شدید موسمی حالات،پانی کی کمی اور دیگر کئی وجوہات کی وجہ سے پاکستان میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار پر منفی اثرات مرتب ہورہے ہیںجس کی وجہ سے ملک میں سالہا سال سے فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ نہیں ہورہا ہے۔ سال 2014-15میں ملک میں ریکارڈ 1 کروڑ42 لاکھ پیدا ہونے والی کپاس کی گانٹھیں آج بمشکل 90لاکھ گانٹھ تک رہ گئی ہیں۔ آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ ملک کی کپاس کی ضروریات میں بھی اضافہ ہورہا ہے۔ اس وقت ملکی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ڈیڑھ کروڑ گانٹھوں کی ضرورت ہے ۔ اس ضرورت کو کس طرح پورا کیا جائے یہ سائنسدانوں کے لئے ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ہمارے ملک میں کپاس کی فی ایکڑ پیداوار میں قابل ذکر اضافہ نہ ہونے کی وجہ سے کاشت کار کے فی ایکڑمنافع میں اخراجات کے تناسب سے اضافہ نہیں ہو ر ہا ۔ لہٰذا وہ کپاس کی فصل کو نسبتاً مشکل،غیر یقینی اور کم ذریعہ آمدن سمجھنے لگا ہے۔ کاشتکار کے پاس کاشتکاری کے علاوہ کوئی اور متبادل ذرائع آمدن نہیں ہے ۔ اس لئے ان کے مسائل کا حل حوصلہ اور دانش مندی سے تلاش کیا جائے تاکہ کاشتکاری کو منافع بخش بنایا جاسکے۔اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ کپاس کی فی ایکڑ پیداوار بڑھائی جائے۔
سال 1991-92میں ریکارڈ پیداوار 12.5ملین گانٹھیں پیدا ہوئیں۔ بد قسمتی سے اس کے بعد پتہ مروڑ وائرس کا حملہ کپاس پر شدید ہوا اور اس بیماری نے وبائی شکل اختیار کر لی، اس وقت جو بھی اقسام زیر کاشت تھیں برُی طرح متاثر ہوئیں اور ملکی پیداوار کم سے کم تر ہوتی چلی گئی۔ اس چیلنج سے نپٹنے کے لئے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے زرعی سائنسدانوں نے شب وروز محنت کی اور بہت ہی قلیل عرصہ میںسب سے پہلے وائرس کے خلاف قوت مدافعت رکھنے والی کپاس کی اقسام سی آئی ایم۔1100اور سی آئی ایم۔448تیار کیں۔یہ بات ذہن نشین کرنے کی ہے کہ تحقیق ایک ایسا شعبہ ہے جس کا ثمر فوری طور پر انسان کو نظر نہیں آتا۔ اس کے نتائج دورس ہوتے ہیں۔ وہی قومیں ترقی کر تی ہیںجو ریسرچ کو بھی اتنی اہمیت دیتی ہیں جتنا کہ لوگوں کی فلاح و بہبود سے وابسطہ دوسرے پروگرامز کو دیتی ہیں۔ لہٰذا اس وقت کی حکومت نے پتہ مروڑ وائرس پر قابو پانے کے لئے تحقیقات کے لئے مخصوص فنڈز مختص کئے، جن کو بروئے کار لا کر سائنس دانوں نے مختصر عرصہ میں قوت مدافعت والی اقسام متعارف کرائیں اور ملک کی صنعت کو رواںدواں رکھنے میں ملکی پیداوار نے اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان میں اس وقت کپاس کی فصل مشکل ہوتی جا رہی ہے۔زرعی مداخل کی قیمتیں بہت بڑھ گئی ہیں بیج ،کھادیں زرعی زہریں زرعی مشینری و دیگر آلات کی قیمتیں اب کاشتکاروں کی پہنچ سے دور ہوتی جا رہی ہیں اسی طرح آئے روز ڈیزل و بجلی کی قیمتیں اور ٹیوب ویل کے پانی کے ریٹ کافی بڑھ گئے ہیں اگر ہم نے بروقت کپاس کی فصل پر توجہ نہ دی تو ملک کی سب سے بڑی صنعت ٹیکسٹائل انڈسٹری شدید متاثر ہوگی جس سے وابستہ لاکھوں افراد کے بےروزگار ہونے کے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔ کپاس جو کبھی منافع بخش فصل سمجھی جاتی تھی اب منافع نہ دینے کی وجہ سے کاشتکار دیگر فصلات کی طرف مائل ہو رہے ہیں ضرروت اس امر کی ہے کہ حکومت کپاس کے ریسرچ کے اداروں اور ان میں کام کرنے والے سائنسدانوںکی طرف خصوصی توجہ دے ان کے مالی و انتظامی مسائل کے حل کے لئے فوری ایکشن پلان پر عمل کیا جائے۔
اس وقت کپاس کو جو درپیش مسائل ہیں ان میں کیڑے مکوڑوں کے حملہ خاص کر سفید مکھی اور گلابی سنڈی کے تدارک کے لئے خصوصی پلان کی تشکیل بہت ضروری ہے۔گلابی سنڈی کی آف سیزن مینجمنٹ کمپین پر بھرپور توجہ دی جائے ۔دیہاتوں میں ایندھن کے طور پر جمع کی گئیں کپاس کی چھڑیوں کے بڑے بڑے ڈھیروں میں لگے سوکھے ٹینڈوں اور کچروں کو فوری ٹھکانے لگائیں کیونکہ ان ٹینڈوں میں گلابی سنڈی کے پروانے ہوتے ہیں جو کپا س کی آئندہ کی فصل کےلئے ایک بڑا خطرہ ہیں۔اسی طرح جننگ فیکٹریوں میں موجود کچرے کو تلف کیا جائے اور مناسب ٹھکانے لگایا جائے یا پھر اینٹوں والے بھٹوں کو اس کچرے کو بیج دیا جائے تاکہ وہ اسے جلانے کے طور پر استعمال میں لائیں۔ گلابی سنڈی کے خلاف پی بی روپس کے استعمال کے بھی اچھے نتائج ملے ہیں اسی طرح سنٹرل کاٹن ریسرچ ملتان کی تیار کردہ کاٹن بول پکر مشین نے بھی گلابی سنڈی کے تدارک کے لئے بہترین اور مﺅثر نتائج دئے ہیں ۔یہ مشین کپاس کی آخری چنائی کے بعد کپاس کی چھڑیوں میں بچ جانے والے کچے پکے،سوکھے،ادکھلے ٹینڈے جن میں گلابی سنڈی کے لاروے موجود ہوتے ہیں کی چنائی کرکے کھیت میں موجودچھڑیوں سے الگ کر دیتی ہے۔حکومت کو چاہئیے کہ وہ اس کاٹن بول پکر مشین کو کپاس کے مرکزی و ثانوی علاقہ جات میں خصوصی تعاون کرتے ہوئے پروموٹ کرے۔ اس مشین کے استعمال سے نہ صرف ملکی پیداور میں اضافہ ہو سکے گا بلکہ گلابی سنڈی کا بھی مﺅثر کنٹرول ممکن ہو سکے گا۔ جبکہ سفید مکھی کے تدارک کے لئے مارکیٹ میں اچھی زہریں موجود ہیں۔کپاس کے کاشتکار کسی مستنداور با اعتماد ڈیلر سے زہریں خرید کر زرعی ماہرین کے مشورہ سے ٹھیک مقرر کردہ وقت پر اور سپرے کے رہنما اصولوں کو مدنظر رکھ کر سپرے کریں تو سفیدمکھی کے خلاف اچھا کنٹرول مل سکتا ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں بیج کھاد اور زرعی زہروں میں اس قدر ملاوٹ اور دو نمبری آچکی ہے کہ ہماری فی ایکڑ پیداور میں بتدریج کمی آتی جا رہی ہے اور کوئی ٹھوس چیک اینڈ
بیلنس کا نظام بھی موجود نہیں ہے جو ملاوٹ مافیا کے خلاف سخت ایکشن لے سکے۔
اسی طرح پانی کی کمی، جدید پیداواری ٹیکنالوجی سے کاشتکاروں کی لا علمی اور زرعی پیشہ ورانہ مہارت میں کمی ،اچھے معیار و بہتر پیداوار دینے اور کیڑے مکوڑوں کے خلاف مزاحم قسم کے بیجوں کا نہ ہونا ہماری فی ایکڑ پیداور میں کمی کی بڑی وجہ ہیں۔ہمیں کپاس کے بائیوٹیک بیجوں کی طرف صحیح معنوں میں ریسرچ کرنا ہوگی اور اس وقت ہمیں ٹرپل جین ورائٹی پر کام کرنا ہوگا تاکہ کپاس پر حملہ آور کیڑے مکوڑوں خاص کر گلابی سنڈی کے خلاف اچھی اقسام کے بیج کاشتکاروں کوآسانی سے دستیاب ہو سکیں اس سے کاشتکاروں کو کافی فائدہ ہوگا اس طرح نہ صرف اسپرے کی تعداد کم ہوگی بلکہ کپاس کی فی ایکٹر پیداواری لاگت میں
کمی کے ساتھ ساتھ فی ایکڑ پیداوار میں بھی اضافہ ہوگا۔
کپاس کی کاشت کے وقت خاص کر جنوبی پنجاب اور سندھ میں غیر متوقع بارشوں ،کبھی خشک سالی وسیلاب کا آنا اور درجہ حررات میں اضافہ نے کپاس کی فصل کو بہت نقصان پہنچایا ہے ۔موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے کپاس کے بیج کا اگاﺅ پر برا اثر پڑاہے ،فصل کی ابتدائی نمو میں ہی کیڑوں کے حملہ اور اسی طرح فصل جب پھل اٹھا رہی ہوتی ہیں پھول بن رہے ہوتے ہیں ٹینڈوں کے بننے کے وقت بھی کیڑے مکوڑوں کے حملہ کی وجہ سے ٹینڈوں کی تعداد میں کمی اور ان کا وزن کم ہوجاتا ہے جس سے ہماری پیداور میں کمی آرہی ہے۔جڑی بوٹیوں کی بروقت تلفی نہ ہونے سے بھی پیداوار میں کافی کمی واقع ہوتی ہے جس کانقصان کاشتکار کے ساتھ ساتھ ملک کو بھی اٹھانا پڑ رہا ہے۔کپاس کی مناسب فصل انشورنس نظام کی عدم موجودگی یا سبسڈی کی شکل میں کوئی بھی سپورٹ سسٹم کے نہ ہونے کے باعث کپاس کے کاشتکاروں میں مایوسی اور بے چینی پھیل رہی ہے۔ کپاس کی پیداوار میں بہتری لانے اور کھیتوں میں اپنے محدود وسائل خرچ
کرنے میں کاشتکاروں کی دلچسپی اب ختم ہوتی جا رہی ہے۔حکومت کو چاہئیے کہ وہ فوری طور پر دیگر اجناس کی طرح کپاس کی مناسب امدادی قیمت مقرر کرے
تا کہ کاشتکاروں کو کپاس کی طرح بھرپور طریقے سے راغب کیا جا سکے۔
کپاس کی فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لئے ہمیں یا تو کپاس کے زیر کاشت رقبہ میں اضافہ کرنا ہوگا یا پھر فی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لئے ٹھوس بنیادوں پرعملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ جہاں تک کپاس کا رقبہ بڑھانے کی بات ہے تو اس میں کچھ مسائل ہیں ایک تو پانی کی کمی ہے ،دوسرا کپاس پیدا کرنے والے بڑے دوصبوبے پنجاب اور سندھ میں رقبہ بڑھانے کی گنجائش نہیں ہے اور تیسرا مسئلہ یہ کہ کپاس کا دیگر فصلات سے مقابلہ بھی ہے ہاں البتہ کراپ زوننگ قوانین پر عمل در آمد سے کاٹن زون میں گنے کی کاشت پر پابندی لگائی جا سکتی ہے۔اس کے علاوہ بلوچستان کے کچھ اضلاع سبی ،ناصرہ آباد ،قلات ڈویزن اور خیبر پختونخواہ کے ضلع ڈی آئی خان میں کپاس کے رقبہ کو بڑھانے کی گنجائش موجود ہے۔تاہمان علاقوں میں زرعی انفراسٹرکچر کی کمی، جغرافیائی لحاظ سے غیر یقینی صورتحال کے علاوہ پانی کی کمی بھی بنیادی رکاوٹ ہے۔
تاہم زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہم کپاس کے کیڑے مکوڑوں کے خلاف اسپرے کا استعمال رہنما اصولوں کے مطابق کریں تو ہم کا فی حد تک نقصان سے بچ سکتے ہیں۔ ہماری اوسط فی ایکڑ پیداوار جو کہ 800کلوگرام فی ایکڑ سے لے کر 900کلوگرام فی ایکڑ ہے اس کو ہم جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ڈبل یعنی 1600سے1800کلوگرام فی ایکڑ تک لے جا سکتے ہیں ۔صرف گلابی سنڈی کے حملہ سے ہمیں سالانہ 1.5سے 2.0ملین کپاس کی گانٹھوں کا نقصان ہوتا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق کپاس کی ایک لاکھ ملین گانٹھ میں اضافہ کا مطلب0.5فیصد جی ڈی پی میں اضافہ ہے اور ایک ملین کپاس کی گانٹھ کی قیمت تقریباایک ارب ڈالر بنتی ہے۔ کپاس کی بہتر اقسام کی موجودگی میںفی ایکڑ پیداوار بڑھانے کے لئے کاشتی عوامل ہی ایک ایسا ذریعہ ہیں جن کو بروئے کار لا کر پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایک اچھے کاشتکار کی پیداوار کے برابر ملک کے تمام کاشت کار پیداوار حاصل کرنا شروع کردیں توکوئی وجہ نہیں کہ ہم نہ صرف تمام ملکی ضروریات پورا کرنے کے باوجود ایکسپورٹ کرنے کے قابل ہو سکیں ۔ اس وقت کپاس کی کاشتکاری کے نئے اور جدید طریقہ کار کی اشد ضرورت ہے تاکہ ملکی پیداوار مطلوبہ ہدف کو چھو لے۔ 1983-84میں ملکی پیداوار 223کلو گرام روئی فی ہیکٹر تھی جو کہ 1991-92میں
734کلو گرام فی ہیکٹر ہوگئی جو آج بھی کم و بیش اسی سطح پر مستحکم ہے۔
پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی کے ادارے سنٹرل کاٹن ریسرچ انسٹیٹیوٹ ملتان کے زرعی سائنسدان اور دیگر کپاس کے ریسرچ کے ادارے کپاس کی فی ایکڑپیداوار میں اضافے کے لئے سر توڑ کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس سلسلہ میں مندرجہ ذیل امور پر تحقیقی کام جاری ہے۔ زمین کی صحت ، کھادوں کا مناسب استعمال، کم سے کم پانی سے زیادہ سے زیادہ پیداواری صلاحیت ، جڑی بوٹیوں کا انسداد، پودوں کی فی ایکڑ تعداد میں اضافہ، کپاس کی نئی اقسام کی دریافت جو مستقبل کے چیلنجوں جیسا کہ پانی کی کمی ، زیادہ درجہ حرارت ، کیڑوں کا حملہ اور وائرس کا حملہ جیسے عوامل کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوںاور بائیو ٹیکنالوجی کے ذریعہ سے بھی ان تمام خصوصیات والی کپاس پیدا کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔جب ان تمام کاشتی عوامل کا بہتر اشتراک ہوگا تو لا محالہ فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہوگا اور اخراجات میں بھی کمی واقع ہوگی۔ امید ہے ان تمام شعبوں میں تحقیقی کام کے نتائج سے فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ
ہوگا اور یہ ادارہ ملک کی مستقبل میں کپاس کی ضروریات کو پورا کرنے میں ماضی کی طرح اہم کردار ادا کرتا رہے گا۔
797