پاکستان کاٹن جنرز ایسوسی ایشنز کی جانب سے جاری کردہ کپاس کے اعدادوشمار کے مطابق یکم جنوری2023 تک46لاکھ12ہزار687گانٹھیں جننگ فیکٹریوں میں آئیں جو گزشتہ برس اسی مدت میں 73لاکھ47ہزار404گانٹھوں کے مقابلہ میں 27لاکھ34ہزار717 گانٹھیں کم ہیں یعنی امسال گزشتہ برس کی نسبت 37.22فیصد کم ہیں( یاد رہے کپا س کی ایک گانٹھ کا وزن170کلوگرام ہوتا ہے)پاکستان ٹیکسٹائل انڈسٹری کی اس وقت کل گانٹھوں کی ضروریات15لاکھ ملین سے زائد ہے جبکہ رواں برس بمشکل 5ملین تک ہی گانٹھیں پیدا ہونے کی توقع ہے۔ ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ضروریات کے پیش نظر سال 2022 پاکستان میں کاٹن کی پیداوار میں خطرناک حد تک کمی واقع ہوئی ہے جس کے بہت سے عوامل ہیں لیکن اس مرتبہ کپاس کی فصل کو سیلاب سے بہت نقصان پہنچاہے۔ سیلاب سے سندھ میں تقریباً70فیصد کپاس کی فصل کو نقصان پہنچا، بلوچستان میں 100فیصد جبکہ جنوبی پنجاب میں تین اضلاع خاص کر ڈی جی خان،راجن پور اور مظفر گڑھ میں تقریباً2لاکھ سے زائد ایکڑ پر کھڑی کپاس کی فصل کو شدید نقصان پہنچایا۔ اسی طرح بارشوں کے اسپیل نے بھی کپاس کو کافی متاثر کیا۔آج ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے جس سے تمام ملکی ادارے،عوام اور معیشت کا پہیہ بری طرح متاثر ہوا ہے۔ مہنگائی و غربت اپنی انتہاؤں کو چھو رہی ہے۔ہمیں آئی ایم ایف کی سخت ترین شرائط پر قرضہ لینے اور ملک چلانے کے لئے1-2ارب ڈالرز کے لئے پاپڑ بیلنا پڑ رہے ہیں۔آپ کو بتاتا چلوں کپاس کی1ملین گانٹھ کا مطلب ہے1ارب ڈالر یعنی اگر ہم اپنی کپاس کی6ملین گانٹھوں میں اضافہ کرلیں تو ہم اسی فصل سے6ارب ڈالرز کا زرمبادلہ کما سکتے ہیں۔ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے ہم ماضی میں بھی سال2004-05اور سال2014-15میں تقریباًڈیڑھ کروڑ کپا س کی گانٹھیں حاصل کر چکے ہیں۔ پاکستان کا ماضی بتاتا ہے جس سال بھی ملک میں کپاس کی فصل شاندار ہوئی ہے تو پورے ملک میں خوشحالی،امن اور لوگوں کے چہروں پر خوشی محسوس کی گئی ہے۔ پاکستان کی کل آبادی کا کاٹن ویلیو چین میں 35فیصد سے زائد لوگوں کا روزگار بلواسطہ یا بلا واسطہ وابستہ ہے جو کبھی45فیصد ہواکرتا تھا یعنی کاٹن ویلیو چین سے کروڑوں افراد کا روزگار وابسطہ ہے۔ جبکہ جی ڈی پی میں کاٹن کا حصہ انتہائی سکڑکر اب0.7-0.8فیصد رہ گیا ہے جو تقریباً2دہائی پہلے تک 2.5فیصد سے کچھ زائد ہوا کرتا تھا۔اس وقت کاٹن کا زرعی ویلیو ایڈیشن میں 4.5فیصد حصہ ہے جبکہ ماضی میں زرعی ویلیو ایڈیشن میں حصہ11فیصد سے زائد رہا ہے۔اسی طرح پاکستان سالانہ4.5ارب ڈالر سے زائد کا خوردنی تیل درآمد کرتا ہے جو پاکستانی خزانے پر ایک بڑا بوجھ ہے۔ اگر ملک میں کپاس کی اچھی پیداوار ہو تو ہم ملکی ضروریات کا60فیصد سے زائد خوردنی تیل بناسپتی گھی وغیرہ خود پیدا کرسکتے ہیں اور ماضی میں ہم65-70فیصد خوردنی تیل پیدا کرتے آئے ہیں۔اس کے علاوہ بنولے کے تیل سے صابن،ربڑ کاسمیٹکس،پلاسٹک دواسازی سمیت کئی دیگر مصنوعات کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔اسی طرح کپاس کے بنولے سے تیل نکالنے کے بعد دودھ کی پیداوار میں اضافے کے لئے خام مال یعنی کھل جانوروں کی خوراک کے طور پر استعمال کی جاتی ہے جبکہ سالانہ 22ارب کی کپاس کی چھڑیاں بطور ایندھن استعمال ہوتی ہیں۔یہ ایک مختصر سا خلاصہ ہے کہ کس طرح ہم صرف ایک فصل کپاس سے اربوں ڈالرز کیے درآمدی اخراجات بچا سکتے ہیں اورقومی خزانے کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں۔
ہمارے ہاں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ ہم صرف کاٹن سے ہی 20ارب ڈالرز سے زائد سالانہ زرمبادلہ کماسکتے ہیں۔ایک وقت تھا جب ہم دیگر فصلات کی طرح کپاس میں بھی خود کفیل تھے لیکن ارباب اختیار کی مسلسل عدم توجہ کے باعث آج ہم زرعی ملک ہونے کے باوجود ایک عرصے سے گندم، کپاس، چینی جیسی اجناس بھی درآمد کرنے پر مجبور ہیں جس پر بھاری ملکی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے۔ذرائع کے مطابق اس مرتبہ ہمیں تقریبا3-4ارب ڈالرز کی کپاس باہر سے منگوانا پڑے گی۔خود سوچیں معاشی لحاظ ایک کمزورملک کے لئے یہ قومی خزانے پر کتنا بڑا بوجھ ہے جس کی قیمت ہمیں مہنگائی و غربت کی صورت ادا کرنا پڑے گی۔ افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ارباب اختیار کی عدم دلچسپی اور کاٹن زون میں گنا،مکئی اور دیگر اجناس کی کاشت سے کپاس کی فصل اور اس کے رقبہ میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے،جس کی طرف خاص توجہ دینے اور لانگ ٹرم پالیسی بنانے کے اہم ضرورت ہے تاکہ ٹیکسٹائل کی صنعت سے ہم اپنی ایکسپورٹ کو بڑھا سکیں اور کثیر ملکی ذرائع مبادلہ کما کر اپنے مقروض ملک کو قرضوں سے نجات دلا سکیں۔پاکستان میں انڈسٹری کو خام مال کی زیادہ تر فراہمی کاٹن سے ہی ہوتی ہے جس سے معیشت کا پہیہ رواں دواں رہتا ہے۔الغرض کاٹن اور ٹیکسٹائل انڈسٹری ہماری معیشت کے اہم ستون ہیں۔ صرف کپاس کی بہترین فصل کے ذریعے ہی ہم معاشی دلدل اور آئی ایم کے چنگل سے آزاد ہو کر خوشحالی وترقی کے سفر کا آغاز کر سکتے ہیں۔
اس وقت ہماری زراعت کو موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں بدلتے موسمی حالات نے دیگر فصلات کی طرح کپاس کی فصل پر بھی برے اثرات مرتب کئے ہیں،بے موسمی بارشوں سے کپاس کی فصل متاثر ہوتی ہے،اسی طرح درجہ حرارت میں اچانک سے اضافہ یا کمی ہونے سے بھی کپاس کی پیداوار میں کمی آتی ہے ناموافق موسمی حالات کی وجہ سے کسانوں کے مالی حالات بہت خراب ہوتے جا رہے ہیں۔ آج پاکستان دنیا میں موسمیاتی تبدیلیوں کے خطرے کے لحاظ سے8ویں نمبر پر ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں سے ہماری زرعی پیداوار میں کافی کمی ہو چکی ہے۔ایشائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق اس صدی کے آخر تک ایشیائی ممالک اپنی زرعی پیداوار کا50فیصد تک کھو سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ پیش گوئی بھی کی گئی ہے کہ سال2040تک درجہ حرارت3Cتک بڑھ جائے گا جس سے ہماری زراعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندشہ ہے۔ ہمیں جدید تقاضوں کو پیش نظر رکھ کر اپنی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی اس دنیا میں اب وہی سروائیو کرے گا جو وقت کے جدیدتقاضوں کو جانتا ہو اور اس کے مطابق ڈھلنے کی اہلیت رکھتا ہو۔ اس وقت پوری دنیا میں زراعت کی تحقیق و ترقی پر بہت زیادہ سرمایہ کاری کی جارہی ہے۔مستقبل میں لاحق فوڈ سیکیورٹی کے خطرات کے پیش نظر ہمیں بھی اپنی زرعی تحقیق و ترقی پر بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس وقت انڈیا اپنی کل جی ڈی پی کا تقریباً1.5فیصد زراعت کی تحقیق وترقی پر خرچ کر رہا ہے جبکہ ہمارے ہاں بدقسمتی سے صرف0.2فیصد خرچ کیا جا رہا ہے۔ اگر کپا س کی بات کی جائے تو اس وقت وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی کے ماتحت پاکستان کا سب سے بڑا کپاس کا تحقیقاتی ادارہ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی(پی سی سی سی) مالی وانتظامی لحاظ سے بحرانوں کے دلدل میں پھنس چکا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ موجودہ حکومت میں گزشتہ8ماہ سے بدترین مہنگائی میں پی سی سی سی کے زرعی سائنسدانوں اور دیگر ملازمین کو30تا40فیصد ماہانہ تنخواہیں اور پینشنز ادا کی جا رہی ہیں۔ ملازمین فاقہ کشی کا شکار اور ان کے گھروں میں بھوک ناچ رہی ہے مگر کسی پرواہ تک نہیں ہے۔ جب تک ریسرچ کے اداروں کو فنڈز مہیا نہیں کئے جائیں گے تو اس وقت تک مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکیں گے۔کپاس کی انٹروینشن پرائس/ سپورٹ پرائس، ٹی سی پی کا کردار،فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا استعمال،، موسمیاتی تبدیلیوں کے چیلنجز سے نمٹنے اورریسرچ اداروں کی فنڈنگ جیسے اقدامات کے ذریعے ہی کپاس کی فصل سے کثیر معاشی فوائد حاصل کئے جا سکتے ہیں جس کے لئے ہمیں سنجیدگی کے ساتھ زرعی تحقیقاتی داروں کو مضبوظ بنانا ہوگا۔یہ بات ذہن نشین کرنے کی ہے کہ تحقیق ایک ایسا شعبہ ہے جس کا ثمر فوری طور پر انسان کو نظر نہیں آتا لیکن اس کے نتائج دورس ہوتے ہیں۔ وہی قومیں ترقی کر تی ہیں جو ریسرچ کو بھی اتنی اہمیت دیتی ہیں جتنا کہ لوگوں کی فلاح و بہبود سے وابسطہ دوسرے پروگرامز کو دی جاتی ہے۔ اس وقت ہمیں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے، کپاس کی کاشت کے نئے ایریاز تلاش کرنے اور کپاس کی فصل کو منافع بخش بنانے کے لئے غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے۔ پبلک وپرائیویٹ پارٹنر شپ کے مشترکہ پلیٹ فارم کی کوششوں سے ہی ہم کپاس کی تحقیق وترقی کے ذریعے معاشی گرداب سے نکل سکتے ہیں۔ اس کے لئے وفاقی وصوبائی اداروں اور دیگر تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل بیٹھ کر شارٹ ٹرم،میڈیم ٹرم اور لانگ ٹرم حکمت عملی بنانا ہوگی۔