482

کھلا راز

جس طرح آہستہ آہستہ زبانی کھل رہی ہیں اور حقیقتیں آشکار ہورہی ہیں ہر فرد یہ سوچنے پر مجبور ہورہا ہے کہ واقعی ہم جمہوری ملک میں ہیں۔ 
کیا یہ حقیقتی جمہوریت ہے۔
کیونکہ پہلے پہل تو جمہوریت کو جمہوریت ہی سمجھا جاتا تھا۔ عوام الناس کو ان غیبی طاقتوں کا اس قدر ادراک نہیں تھا۔ اگر کچھ کچھ تھا بھی تو پورا یقین نہیں ہوتا تھا۔
لیکن کپتان کے آنے سے جمہوریت کھل کر سامنے آگئی ہے۔ کھل کھلا کر فیصلے کیے جارہے ہیں۔ نام لیے جارہے ہیں۔ گواہیاں دی جارہی یہں۔ قضیے حل کیے جارہے ہیں اور حکمران طبقہ کھل کر کہہ رہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کیا ڈیل ہوئی ہے۔ پارلیمان میں کارروائیاں کس کے کہنے پر ہورہی ہیں۔ کس کس کے کہنے پر کون کون بلایا جارہا ہے۔
معاہدے کون کروا رہا ہے۔ کون قید ہورہا ہے اور کون آزاد۔
کون کالعدم ہورہا ہے اور کون وجود میں آرہا ہے۔
کون کررہا ہے اور کوہ کہہ رہا ہے۔ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ یہ اب کھلا راز ہے۔ یہ فسانے زبان زد خاص و عام ہیں لیکن پھر بھی پردہ داری ہے۔ حالانکہ جانتی دنیا ساری ہے۔ اسی کو تبدیلی کہتے ہیں۔
ہر طوفان سے پہلے ہوائوں کے رخ بدلتے ہیں۔ درجہ حرارت بدلتے ہیں اور گھٹن بڑھنے لگتی ہے۔ پہلے خاموشی ہوتی ہے۔ پھر چرند پرند اور حشرات شور مچاتے ہیں۔ پرندے اڑان بھرتے ہیں۔ وہ آنے والے طوفان کو بھانپ لیتے ہیں لیکن عقل و خرد کے دعویٰ دار انسان اکثر مات کھا جاتے ہیں۔
اب بھی وہی منظر ہے۔ ہوائوں کا رخ بدل رہا ہے۔ درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔ گھٹن کا احساس بھی بڑھ گیا ہے۔
لیکن اقتدار و اختیار کے نشے میں دھت صاحب بالاں یہ ادراک ہی نہیں کر پارہے کہ کیا ہورہا ہے۔
فرعون کو یہ احساس کب ہوا تھا کہ وہ دریا برد ہو گا اور نشان عبرت بن جائے گا۔
اور اس کی محکوم بنی اسرائیل آزاد ہو گی۔
اب بھی سب وہی ہے حالات تازیانے بجا رہے ہیں۔ لیکن نشہ سر چڑھ کر بول رہا ہے کہ سب کو کڈھے لائن لگا دیں گے۔ زبانیں سلب کر لیں گے۔ لیکن حالات کب قابو سے باہر ہو جائیں اس کا اندازہ نہ ہو گا۔
اس لیے اب بھی وقت ہے۔ اپنے اپنے نامہ اعمال میں اچھائی بھر لو۔ اس سے پہلے کہ کتاب بند ہو جائے اور تاریخ پاکستان میں ایک نیا باب رقم ہو جائے۔

بشکریہ اردو کالمز