466

ٹڈی دل: فوڈسیکیورٹی کے لئے سنگین خطرہ

چندروز پہلے اقوام متحدہ کے ادارے ایف اے او کی جانب سے ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں بتایاگیا ہے کہ ٹڈی دل کے حملے کی وجہ سے امسال ہماری فصلات ،سبزیات اور باغات کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے جس کے سبب پاکستان کو اربوں ڈالرز کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ ٹڈی دل کے حملوں کی وجہ سے ماہرین ملک میں فوڈ سیکیورٹی کے سنگین مسائل پیدا ہونے کا عندیہ دے رہے ہیں۔ کورونا کی وجہ سے ہماری معاشی حالت پہلے ہی کافی پتلی ہوچکی ہے مگر شومئی قسمت کے اب ٹڈی دل بھی رہی سہی کسر پورا کرنے پر تلی ہے۔ ٹڈی دل نے اس وقت سندھ اوربلوچستان کو پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جبکہ اب ٹڈی دل پنجاب میں بھی تیزی سے پھیلنے جا رہا ہے۔ سندھ کے مختلف اضلاع جام شورو ، حیدرآباد ، مٹیاری ، سانگھڑ ، شہید بینظیرآباد ،لاڑکانہ دادو ،شکار پور،جیب آباد ،کشمور،گھوٹکی سکھر، خیر پور میں ٹڈی دل کا حملہ زوروں پر ہے جبکہ بلوچستان کے اضلاع ، خاران ، واشوک ، نوشکی ، پنجگور ، ، کچھی ، سبی ، ڈیرہ بگٹی ، خضدار ، سوراب ، پشین ، اور کوئٹہ کے کچھ حصے (پنجپائی ایریا) اور قلات میں بھی ٹڈی دل نے تباہی مچائی ہوئی ہے۔پنجاب کی اگر ہم بات کریں تو لیہ، جھنگ، میانوالی،راجن پور، خوشاب، بھکر، روجھان، بھاولپور، بھاولنگراور رحیم یار خان کے اضلاع ٹڈی دل کے حملے کی زد میں ہیں جبکہ خیبر پختونخواہ میں اس کا پریشر کم نظر آتا ہے۔ ٹڈی دل کا حملہ ایک بہت بڑے لشکر یا جھنڈ کی شکل میں ہوتا ہے اور اس کی کوئی مستقل سکونت نہیں ہوتی یہ ہمیشہ خوراک کے حصول کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتا رہتا ہے۔ایک بین الاقوامی رپورٹ کے 
مطابق صحرائی ٹڈیاں پتے، پھول، پھل اور بیجوں کے علاوہ درخت تک دیکھتے ہی دیکھتے چٹ کر جاتی ہیں اور پیچھے اپنے انڈے چھوڑ جاتی ہیںجن سے کچھ ہی عرصے میںبچے نکلنا شروع ہوجاتے ہیں اور یوں ایک نیا دل بن جاتا ہے ایک کلو میٹر کے رقبے میں 40 ملین ٹڈیاں ہو سکتی ہیں، جو ایک دن میں 150 کلو میٹر تک کا فاصلہ طے کر سکتی ہیں۔ ٹڈیوں کا دل روزانہ 35 ہزار انسانوں کی خوراک ختم کر سکتا۔ اس وقت روجھان سے دوسرا جھنڈ اڑنے کو تیار بیٹھا ہے جس کا دورانیہ 15تا30مئی تک بتایا گیا ہے اور یہ دوسری جنریشن پہلی جنریشن کے مقابلہ میں زیادہ خطرناک بتلائی جا رہی ہے جبکہ ابھی ٹڈی دل کی مزید جنریشنز کا خاتمہ ہونا باقی ہے۔خدانخواستہ اگر ہم نے اس وقت بروقت ٹڈی دل پر قابونہ پایا تو ہماری کپاس کی فصل ،دھان کی پنیری ،باغات،سبز چارہ جات سب ختم ہو کر رہ جائیں گی جس سے ہمارے لائیو اسٹاک کا 
شعبہ بھی بری طرح متاثر ہوگا اور آئندہ سال ہمیں فوڈسیکیورٹی کے سنگین خطرات لاحق ہو جائیں گے ۔اور اگر غذائی بحران شدت اختیار کرگیا تو پاکستان میں بہت سے مسائل پیدا ہوجائیں گے جبکہ ہم پہلے ہی بہت سے مسائل سے نبرد آزما ہیں۔پنجاب میں تقریباً 80لاکھ ایکڑ رقبہ کو ٹڈی سے محفوظ بنانے کے لئے آپریشن کیا 
جا رہا ہے جس میں سے تقریبا ً2سے اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ پراسپرے کا عمل مکمل کیا جا چکا ہے۔ 
اس وقت وفاقی وصوبائی سطح کے متعلقہ تمام ادارے باہمی تعاون کے ساتھ ٹڈی کےخلاف کام کر تو رہے ہیں جس میں آرمی کے جہاز وں سے فضائی سپرے ،جدید مشینری وآلات اور مﺅثر نگرانی کا عمل پوری شد مد سے جاری وساری ہے مگر ان تشکیل کردہ ٹیموں میں اینٹامالوجسٹ کی تعداد کو بڑھایا جانا بہت ضروری ہے تاکہ ماہرین حشریات کی موجودگی سے پتا چلایا جا سکے ٹڈی دل کی زندگی کا دورانیہ کتنا ہے،انڈوں سے بچے نکلنے کی ٹائمنگ کیا ہے، ٹڈی کے بالغ و نوزائیدہ بچوں سے متعلق مکمل جانکاری اور ان کی حرکات وسکنات اور ان کے خاتمہ کا صحیح طریقہ کار ایک اینٹامالوجسٹ سے زیادہ اور کوئی بہتر نہیں جان سکتا۔ابھی اس بات کا ڈر کھائے جارہا ہے کہ خدانخواستہ اگر ٹڈی دل ریگستانی علاقوں سے نکل کر ہمارے کراپ زوزنگ سسٹم میں داخل ہو گئیں تو پھر اس کا خاتمہ فضائی سپرے سے بھی ممکن نہ ہو سکے گا کیونکہ اس طرح ماحولیاتی آلودگی کے ساتھ ساتھ ملحقہ بستیوں کے مکین بھی بری طرح متاثر ہوں گے ۔لہذا ہماری پوری توجہ اس بات پر فوکس ہونی چاہئیے کہ کسی بھی طرح تمام ممکنہ وسائل کو 
بروئے کار لاتے ہوئے ٹڈی دل کا خاتمہ ریگستانی و صحرائی علاقوں میں ہی کیا جائے ٹڈی دل کا انڈوں، بچوں، ہاپرز،فلائرز اور بالغ حالتوں میں تدارک کرنا بہت ضروری ہے ورنہ ہمیں غذائی قحط کا شدید خطرہ ہے جس سے ایک بہت بڑا بحران جنم لے سکتا ہے۔ ٹڈی دل سے متاثرہ اضلاع میں اینٹامالوجسٹس کی سربراہی میں مختلف ٹیموں کی تشکیل کے ذریعے سے ہی ہم اپنا حدف حاصل کر سکتے ہیں۔ اگر گزشتہ برس بروقت پلانگ اور حکمت عملی اختیار کرلی جاتی تو جوصورتحال آج ہمیں اس قدر گھمبیر اور تشویش ناک نظر آرہی ہے وہ نہ ہوتی۔چاہئیے تو یہ تھا کہ گزشتہ برس جہاں جہاں ٹڈی نے انڈے دئے تھے ان علاقوںبروقت میں مختلف ٹیمیں تشکیل دی جاتیں اور متاثرہ علاقوں میں فوری طور پر ہل چلادئے جاتے چاہے ہمیں اس کے لئے کھڑی فصلات میں ہی کیوںنہ ہل چلانے پڑتے تاکہ یہ انڈے اور نوزائیدہ بچے زمین سے نکل کر باہر آتے ہی بگلوں،تلیر،چڑیاں اور دیگر پرندوں کی خوراک کا سامان بنتے۔اور اس کے لئے ہمیں بگلوں ،تیلیر وغیرہ کی افزائش کا عمل تیزکرنا چاہئیے تھا مگر ہماری سستی کے ایسا نہ ہوسکا اور ہم نے شاید اس وقت اسے سنجیدگی سے نہ لیا۔ ورنہ اگر گزشتہ برس ٹڈی دل کی باقیات کو ختم کردیا جاتا تو ہمیں آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا۔
بہرحال اب جبکہ آج ٹڈی دل کا معاملہ سنگین نوعیت اختیار کرچکا ہے اور اس وقت ہمیں فوڈ سیکیورٹی کے شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں تو اس وقت تمام ادارے متحرک ہو چکے ہیں اور ایک دوسرے کے باہمی تعاون سے ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ اور وفاقی حکومت بھی سرجوڑ کر اس معاملے کو حل کرنے کے لئے فوری اقدامات اٹھا رہی ہے۔ اس سلسلے میں اب تک وزیر اعظم عمران کی زیر صدارت تین اہم اجلاس ہو چکے ہیںاور ٹڈی سے نپٹنے کے لئے خطیر رقم پر مشتمل فنڈز کا قیام بھی عمل میں لایا جا چکا ہے۔ یہ خوش آئند بات ہے کہ اس وقت ٹڈی دل کے خاتمے کے لئے وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اور اس کے ماتحت 
ادارے،این ڈی ایم اے،صوبائی محکمہ زراعت اور افواج پاکستان کے جوان ایک پیج پر ہیں اور سبھی ایکدوسرے کے باہمی تعاون سے دن رات اپنے اپنے فرائض 
انجام دے رہے ہیں۔
 وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی کے ماتحت ادارے پلانٹ پروٹیکشن نے اب تک تقریباً50کے قریب محکمہ زراعت سندھ کے زرعی آفیسران کی ٹڈی کے خلاف تکنیکی تربیت بھی فرام کی ہے۔ سندھ کی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر وفاقی حکومت نے اب تک ایئرکرافٹ کی محدود دستیابی کے باجود سال2019میں سندھ کے تقریبا ً20ہزار300ہیکٹیرز رقبہ پرٹڈی کے خلاف فضائی اسپرے کیا گیا اور اب تک کل3لاکھ ہیکٹئرز رقبہ کا1لاکھ85ہزار ہیکٹیئر رقبہ پر ٹڈی کے خلاف آپریشن کیا جا چکا ہے۔اسی طرح فضائی اسپرے کے لئے ایئرکرافٹ کی کمی کو دور کرنے کے لئے وفاقی حکومت کرائے پر جہاز لینے کے لئے مختلف ممالک سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔ اب تک محکمہ زراعت سندھ کے سٹورز میں ٹڈی کے خلاف1لاکھ اسپرے کش زہریں موجود ہیں۔اسی طرح12ECبڑی اسپریئر مشینیں اور87ULV چھوٹی اسپریئر مشینوں کے حصول کے لئے نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے مختلف ممالک کی کمپنیوں سے بات چیت مکمل کر لی ہے اور جیسے ہی کورونا حالات میں کچھ بہتری ہوگی تو فوری طور پر ان آرڈرز کی تکمیل ہو سکے گی۔لیکن چند روز سے یہ خبریں بھی موصول ہو رہی ہیں کہ حکومت پاکستان نے ہنگامی طور پر ترکی سے ٹڈی کے خلاف اسپرے کرنے کا جہاز کرایہ پر حاصل کر لیا ہے اور چین سے تکنیکی معاونت پربھی بات چیت مکمل ہو چکی ہے اس کے علاوہ ٹڈی دل کے خلاف 
آپریشن میں استعمال ہونے وال ضروری سامان ،حفاظتی کٹس،ہینڈ سپریئر،مشینز،ماسکس،اور کیمیائی اسپرے ادویات حاصل کی جا چکی ہیں ۔ایشائی ترقیاتی بینک نے بھی ٹڈی کے خلاف پاکستان کو امداد کی پیش کی ہے ان اقدامات کے پیش نظر حکومت کی ٹڈی سے نپٹنے کی سنجیدگی ظاہر ہوتی ہے۔دیگر متاثرہ صوبوں میں بھی ہنگامہ 
بنیادوں پر حکومتی سطح پر ٹڈی کے خاتمے پر کام تیزی سے جاری ہے۔
ٹڈی کے خاتمے کے ضمن میں میری کچھ تجاویز ہیں وہ یہ کہ صوبائی سطح پر جوٹیمیں ٹڈی کے خلاف تشکیل دی گئی ہیں ان میں فوری طور پر اینٹامالوجسٹ شامل کئے جائیں اور ان کی تعداد کو بڑھایا جائے،ٹڈی دل حملے کو قومی ایمرجینسی ڈیکلئر کیا جائے،ٹڈی کے خلاف زہریں خاص کر میلاتھیان پر پابندی ہٹا کراس کی امپورٹ کو فوری طور بحال کیا جائے، محکمہ زراعت کی ٹیموں میں کاشتکاروں کی مختلف تنظیموں سے وابستہ کاشتکاروں کی بڑی تعداد کو شامل کیا جائے ،ان عملے کی تربیت کا اہتمام کیا جائے اور انہیں چھوٹی چھوٹی ہینڈ سپریئر مشینیں دی جائیں اور استعمال کے لئے زہریں ایسی ریکمنڈ کی جائیںجو عام دکانوں سے باآسانی دستیاب ہوں اور اسی طرح بین 
الصوبائی رابطوں میں مکمل ہم آہنگی اور قومی سطح پر ٹڈی سے متعلق ایک انفارمیشن سیل کا قیام لانا بہت ہی ضروری ہے تاکہ ٹڈی دل کے حوالہ سے اپ ڈیٹ رہا جا ئے اور ان معلومات کی بنیاد پر مﺅثر حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔

 

بشکریہ اردو کالمز