزی سے ہورہا ہے۔ کبھی پی ایس ایل کے میچ میں وزیراعظم صاحب سیکورٹی پر اپنے خدشات کا اظہار کیا اور کھلاڑیوں ریلوکٹے کیا تھا اب وہی لوٹ کر سامنے آگیا۔
حد تو یہ ہے کہ وزیر داخلہ یہ کہہ رہے ہیں یہ سازش کس نے کی ہے انہیں خبر ہی نہیں۔ یہ بین الاقوامی معاملہ ہے ملکی معاملہ نہیں جسے آئیں بائیں شائیں کرد یا جائے لیکن الٹے تیر پڑ رہے ہیں جس نے وزیراعظم کو بوکھلاہٹ کا شکار کر دیا ہے۔
تاجکستان کے موقع پر جب کہا گیا کہ وزیراعظم آپ کے لیے ایک شعر عرض ہے تو انہوں نے بڑی طمانیت سے اٹھا اٹھا کر سینے پر رکھا اور اشارتاً کہا سنایئے۔ لیکن انہوں نے کنٹینر والے عمران اور آج کے عمران میں فرق بتاتے ہوئے عرض کہا کہ
اتنے ظالم نہ بنو
کچھ تو مروت سیکھو
تو گویا گلے کو پھندہ لگ گیا اور بولے بزنس کی بات کریں یہ شعر و شاعری بعد میں ہوتی رہے گی واقعی جناب اتنے ظالم نہ بنو کچھ تو مروت سیکھو۔ اب کیا ہینڈسم وزیراعظم پر مرتے ہیں تو کیا مظلوم عوام کو مار ہی ڈالو گے۔
تحریک انصاف کے لیے یہ واقعی لمحہ فکریہ ہے انہیں اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ کہاں غلطی ہورہی ہے۔ حالات بڑی تیزی سے پلٹا کھا رہے ہیں۔ نہ صرف ملکی سطح پر بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی باعث تمسخر بن رہے ہیں۔
سی این این پر امریکہ کی کرسٹین فیئر جو کہ جنوبی ایشیا کی سیاسی اور دفاعی تجزیہ نگار سے جب سوال کیا گیا کہ آخر بائیڈن عمران کو فون کیوں نہیں کررہا تو کرسٹین نے کہا کہ بائیڈن انہیں کیوں فون کرے یہ تو غیر متعلقہ شخص ہیں ان کے پاس تو اتنے اختیار بھی نہیں جتنے اسلام آباد کے میئر کے پاس ہوتے ہیں۔ گویا کرسٹین نے ایک اور تیر چلا دیا۔ جوکہ ملکی اور بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کے لیے یقینا شرمندگی کی بات ہے۔ یہ ہمارے جمہوری نظام اور عوام کی رائے سے منتخب ہونے والے سربراہ مملکت کے لیے بھی لمحہ فکریہ ہے کہ آخر وہ کیوں ہیں اور کیا ہیں اور کتنے ہیں؟
سوچئے کیا یہ کرما ہے اور اس جھوٹ کی سزا ہے جو پے در پے حکومت کی جانب سے کیے جاتے ہیں اب یہ رسوائی سرحد پار جارہی ہے اور بوتھیو کا بنایا ہوا امیج اب دھیرے دھیرے ان کی ہی نظر میں ریت کا ڈھیر ہورہا ہے۔ کہاں کہاں زبان بندی کرو گے اور کہاں کہاں دفاع کرو گے۔ اس لیے پلٹ جائو یا الٹ جائو کیونکہ اب یہ تمہارے بس کی نہیں لگ رہی۔ ہر معاملے میں ضد نہیں چلتی۔ ہر ضد تو والدین بچے کی پوری نہیں کرتے یہ تو سرپرست ہیں چھڑی گھما کر الٹا پلٹ کر دیں گے۔
658