قومی معیشت میں کپاس کا کرداریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتا ہے مگر بدقسمتی سے کپاس کی فصل اورکپاس کے کاشتکاروں کے ساتھ گزشتہ ایک دہائی سے کچھ زائد عرصہ میں بڑا ظلم ہوا ہے۔کچھ بااثر اورطاقتور خاندانوں نے ذاتی مفادات کی خاطرملک میں ٹھیک طریقے سے کپا س کی فصل کو چلنے ہی نہیں دیا اور اپنی طاقت کے بل بوتے پر کراپ زوننگ قوانین کوروندتے ہوئے کپاس کی جگہ دیگر فصلات مثلاً گنا ،مکئی اور چاول کو کپاس کے مرکزی علاقہ جات میں پروموٹ کیا۔ا سی مافیا کی وجہ سے کپا س کے رقبہ میں بتدریج کمی آنے سے ہماری کپاس کی پیداوار متاثر ہوئی۔ ماضی میںجب بھی کبھی حکومتی سطح پرکاٹن پالیسی کی تشکیل اور کپاس کے تحقیقاتی اداروں کی جدید طرز پراستوار کرنے کی بات ہوتی تو یہی مافیامختلف حیلے بہانوں سے کپاس کے تحقیقاتی اداروں اور کپاس کی کاٹن پالیسی پر عملدارآمد میں رکاوٹیں ڈال کر فائلوں کودبا دیتا اور یوں کاٹن کو سنجیدگی کے ساتھ فروغ نہ دینے سے ملکی معیشت کو مسلسل ناقابل برادشت نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔آج بھی ماضی کی بےشمار کاٹن پالیسیاں اور تحقیقاتی اداروں کی جدید طرز پر تنظیم نو کے بارے کئے گئے فیصلے فائلوں میں دبے ہوئے ہیں اور مسائل ہیں کہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے بھی شروع میں قومی ایمرجینسی زرعی پروگرام کا ایک بڑا اعلان کیا لیکن مافیا پھر آڑے آگیا او اس قومی ایمرجینسی پروگرام میں کاٹن کو شامل ہی نہیں کیا گیا ۔اس حکومتی فیصلے سے ملک کے نامور معاشی ماہرین ،ریسرچرز اور پالیسی بنانے والے قابل ترین افراد سکتے میں آگئے اور جب چاروں طرف سے کپاس کی معاشی اہمیت اور اس کے فروغ کے لئے اس فیصلے پر نظر ثانی کا مطالبہ سامنے آیا تو پھر جا کرحکومت نے ایک کاٹن ورکنگ گروپ تشکیل تو دیا مگر بدقسمتی سے اس ورکنگ کاٹن گروپ کے خاطر خواہ نتائج برآمد نہ ہوسکے ۔ اب جبکہ وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی میں سید فخر امام نے بطور وفاقی وزیر چارج سنبھال لیا ہے تو ان کے آنے سے حکومتی فیصلے کو ملک کے مختلف حلقوں کی جانب سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے اور امید کی جا رہی ہے کے وفاقی وزیر نیشنل فوڈ سیکیورٹی سید فخر امام زراعت کے شعبہ میں انقلابی اقدامات اٹھائیں گے خاص کر کپاس کی بحالی اور اس کے فروغ کے لئے ہر فورم پرآواز بلند کریں گے۔ گزشتہ دنوںوزیر موصوف کی طرف سے فوری طور پر ملک میں کپاس کی بحالی اور اسے منافع بخش پیداوار بنانے کے لئے مختلف کپاس کے اسٹیک ہولڈرز سے کاٹن پالیسی سال2020-21کے لئے مختلف تجاویز وسفارشات مانگی گئی ہیں اور یہ ایک بہترین اقدام ہے جس کو ہر فورم پر سراہا جا رہا ہے کپاس کے ایکسپرٹس، معاشی ماہرین، کاشتکار اور دیگر اسٹیک ہولڈرز و اہل علم طبقہ ملک میں کپاس کی بحالی اور اس کے فروغ کے لئے اٹھائے جانے والے وزیر موصوف کے اس فیصلے کو ملکی معیشت کے لئے مثبت اشارہ قرار دے رہے ہیں۔ اس سلسلے میں کاٹن ایئر 2020-21کے لئے
کچھ تجاویز قابل توجہ ہیں جب پر عمل کرکے کپاس کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔
جیسا کہ سبھی جانتے ہیں کپاس کی فصل اور کپاس کے تحقیقاتی اداروں کا آپس میں چولی دامن ساتھ ہے اس لئے دونوں کے مسائل کو سامنے رکھ کر کاٹن پالیسی کی تشکیل وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کس قدرافسوس اور بدقسمتی ہے کہ ملک کا سب سے بڑا کپاس کا تحقیقاتی ادارہ پاکستان سنٹرل کاٹن کمیٹی جس کے زرعی سائنسدانوں نے کپاس کے تحقیقی میدان میں بےشمارملکی سطح پر خدمات سرانجام دی ہیں اس وقت شدید مالی وانتظامی بحران کا شکار ہے۔کمال حیرت ہے دنیا میں کوئی بھی زرعی تحقیقاتی ادارہ چندے سے نہیں چلتامگر ہمارے ہاں پی سی سی سی کے مالی معاملات آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسو سی ایشن کے کپاس کی فی گانٹھ50 روپے کے چندے سے چلتے ہیں جسے کاٹن سیس کا نام دیا جاتا ہے مگر بدقستی سے گزشتہ2017سے تا حال کاٹن سیس کی ادائیگی بھی رکی ہوئی ہے جس کی کل مجموعی رقم تقریبا ً2ارب روپے بنتی ہے۔ مالی مشکلات کے سبب کپاس پر تحقیقی کام متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ زرعی سائنسدانوں کی تنخواہوں اور پینشنز کے مسائل کافی بڑھ گئے ہیں اور زرعی سائنسدانوں میں مایوسی اور بے یقینی پھیلتی جا رہی ہے۔ سالہا سال سے خالی پڑی سینکڑوں خالی آسامیوں اور کلیدی عہدوں پر مستقل آفیسران کی تعیناتی بہت ضرروی ہے۔کاٹن سیس کی کولیکشن کا ایک مضبوط اور جامع سسٹم متعارف ہونا چاہئیے تاکہ مستقبل میں کوئی مسئلہ پیدا ہی نہ ہو۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت دیگر اداروں کی طرح فی الفورپی سی سی سی کے کل ملازمین جو کہ تقریبا ً300 کے قریب ہیں ان کی تنخواہوں اور پینشنز کا ذمہ خود اٹھا لے تو یہ ایک بہترین عمل ہوگا اور اس کے علاوہ کپاس کی تحقیق و ترقی کے لئے فنڈز کا اجراءکرے تاکہ پی سی سی سی کے زرعی
سائنسدان دلجمعی کے ساتھ تحقیقی سرگرمیوں جا ری رکھ سکیں۔
اگر ہم کاشتکاروں کے مسائل کے حل کا ذکر کریں تو فوری طور پر کپاس کی فصل کو منافع بخش بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ اس وقت کپاس کی پیداوار میں کمی کی بڑی وجہ اس کا منافع بخش نہ ہونا ہے اور اس کی پیداواری لاگت میں کمی لانے کے لئے فوری عملی اقدامات اٹھانا ہوں گے۔ سب سے پہلے حکومت کی طرف سے کپاس کی امدادی قیمت کا تعین ہے جس کا اعلان کپاس کی بجائی سے پہلے کرنا بہت ضروری ہے اس کے لئے حکومت کپاس کی فی ایکڑ پیداوار کا کل اوسط خرچ اور پیداوارا کا تخمینہ سامنے رکھ کر فی ایکٹر کے حساب سے کچھ percentage کے اضافے کے ساتھ مقرر کر سکتی ہے مثال کے طور پر اگر کاشتکار کا فی ایکڑ خرچ80ہزار روپے آتا ہے اور اوسط پیداوار20من آتی ہے اور پھٹی کی قیمت4ہزار روپے من ہوتو تو اس کا15 فیصد ( کمی بیشی کی جا سکتی ہے ) اضافی رقم کے ساتھ جو تقریبا ً بحساب 4500روپے فی من پھٹی سپورٹ پرائس کا علان کیا جا سکتا ہے اس طرح کاشتکار کو کپاس کی فی ایکٹر پیداوار پر کم از کم15ہزار روپے منافع ملے گا۔ کاٹن گریڈنگ سسٹم بھی متعارف کرایا جا سکتا ہے اور ریشے کی لمبائی کے حساب سے پھٹی کی قیمت کا تعین بھی
کیاجاسکتا ہے۔ حکومت پھٹی کی خریداری کے لئے ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو فعال بناکر کسانوں کے مسائل کم کر سکتی ہے۔
بیج کی کوالٹی ایک بڑا اہم ایشو ہے اور اس کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھانا ہوں گے۔بیج کی کوالٹی کئی طرح سے متاثر ہوتی ہے مثلاً فصل پر گلابی سنڈی اور ڈسکی کاٹن بگ کا حملہ،غیر متوقع بارشیں اور درجہ حررات میں اضافہ،پھٹی کی چنائی میں تاخیر،اور چنی گئی پھٹی کی نامناسب اسٹوریج، پرانی جننگ مشینیں اور ان پر کام کرنے والی اناڑی لیبر اور بغیرگریڈکئے ہوئے بیج کی کاشت سے بیج کی کوالٹی پر منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ بیج کی کوالٹی کو بہتر بنانے کے لئے سیڈ سسٹم کی طرف خاص توجہ دینا ہوگی ۔ہمیں کپاس کی کاشت کے لئے ایسے علاقے منتخب کرنا ہوں گے جہاں کپاس کی فصل پر موسمیاتی تبدیلیوں کے کم سے کم اثرات مرتب ہوتے ہوں۔ اس کے لئے گزشہ 5سال کا موسمیاتی ڈیٹا نکال کر چیک کیا جا سکتا ہے کہ کس علاقے میں غیر متوقع بارشیں کم ہوئیں یا اس علاقہ میں درجہ حررات کپاس کی فصل کے لئے کس قدر مفید ثابت ہوا۔پھر منتخب شدہ علاقہ جات میں کپاس کی کاشت سے بیج کی کوالٹی کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ میرے خیال سے اس کے لئے فورٹ عباس،حاصل پور وغیرہ یا پھر چولستان کے علاقہ کو منتخب کیا جاسکتا ہے لیکن اس کا بہترین حل ماہرین ہی بتا سکتے ہیں۔
اسی طرح ہم کپاس کا زیرکاشت رقبہ بڑھانے کے لئے بلوچستان کے بعض اضلاع جن میں سبی،ناصرہ آباد قلات ڈویزن اور خیبر پختونخواہ میں ڈیرہ اسماعیل خاں میں کپاس کا رقبہ بڑھانے کی گنجائش موجود ہے اور یہ علاقہ جات کپاس کی فصل کے لئے آب وہوا و موسمی اعتبار سے نہایت موزوں ہیں کو
استعمال میں لاکر کپاس کی پیداوار میں اضافہ کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔
کیڑوں کے حملوں خاص کر گلابی سنڈی کے خلاف نئے جنیاتی بیجوں کی ٹیکنالوجی اپنانا ہوگی اور سفید مکھی سے بچاﺅ کے لئے بھی ایسی کپاس کی اقسام تیار کرنا ہوں گی جن پر کم سے کم وائرس کا حملہ ہو۔ اس کے لئے ایسی بین الاقوامی کمپنیاں جو جین مہیا کرتی ہیں ان سے معاملات طے کرکے ٹرپل جین ٹیکنالوجی کو اپنی مقامی کپاس کی اقسام کے ساتھ استعمال میں لاکر بہترین نتائج حاصل کئے جا سکتے ہیں ۔اسی طرح کھادوں کے کثیر استعمال کو روکنے ،جڑی بوٹیوں کے خاتمے
،زیادہ درجہ حرارت اور کم پانی میں کامیاب اقسام کی تیاری کے لئے ملٹی پل جینز کی ٹیکنالوجی اپنا کر کپاس کی پیداور میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے اس طرح
نہ صرف پیداواری لاگت میں کمی آئے گی بلکہ کپاس کی فصل کو منافع بخش بھی بنایا جا سکے گا جو کہ کاٹن پالیسی کا مرکزی حدف ہونا چاہئیے۔
جدید جننگ مشینوں کے استعمال اور ان پر کام کرنے والے عملہ کے لئے تربیتی پروگرامز کے ذریعے عملی تربیت کی فراہمی کافی اہم ہے۔ کپاس کے بیج کے ذخیرہ کرنے والے ویئر ہاﺅس کو جدید اور معیاری طرز پر بنانا ہوگا تاکہ بیج کی کوالٹی متاثر نہ ہو۔ہمیںکراپ پیٹرن کو سامنے رکھ کر شارٹ دورانیہ کی کپاس کی اقسام جو 4سے5ماہ میں اچھے نتائج دے سکیں تیار کرنا ہوں گی۔ اور مستقبل میں کپاس کی چنائی کے لئے لیبرز کی عدم دستیابی کے مسائل کے حل کے لئے فوری طور پر کپاس کی مشینی چنائی کی طرف آنا ہوگا اور اس کے لئے زرعی سائنسدان کپاس کی ایسی اقسام کی تیارکریں جو مشینی چنائی کے اعتبار سے موزوں اور مفید ہونے کے ساتھ زیادہ پیداور دے سکیں۔
کپاس کی موجودہ مینجمنٹ میں بھی تبدیلیاں لا کر فی ایکڑ پیداور میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہمیںپیسٹی سائیڈ کمپنیوں کو آن بورڈ لینا ہوگا ہمیں کیڑے مار زرعی زہروں کی نئی کیمسٹری کی طرف آنا ہوگا اور کپاس کے کاشتکاروں کی زرعی زہروں کے استعمال کے بارے فنی تربیت فراہم کرنے کے لئے پبلک و پرائیویٹ اداروں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اس کے علاوہ ہمیںکپاس کی اقسام کی منظوری کے سسٹم میںکچھ تبدیلیاں لانا پڑیں گی۔ نیشنل کوآرڈی نیٹد ورائٹل ٹرائلز میں لگی کپاس کی اقسام کے معائنے اور اس کو جدید سائنسی خطوط پر استوار کرنے کے لئے اس کے موجودہ میکانزم پر نظر ثانی کی ضرروت ہوگی۔ نیشنل کوآرڈی نیٹد ورائٹل ٹرائلز کے لئے منتخب کئے گئے فارمز کا معائنہ کرنے والی ایکسپرٹس ٹیم ٹرائل میں لگی کپاس کی اقسام کے منظوری کے عمل سے پہلے
سیزن میں کئی بار باقاعدگی سے معائنہ کرے اور مختلف پہلوﺅں سے ان اقسام کا ریکارڈ تیار کرکے اس کی منظوری کے طریقہ کار کو بہتر بنائے۔
موسمیاتی صورتحال کی بروقت آگاہی کے لئے محکمہ موسمیات کو جدید ٓلات سے لیس کرنا اور کیڑے مکوڑوں کے حملوں سے بچاﺅ کے لئے پیشگی اطلاعی ماڈلز پر کام کرنے کی ضرروت ہے۔ کاشتکاروں کی رہنمائی وتربیت کے لئے کپاس کی کاشت سے پہلے ،بجائی کے بعد سے لیکر اس کی چنائی اور آف سیزن مینجمنٹ میں مختلف ٹریننگ پروگرامز کا انعقاد، ٹیکنیکل ایڈوائزری کمیٹی کی سفارشات کی فراہمی ، کاشتکاروں کے لئے مفت موبائل پیغامات کے ذریعے کپاس کے
مسائل کا حل تلاش کرنا ، کپاس کی پیداواری ٹیکنالوجی سے متعلق کسانوں کو لٹریچر کی فراہمی اور دیگر ذرائع ابلاغ کا استعمال بہت ضرروی اقدامات ہیں۔